عمران خان کے مضبوط گڑھ پر وفاق کا کنٹرول، گورنر راج الٹا پڑنے کا خطرہ کیوں؟

عمران خان کی جماعت کے مضبوط سیاسی مرکز خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے پاکستان کی سیاست میں ایک نیا اور حساس بحران پیدا کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں امن و امان اور شدت پسندی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات ضروری تھے، لیکن ناقدین ان فیصلوں کو تحریک انصاف پر دباؤ بڑھانے اور اس کی سیاسی سرگرمیاں محدود کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک زور پکڑ رہی تھی، صوبائی حکومت کے اختیارات معطل کرنے، سڑکیں بند کرنے اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں نے سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کے ذریعے خیبر پختونخوا میں سیاسی مزاحمت کو محدود کیا جا سکے گا، یا یہ اقدام عوامی بے چینی، وفاق اور صوبے کے درمیان محاذ آرائی اور ملک میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے؟

عمران خان کی جماعت تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں 13 برس سے سیاسی طور پر مضبوط رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی کے لیے احتجاجی ریلیاں نکالیں، جن کی قیادت وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے تھے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے شدت پسندی کے خطرات کا حوالہ دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے صوبائی حکومت پر شدت پسندوں سے تعلقات کا الزام بھی لگایا، تاہم اس الزام کے حق میں فوری طور پر کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب تحریک انصاف ان اقدامات کو سیاسی دباؤ اور اپنی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، ان اقدامات کے وقت اور پس منظر نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ چیتھم ہاؤس سے وابستہ فرزانہ شیخ نے ایمرجنسی کے جواز پر تحفظات ظاہر کیے، جبکہ صحافی عارفہ نور کے مطابق یہ واضح نہیں کہ فیصلے کی بنیادی وجہ شدت پسندی تھی، احتجاجی مارچ یا صوبے میں مخالف جماعت کی حکومت۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ فیصلہ کسی سیاسی ایجنڈے کے تحت نہیں کیا گیا اور اس سے پہلے مذاکرات کی کوشش بھی کی گئی تھی۔

عمران خان کی مسلسل قید، ان کی صحت سے متعلق خدشات اور اہل خانہ و وکلا سے ملاقاتوں پر پابندیوں کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نے تحریک انصاف کے کارکنوں میں بے چینی بڑھائی ہے۔ اٹلانٹک کونسل کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کے مطابق، جماعت پر سخت دباؤ ڈالنے کی کوشش اس کے اندر موجود غصے اور بے اطمینانی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اس صورت حال میں حکومت کے لیے چیلنج صرف احتجاج روکنا نہیں بلکہ سیاسی تناؤ کو ایسے مرحلے تک پہنچنے سے بچانا بھی ہے جہاں مذاکرات کے امکانات محدود ہو جائیں۔

اس بحران کا ایک اہم پہلو فوج اور وفاقی حکومت کے اختیارات کا توازن بھی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ملک میں سیاسی فیصلوں پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کا اثر بڑھا ہے، تاہم اس بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ پاکستان کو بیک وقت دہشت گردی، افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازعات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں ایک بڑے صوبے میں انتظامی اور سیاسی بحران طویل ہونے سے وفاقی حکومت پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ گورنر راج اور سخت انتظامی اقدامات سے وقتی طور پر احتجاج محدود ہو سکتا ہے، لیکن سیاسی اختلافات کا مستقل حل صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں۔ اگر عوامی بے چینی بڑھی، مزاحمت میں شدت آئی یا ریاستی کارروائیوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا تو حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ مائیکل کوگل مین کے مطابق، یہ اقدام الٹا بھی پڑ سکتا ہے، کیونکہ پہلے سے موجود غصہ بڑھنے کی صورت میں حکومت کو ایک بڑے سیاسی اور انتظامی مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ منتخب حکومتوں کو ہٹانے یا ان کے اختیارات محدود کرنے کے فیصلے ہمیشہ متوقع نتائج نہیں دیتے۔ عارفہ نور کے مطابق، تحریک انصاف کو بھی یہ احساس ہو سکتا ہے کہ صرف احتجاج کے ذریعے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں، لیکن اس کے باوجود سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات کا راستہ محدود ہونا تشویش ناک ہے۔

بالآخر خیبر پختونخوا میں جاری بحران کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وفاقی حکومت سکیورٹی کے تقاضوں اور سیاسی حقوق کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہے۔ اگر فیصلوں کے لیے شفاف قانونی جواز، قابلِ تصدیق شواہد اور سیاسی مکالمے کو اہمیت دی گئی تو کشیدگی کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر سیاسی اختلافات کا جواب مسلسل انتظامی سختی سے دیا گیا تو عمران خان کے مضبوط گڑھ میں مزاحمت ختم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ یہی وہ خطرہ ہے جس کے بارے میں تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا پر گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کہیں وفاق کے لیے ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ بحران کا سبب نہ بن جائے۔

Back to top button