عمران خان کے دوسرے بہنوئی نے بھی بغاوت کر دی

حفیظ اللہ نیازی کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دوسرے بہنوئی احد خان نے بھی بغاوت کر دی، پی ٹی آئی کے خلاف جاری حکومتی کارروائیوں کو مکافات عمل گردانتے ہوئے اللہ تعالی کی مرضی قرار دے دیا۔ عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کے شوہر احد خان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہو رہا ہے اور ممکن ہے کہ یہ مکافاتِ عمل ہو۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران سامنے آنے والے اس مؤقف کو محض ایک خاندانی فرد کا تبصرہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس نے پاکستان کی سیاست کے ایک تلخ سوال کو پھر زندہ کر دیا ہے: کیا اقتدار میں رہ کر مخالفین کے لیے بنائے گئے سیاسی اور انتظامی طریقے بالآخر خود اپنے بنانے والوں کے خلاف بھی استعمال ہونے لگتے ہیں؟ عمران خان کے دورِ حکومت میں اپوزیشن کی گرفتاریاں، احتساب کے اداروں کا استعمال، سیاسی رہنماؤں کی تقاریر پر پابندیاں اور پارلیمانی حقوق کے تنازعات آج بھی سیاسی مکافاتِ عمل کی بحث میں اہم حوالہ بنے ہوئے ہیں۔
احد خان سے جب پوچھا گیا کہ کیا پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والے حالات اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہیں تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا اور یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ یہ مکافاتِ عمل ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے عمران خان کی جانب سے کسی صنعت کے قیام اور ان کے خاندان کے عہدے حاصل کرنے سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔ ان کے بیان کے مختلف پہلوؤں پر بحث اپنی جگہ، لیکن اصل معاملہ کسی ایک خاندان یا سیاسی جماعت تک محدود نہیں۔ پاکستان کی سیاست میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ اقتدار میں موجود جماعت نے مخالفین کے خلاف سخت اقدامات کیے اور اقتدار سے باہر آنے کے بعد خود انہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
عمران خان کے دورِ حکومت میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی متعدد اہم شخصیات، جن میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، آصف علی زرداری، فریال تالپور، شاہد خاقان عباسی اور رانا ثنا اللہ شامل تھے، مختلف مقدمات اور احتسابی کارروائیوں کی زد میں آئیں۔ مریم نواز کو اپنے والد سے ملاقات کے موقع پر گرفتار کیا گیا، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں اور طویل حراستوں پر بھی شدید سیاسی تنازع رہا۔ آج عمران خان خود جیل میں ہیں اور پی ٹی آئی کی متعدد سینئر شخصیات بھی مقدمات، سزاؤں یا طویل حراستوں کا سامنا کر چکی ہیں۔ یوں وہ سیاسی ماحول جسے کبھی مخالفین نے ریاستی دباؤ قرار دیا تھا، اب پی ٹی آئی کے لیے بھی ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔
احتساب کے اداروں کے استعمال کا معاملہ بھی اسی بحث کا حصہ ہے۔ عمران خان کے دور میں قومی احتساب بیورو کی کارروائیوں کو حکومت کے حامی احتساب کا عمل قرار دیتے تھے، جبکہ مخالفین اسے سیاسی انتقام کہتے تھے۔ اب عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بھی احتسابی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جنہیں پی ٹی آئی سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔ اسی طرح پروڈکشن آرڈرز، پارلیمانی نمائندگی اور سیاسی رہنماؤں کی میڈیا کوریج پر پابندیوں کے معاملات میں بھی دونوں ادوار کے رویوں پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ ماضی میں جن اقدامات کا دفاع کیا گیا، جب ویسی ہی صورت حال اپنے لیے پیدا ہوئی تو ان پر اعتراضات سامنے آنے لگے۔
میڈیا کی آزادی کے معاملے میں بھی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا طرزِ عمل تنقید سے محفوظ نہیں رہا۔ عمران خان کے دور میں نواز شریف، مریم نواز اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی تقاریر اور انٹرویوز نشر کرنے پر پابندیوں کی شکایات سامنے آتی رہیں۔ آج پی ٹی آئی اپنے رہنما عمران خان کے نام، تصویر اور مؤقف کی میڈیا میں محدود نمائندگی پر اعتراض کرتی ہے۔ اسی طرح خواتین سیاسی رہنماؤں اور اہلِ خانہ کی گرفتاریوں پر ماضی میں ہونے والے سیاسی ردعمل اور آج بشریٰ بی بی سمیت پی ٹی آئی سے وابستہ خواتین کو درپیش قانونی صورت حال کا تقابلی جائزہ بھی ضروری ہے۔ تاہم ہر مقدمے اور گرفتاری کی قانونی حیثیت الگ ہے، اس لیے تمام واقعات کو ایک ہی پیمانے سے جانچنے کے بجائے شفاف عدالتی عمل اور بنیادی حقوق کو معیار بنانا چاہیے۔
اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بھی اس سیاسی چکر کی نمایاں مثال ہیں۔ عمران خان اپنے دور میں فوج کے ساتھ ہم آہنگی کا کھل کر اظہار کرتے تھے، جبکہ مخالفین ان کی حکومت کو مقتدر حلقوں کی حمایت یافتہ قرار دیتے تھے۔ اس وقت پی ٹی آئی ان الزامات کو مسترد کرتی رہی، لیکن تعلقات خراب ہونے کے بعد اسی جماعت نے موجودہ حکمرانوں کو ’’سلیکٹڈ‘‘ اور ’’فارم 47‘‘ کی حکومت قرار دینا شروع کر دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اصولوں اور جمہوری اقدار کے بجائے اکثر سیاسی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے، اور ریاستی طاقت کے استعمال پر مؤقف بھی اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ بدل جاتا ہے۔
مکافاتِ عمل کا تصور اخلاقی اور مذہبی اعتبار سے انسان کو اپنے اعمال کے نتائج پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، لیکن سیاسی معاملات میں اسے کسی فرد یا جماعت کے خلاف حتمی فیصلہ قرار دینا مناسب نہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ کسی بھی حکومت کو مخالفین کے بنیادی حقوق، آزادیٔ اظہار، منصفانہ عدالتی کارروائی اور پارلیمانی نمائندگی کا احترام کرنا چاہیے۔ اگر اقتدار میں موجود جماعت ان اصولوں کو کمزور کرتی ہے تو مستقبل میں خود بھی انہی کمزوریوں کا شکار ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر سیاسی انتقام، گرفتاریوں، سنسرشپ اور ریاستی طاقت کے استعمال کی شکایات برقرار رہتی ہیں۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کے موجودہ حالات اس وسیع تر سیاسی تاریخ کا حصہ ہیں۔ حقیقی تبدیلی اسی وقت آئے گی جب کوئی بھی جماعت اقتدار میں ہو، وہ مخالفین کے لیے بھی وہی جمہوری حقوق تسلیم کرے جن کا مطالبہ وہ اپنے لیے کرتی ہے۔ ورنہ مکافاتِ عمل کا یہ سیاسی چکر چلتا رہے گا اور نقصان صرف کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ جمہوریت، اداروں اور پورے ملک کا ہوگا۔
