کاکروچ تحریک نے مودی سرکار کی چیخیں کیسے نکلوائیں؟

بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی طنزیہ سیاسی تحریک ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ ہزاروں افراد کی گرفتاریاں، رہنماؤں کو حراست میں لینا، احتجاجی مقامات پر پابندیاں اور پولیس کی سخت کارروائیاں اس تحریک کو دبانے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں، لیکن اس کے باوجود نوجوانوں کا غصہ کم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ انتخابی نظام کی شفافیت، بے روزگاری اور شہری آزادیوں سے متعلق سوالات نے اس احتجاج کو محض ایک طنزیہ مہم کے بجائے سیاسی بے چینی کی علامت بنا دیا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق مودی حکومت کو فوری طور پر اقتدار سے ہٹانا آسان نہیں، البتہ مسلسل عوامی مزاحمت حکمران جماعت کی مقبولیت اور آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کا نام ایک طنزیہ آن لائن تحریک سے سامنے آیا، جس کا پس منظر بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت سے منسوب وہ تبصرہ ہے جس میں بے روزگار نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ کہا گیا تھا۔ اس جملے نے نوجوانوں میں غم و غصے کو جنم دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ نام حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر طنز کی علامت بن گیا۔ حالیہ احتجاج میں مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور الزام لگا رہے ہیں کہ ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے گئے، جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ جانچ اور انتخابی اداروں کی ساکھ اس تنازعے کے اہم پہلو ہیں۔

10 اکتوبر کو نئی دہلی میں ہونے والے احتجاج کے دوران تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے اور دیگر رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شہر بھر میں کم از کم 3,000 افراد کو گرفتار یا حراست میں رکھا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری، نقل و حرکت میں رکاوٹوں اور احتجاجی اجتماعات کو محدود کرنے کے اقدامات نے شہری آزادیوں اور پرامن احتجاج کے حق پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔ تجزیہ کار پرل پانڈیا کے مطابق حکومت نے گزشتہ مظاہروں کے تجربات سے سیکھتے ہوئے اس بار مظاہرین کو ایک جگہ جمع ہونے اور تحریک کو وسیع ہونے سے روکنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ دوسری جانب مصنف نیلنجن مکھوپادھیائے کے خیال میں ایک نئی تحریک سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات خود حکومت کی کمزوری اور عوامی بے چینی کا اشارہ بھی ہو سکتے ہیں۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نریندر مودی تقریباً 25 برس سے ریاستی اور قومی سطح پر اقتدار کی سیاست کا اہم حصہ ہیں۔ تاہم طویل سیاسی اقتدار کے باوجود بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے واقعات اور انتخابی اداروں پر اٹھنے والے سوالات نوجوانوں میں مایوسی پیدا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بھارت کے مضبوط ریاستی اداروں اور اپوزیشن کی موجودہ حکمت عملی کے باعث فوری طور پر حکومت کے خاتمے کا امکان محدود ہے۔ لیکن اگر احتجاج کا دائرہ بڑھا اور مختلف سماجی و سیاسی حلقے اس میں شامل ہوئے تو حکمران جماعت کو آئندہ انتخابات، خصوصاً 2029 کے عام انتخابات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تحریک کا سب سے اہم پہلو انتخابی نظام پر عوامی اعتماد ہے۔ اگر شہریوں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کے ووٹ کی اہمیت کم کی جا رہی ہے یا انتخابی ادارے غیر جانب دار نہیں رہے تو سیاسی نظام کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر حکومت احتجاج کے جواب میں مسلسل گرفتاریاں اور پابندیاں عائد کرتی ہے تو وقتی طور پر مظاہروں کو محدود کرنا ممکن ہے، لیکن عوامی ناراضی ختم ہونا ضروری نہیں۔ دوسری جانب تحریک کے لیے بھی محض سوشل میڈیا کی مقبولیت کافی نہیں؛ اسے منظم قیادت، واضح مطالبات اور وسیع عوامی حمایت درکار ہوگی تاکہ احتجاج دیرپا سیاسی اثر پیدا کر سکے۔

بالآخر کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک مودی حکومت کے فوری خاتمے سے زیادہ بھارت میں نوجوانوں کی بڑھتی بے چینی، شہری آزادیوں اور انتخابی شفافیت کے بارے میں خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ احتجاج ابھی کسی بڑے سیاسی انقلاب کی ضمانت نہیں، لیکن اسے معمولی یا عارضی سرگرمی سمجھ کر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ اگر نوجوانوں کے سوالات کا جواب شفاف تحقیقات، روزگار کے بہتر مواقع اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ سے نہ دیا گیا تو یہی تحریک مستقبل میں مودی حکومت کے لیے زیادہ سنجیدہ سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔

Back to top button