ایک ارب قرض کی خاطر حکومت نے 377 ارب کے ٹیکس لگائے

پاکستان کو آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط پر قرض ملنے کے باعث مہنگائی کا نیا طوفان آنے کے بعد مبصرین ملک کے معاشی مسائل کے حل کے لیے دیگر نان ایشوز میں الجھنے کی بجائے امریکہ کے متبادل نئے دوست تلاش کرنے، بالخصوص روس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
سینیئر صحافی نصرت جاوید اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف نے امریکہ کے کہنے پر پاکستان کو قرضہ دیتے وقت جو زیادتی کی ہے اس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ فقط ایک ارب ڈالر کی قسط حاصل کرنے کے لئے حکومت کو 377 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے پر مجبور کیا گیا۔
ماضی میں اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر ہم پر ڈالر لٹانے والا امریکہ افغانستان میں اپنی عبرتناک شکست کے بعد ہم سے نالاں ہے، اسی لئے امریکہ نے آئی ایم ایف کو خاموشی سے پیغام دیا کہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے سے قبل حکومت کو عوام پر مزید ٹیکس لگانے پر مجبور کیا جائے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے ایک ٹی وی انٹرویو میں آئی ایم ایف کے سخت گیر رویے کا ازخود شکوہ کیا ہے۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں ہرگز اندر کی کوئی بات عیاں نہیں کررہا۔ نہ ہی کوئی سازشی کہانی بیان کر رہا ہوں۔
فقط وہ حقیقت دہرارہا ہوں جو شوکت ترین نے بیان کی ہے۔ قصہ مختصر، دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے امریکہ کا ان دنوں پاکستان کے ساتھ رویہ مخاصمانہ ہو چکا ہے۔ ہمیں اب متبادل دوستوں کی تلاش ہے۔ اس ضمن میں فقط چین کا سہارا ہی کافی نہیں۔ برادر ملک سعودی عرب بھی گزشتہ چند مہینوں سے ماضی والی فیاضی نہیں دکھا رہا۔ یو کرین کی سرحد پر جارحانہ انداز میں اپنی افواج تعینات کرتے ہوئے روسی صدر پوٹن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ان کی اوقات میں رکھنا چاہ رہا ہے۔
بقول نصرت جاوید وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں روسی صدر پیوٹن خو فون کال کر کے سفارت کارانہ مہارت دکھائی ہے۔ تیل اور گیس کے ذخائر کے اعتبار سے روس خیرہ کن حد تک مالا مال ہے۔ عالمی منڈی میں ان کی فروخت کے ذریعے روس کے قومی خزانے میں اربوں ڈالر وافر تعداد میں جمع ہو رہے ہیں۔ امریکہ کو نظرانداز کرتے ہوئے عمران خان روس کے ساتھ چین جیسی گہری دوستی استوار کرنے میں اگر کامیاب ہو گئے تو طویل المدت تناظر میں ہمارے تیل اور گیس سے جڑے مسائل کا مؤثر ترین حل میسر ہو سکتا ہے۔ روس، چین اور پاکستان بلکہ ایک ”اتحاد ثلاثہ“ بھی کھڑا کر سکتے ہیں جو امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو ہمارے ساتھ اپنا مخاصمانہ رویہ تبدیل کرنے کو مجبور کردے۔ یوٹیوب پر چھائے ذہن ساز مگر ان امکانات کی جانب توجہ ہی نہیں دے رہے۔
کپتان دور میں پاکستان میں کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت سب سے غور طلب یہ حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف سے فقط ایک ارب ڈالر کی قسط حاصل کرنے کے لئے ہماری حکومت کو 377 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانا پڑے ہیں۔ بجلی، گیس اور پیٹرول کے نرخ بھی آئی ایم ایف کے اصرار پر مسلسل بڑھانا ہوں گے۔ اس کے علاوہ سٹیٹ بینک کی ”کامل خودمختاری“ بھی یقینی بنانا ہو گی۔ اس کے گورنر اور معاونین کی جانب سے لئے ہر فیصلے کو ”نیک نیتی“ پر مبنی تصور کیا جائے گا۔ نیب اور ایف آئی اے جیسے ادارے انہیں کسی فیصلے کی وضاحت کے لئے طلب نہیں کرسکیں گے اور یہ قانون اس ملک میں متعارف کروایا جا رہا ہے جس کا 1973 کے آئین کے تحت منتخب ہوا پہلا وزیر اعظم اپریل 1979 میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔
اس کے بعد آنے والے کسی بھی وزیر اعظم کو پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ اقتدار کے دوران اور اس سے فراغت کے بعد وہ نیب کے عقوبت خانوں میں مہینوں گزارتے رہے۔ ان دنوں عدالتوں کے روبرو پیش ہو کر اپنی صفائیاں دے رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ سابق وزرائے اعظم کے سیاسی اور سرکاری مصاحبوں کی ایک کثیر تعداد بھی مبینہ طور پر اپنی نظر آنے والی آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنے کے الزام میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔ گورنر سٹیٹ بینک اور ان کے معاونین کو مگر ایسی ذلت سے بچانے کا پیشگی بندوبست کر لیا گیا ہے۔
نصرت کہتے ہیں کہ ایک ہی ملک میں واضح طور پر دو مختلف قوانین لاگو ہوئے نظر آرہے ہیں جو حکمران اشرافیہ کو بھی برہمن اور شودر میں تقسیم کر رہے ہیں۔ نصرت کہتے ہیں کہ معاشی معاملات سے بے خبر رہنا میرے جیسے محدود اور کم آمدنی والوں کے لئے ممکن ہی نہیں۔ ہمیں روزانہ کی بناد پر بازار جاکر اپنی روزمرہ زندگی برقرار رکھنے کے لئے لازمی اشیاء خریدنا ہوتی ہیں۔ مہنگائی کی شرح ماپنے کے لئے میرے اورآپ کی ذاتی زندگی سے بڑا پیمانہ موجود ہی نہیں۔ ہمیں حقیقی مسائل سے غافل رکھنے کے لئے مگر ”طوطا حلال ہے یا حرام“ جیسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایسے سوالات سوشل میڈیا خاص طور پر یوٹیوب چینلوں پر مسلط کیے ذہن سازوں کی فراست کے سہارے اٹھوائے جا رہے ہیں۔ انہیں نظرانداز کرنے کے بجائے میرے کئی معتبر ساتھی انتہائی سنجیدگی سے طوطے کو حلال یا حرام ثابت کرنے کی بحث میں الجھ جاتے ہیں حالانکہ ملک کو اس قدر سنگین معاشی مسائل درپیش ہیں کہ ”ذہن سازوں“ کے بچھائے جال سے اجتناب برتنے کی ضرورت ہے۔
