گلگت کا انتخابی معرکہ، الیکشن سے پہلے دھاندلی کے الزامات کیوں؟

گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے انتخابات صرف 24 نشستوں کے حصول کی جنگ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی قومی سیاست، انتخابی شفافیت اور مستقبل کی سیاسی صف بندی کا ایک اہم امتحان بن چکے ہیں۔ اس انتخابی معرکے میں جہاں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور استحکام پاکستان پارٹی بھرپور انداز میں میدان میں ہیں، وہیں پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر غیر معمولی حالات میں انتخابی میدان میں اتر رہی ہے۔

پی ٹی آئی کو بطور جماعت انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ملی، جس کے باعث اس کے حمایت یافتہ امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ یہی صورتحال 2024 کے عام انتخابات میں بھی دیکھی گئی تھی۔ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ انہیں انتخابی مہم چلانے، امیدواروں کو منظم کرنے اور ووٹرز تک رسائی حاصل کرنے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ ان کے کئی مرکزی رہنماؤں کو گلگت بلتستان میں داخل ہونے سے روکا گیا جبکہ بعض کو وہاں پہنچنے کے بعد علاقہ بدر کر دیا گیا۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن اور حکومتی نمائندے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کیلئے یکساں قواعد و ضوابط نافذ ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انتخابی عمل پر تحفظات صرف پی ٹی آئی تک محدود نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھی ووٹر لسٹوں میں مبینہ تبدیلیوں، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں اور پنجاب پولیس کی تعیناتی پر سوالات اٹھا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد بعض ترقیاتی اعلانات انتخابی قواعد کے منافی ہیں۔اس تمام سیاسی شور شرابے کے درمیان اصل سوال یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کیا چاہتے ہیں؟

مبصرین کے مطابق نوجوان ووٹرز اور مقامی آبادی کی گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ عوام کی اولین ترجیحات روزگار، بنیادی انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور صاف پانی کی فراہمی ہیں۔ گزشتہ کئی انتخابات میں ترقی کے وعدے تو کیے گئے لیکن زمینی سطح پر عوام اب بھی بنیادی سہولیات کی کمی کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس انتخاب میں ایک اور اہم عنصر آزاد امیدوار ہیں۔ تقریباً 300 امیدوار آزاد حیثیت میں میدان میں ہیں، جن میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار بھی شامل ہیں۔ یہی آزاد امیدوار انتخابات کے بعد حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) وفاقی حکومت کی جماعت ہونے کے باعث ترقیاتی منصوبوں اور وفاقی وسائل کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنا رہی ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی ماضی کی نسبت زیادہ منظم انداز میں انتخابی مہم چلا رہی ہے اور دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے دعوے کر رہی ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی اپنی روایتی حکمت عملی کے تحت نوجوانوں، سوشل میڈیا اور گھر گھر رابطہ مہم پر انحصار کر رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ انتخابات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ماضی میں گلگت بلتستان کی حکومتیں اکثر وفاق میں برسر اقتدار جماعتوں کے زیر اثر بنتی رہی ہیں۔ تاہم موجودہ سیاسی حالات، آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد اور انتخابی تنازعات اس روایت کو چیلنج بھی کر سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اب محض سیاسی نعروں سے زیادہ عملی نتائج چاہتے ہیں۔ جو جماعت یا اتحاد عوام کو بہتر حکمرانی، روزگار، انفراسٹرکچر اور ترقی کا قابلِ اعتماد منصوبہ دے سکے گا، کامیابی کے امکانات اسی کے زیادہ ہوں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول 7 جون کا انتخاب صرف نشستوں کا مقابلہ نہیں بلکہ یہ اس بات کا بھی امتحان ہوگا کہ گلگت بلتستان کے ووٹر روایتی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں یا نئی سیاسی حقیقتوں کو جنم دیتے ہیں۔ یہی فیصلہ آنے والے برسوں میں نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ قومی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

Back to top button