کیا اپوزیشن پر حکومت کی سہولت کاری کا الزام سچ ہے

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی کی جانب سے استعفی دینے کے باوجود ان پر اور دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں پر مسلسل حکومت کی سہولت کاری کا الزام لگایا جا رہا یے۔ یوسف رضا گیلانی کی جانب سے خود پر لگا الزام دھونے کے لئے استعفی دینے کے باوجود یکم فروری کے روز وزیر خارجہ شاہ محمود اسمبلی نے سینیٹ میں انہیں بکاو مال قرار دے دیا اور الزام لگایا کہ انکا استعفی صرف ایک دکھاوا ہے اور وہ اپنے عہدے سے چمٹے رہیں گے۔
سنیئر صحافی نصرت جاوید اپنے تازہ سیاسی تجزیئے میں کہتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی سے التجا فقط اتنی ہے کہ 28 جنوری کے روز ہوئے سینٹ کے اجلاس سے اپنی عدم موجودگی کے دفاع میں بدتر از گناہ والے بہانے نہ تراشیں۔ دل بڑا کریں، کھل کر اعتراف کریں کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف ہوتے ہوئے بھی ان کا اس قانون کی منظوری کو روکنے کا ارادہ ہی نہیں تھا جس کے ذریعے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور دیگر افسروں کو سات خون معاف کرنے والی والی خود مختاری فراہم کر دی گئی ہے۔
انکا کہنا یے کہ اپوزیشن کی نشستوں سے گیلانی سمیت آٹھ لوگ غائب نہ ہوتے تو حکومت اتنی سرعت و رعونت سے قانون سازی کرنے میں کبھی کامیاب نہ ہو پاتی۔ بقول نصرت، اپنی مضحکہ خیز شکست کے جواز میں اپوزیشن بہانہ تراش رہی ہے کہ 27 جنوری کی رات اگلے روز طلب کیے اجلاس کے ایجنڈے میں سٹیٹ بینک والا قانون اچانک شامل کر دیا گیا۔ اسلام آباد سے کہیں دور شہروں میں بیٹھے اپوزیشن والے اس روز ایوان بالا پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ ان کی عدم دستیابی کا حکومت نے مکاری سے فائدہ اٹھا لیا لیکن اچانک والا بہانہ ہر حوالے سے بچگانہ اور بے بنیاد ہے۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ سینٹ کے رواں اجلاس کا بنیادی مقصد ہی سٹیٹ بینک والے قانون کو منظور کروانا تھا۔ اس کے علاوہ کسی اور قانون کو حکومت فی الفور منظور کروانا نہیں چاہ رہی۔
اب یہ بات یقینی ہے کہ منی بجٹ وطن عزیز میں مہنگائی کو شدید تر بنائے گا۔ اس جان لیوا امکان کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپوزیشن رہ نماؤں نے بڑھکیں لگانا شروع کردی تھیں کہ عوام کے غم خوار نمائندہ ہوتے ہوئے تحریک انصاف کے 20 سے زیادہ اراکین بھی ان کے ساتھ ہیں اور منی بجٹ کی حمایت میں ووٹ ڈالنا نہیں چاہ رہے۔
یہ بھی کہا گیا کہ حکومتی اراکین بغاوت کے اظہار کے لئے حزب اختلاف سے رابطے کر رہے ہیں۔ تاہم دو ہفتے پہلے جب منی بجٹ قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش ہوا تو حکومتی صفوں میں سے ایک رکن بھی اسکی مخالفت میں ووٹ ڈالنے کی جرات نہ دکھا پایا۔ فدویانہ ماحول کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت نے بلکہ ایک ہی نشست میں منی بجٹ کے علاوہ 15 مزید قوانین بھی منظور کروالئے مگر اپوزیشن اب کے مار والی خود اذیتی پر ڈٹی رہی۔
حکومت کا نواز شریف کو واپس لانا مزید مشکل کیوں ہو گیا؟
نصرت جاوید یاد دلواتے ہیں کہ بظاہر 100 اراکین پر مشتمل ایوان بالا میں 57 سینیٹر اپوزیشن کی نشستوں پر براجمان ہیں اور یوسف رضا گیلانی ان کے قائد ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نظر آنے والے یہ نمبر مگر حقیقتاً دو نمبر ہیں۔ جو 57 اراکین ان دنوں سینٹ میں اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھے نظر آرہے ہیں ان میں سے 6 کا تعلق نام نہاد دلاور خان گروپ سے ہے۔ دلاور خان مسلم لیگ ن کی مدد سے سینٹ میں وارد ہوئے تھے مگر بعد ازاں اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ میں مصروف ہو گئے۔
گزشتہ مارچ میں انہوں نے سینٹ چیئرمین کو ایک چٹھی لکھ کر مطلع کیا کہ وہ اور ان کے پانچ ساتھی حکومتی بنچوں پر نہیں بلکہ اپوزیشن میں بیٹھنا چاہ رہے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کو انہوں نے اپنا قائد بھی تسلیم کیا۔ دلاور خان گروپ کی حمایت کے بعد یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب اختلاف کا منصب حاصل کرنے کے لئے مسلم لیگ ن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت درکار نہ رہی۔ دلاور خان کی قیادت میں جو گروپ ان کے ساتھ اپوزیشن نشستوں پر بیٹھا ہے اس کے اراکین نے چند ہفتے قبل پارلیمان کے اس مشترکہ اجلاس میں بھی کھل کر حکومت کا ساتھ دیا جہاں ایک ہی روز 33 قوانین منظور ہوئے تھے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ بطور قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی کا یہ سیاسی اور اخلاقی فرض تھا کہ وہ باقاعدہ چٹھی لکھ کر دلاور خان اور ان کے ہم نواؤں سے استفسار کرتے کہ سینٹ میں اپوزیشن نشستوں پر بیٹھے ہوئے بھی انہوں نے حکومت کی حمایت میں ووٹ کیوں ڈالا۔ ان کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ آنے کی صورت میں چیئرمین صادق سجرانی سے باقاعدہ درخواست ہونا چاہیے تھی کہ دلاور خان اور انکے ساتھیوں کو اپوزیشن اراکین تصور نہ کیا جائے۔ وہ اپنے لئے آزاد نوعیت کا نام اختیار کریں اور اپوزیشن سے الگ نشستوں پر براجمان ہوں۔ گیلانی نے اس ضمن میں بھی کوئی قدم اٹھانے سے گریز کیا۔
گیلانی پارلیمان میں نووارد نہیں۔ 1985 سے وہ پارلیمنٹ میں ہیں۔ اپنے ٹھوس اور طویل تجربہ کی بنیاد پر ا نہیں اچانک والا عذر پیش کرنے سے قبل سو بار سوچنا چاہیے تھا۔ یاد رہے کہ یوسف رضا گیلانی خود پر لگنے والے الزامات کے بعد گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کی خاطر اپنا استعفی بلاول بھٹو کو بھجوا چکے ہیں حالانکہ اصولا انہیں یہ استعفی چیئرمین سینیٹ کو بھجوانا تھا اور اسی لیے شاہ محمود قریشی نے ان کے استعفے کو ایک ڈرامہ قرار دیا ہے۔
