حکومت کا نواز شریف کو واپس لانا مزید مشکل کیوں ہو گیا؟

نواز شریف کی صحت کے حوالے سے ن لیگ کی جانب سے جمع کروائی گئی تازہ رپورٹس سے لگتا ہے کہ انہیں وطن واپس لانے کا حکومتی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔ حکومت پاکستان کے ایما پر اٹارنی جنرل کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو لندن میں علاج کی غرض سے مقیم اپنے بڑے بھائی نواز شریف کا گارنٹر ہونے کے ناطے ان کی میڈیکل رپورٹس طلب کئے جانے کے بعد ن لیگ کی طرف سے جمع کروائی گئی تین صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 اور دل کے عارضے کے پیش نظر برطانوی ڈاکٹرز نے انہیں سفر سے منع کیا ہے لہذا وہ فوری وطن واپس آنے کا رسک نہیں لے سکتے۔ اس پیشرفت کے بعد عمران خان کی نواز شریف کو واپس لا کر جیل میں ڈالنے کی خواہش پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
یاد رہے کہ نواز شریف نومبر 2019 سے برطانیہ میں ہیں، جب جنوری 2020 میں ان کے طبی ٹیسٹس ہورہے تھے تو ڈاکٹروں نے جائزہ لیا تھا کہ کیا انہیں دل کے آپریشن، بائی پاس یا اسٹنٹ کی ضرورت ہوگی۔ تاہم ان کے ہیماٹو لوجیکل مسائل کی وجہ سے خاندانی ذرائع نے کہا تھا کہ انہوں نے نواز شریف کی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے امریکا جانے کا سوچا تھا۔
شریف فیملی کا دعویٰ ہےکہ نواز شریف کو دل اور خون کے متعدد مسائل ہیں۔ واضح رہے کہ سابق وزیراعظم کے ماضی میں 2 مرتبہ یعنی 2010 اور 2016 میں دل کے آپریشنز ہوئے اور 2019 میں تھرومبو کائیٹو پینیا سے گزرے جب انہیں حکومت نے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ اس کے بعد انہیں دل کے تیسرے آپریشن کی تجویز دی گئی تھی اور بظاہر لگتا ہے کہ اس آپریشن کے بغیر سابق وزیراعظم کے پاکستان آنے کا امکان نہیں۔
شریف خاندان کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس طریقہ کار کے لیے تجربہ کار سرجنز کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر ان پیچیدگیوں کے پیش نظر جو انہیں گزشتہ طبی پروسیجرز میں ہوئیں لہذا اس بات کا امکان نہیں کہ ان کا علاج پاکستان میں کروایا جائے گا۔ دوسرا مسئلہ انکے پاکستانی پاسپورٹ کا ہے جس کی معیاد ختم ہو گئی ہے اور انکے برطانیہ سے باہر سفر میں رکاوٹ ہے۔
یاد رہے کہ حکومت پنجاب نے نواز شریف کے ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس کی جانب سے جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لینے اور مریض کی صحت سے متعلق طبی رائے دینے اور پاکستان واپسی کی صورتحال دیکھنے کے لیے حال ہی میں ایک 9 رکنی خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔ تاہم، بورڈ کے ارکان نے کہا تھا کہ وہ نواز شریف کی موجودہ طبی تشخیص، خون کی رپورٹس، امیجنگ کے نتائج اور طریقہ کار کی تفصیلات کے بغیر ان کی حالت یا سفر کرنے کی صلاحیت کے بارے میں کوئی منظم رائے نہیں دے سکتے۔
چالان کرنے پر کیپٹن کے ہاتھوں موٹروے پولیس کی دھلائی
اگست 2021 میں ڈاکٹر لارنس نے تین صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ لکھی جس میں کہا گیا تھا کہ ‘نومبر 2019 میں ان کو علاج کے لیے ریفر کیا گیا کیونکہ ان کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ بیماری اور اس سے منسلک پیچیدگیوں کے علاج کے لیے مخصوص مہارت، ٹیکنالوجی اور تکنیکیں دستیاب نہیں تھی۔لیکن دوسری جانب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹیں میڈیکل بورڈ کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔ ادھر فواد چوہدری نے نواز شریف کی تمام میڈیکل رپورٹس کو جعلی قرار دیا ہے۔
تاہم لیگی ذرائع کا دعوی ہے کہ سابق وزیراعظم کو دل کے آپریشن کا مشورہ دیا گیا تھا جو خطرے سے خالی نہیں ہے، اس مسئلے کو کووڈ 19 نے مزید پیچیدہ کردیا جس کی وجہ سے برطانیہ میں کئی سرجریوں کو ملتوی کردیا گیا ہے۔ لیکن وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق نواز شریف کے پاس علاج کے لیے کافی وقت ہے چاہے کووڈ ہو یا نہیں، اگر وہ دو سال تک صرف دواؤں پر زندہ رہ لیے تو ان کی حالت سنبھلی ہوئی ہے اور پاکستان واپس آ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یاسمین اس سارے عمل کا ایک اہم حصہ رہی ہیں جس کے بعد نواز شریف کو علاج کے لیے باہر بھیجا گیا تھا۔
تب انہوں نے بھی تصدیق کی تھی کہ نواز شریف کی زندگی خطرے میں ہے اور انہیں فوری طور پر بیرون ملک بھجوانا اشد ضروری ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بتاتی ہیں کہ کارڈیک کیتھیٹرائزیشن کے جس عمل سے نواز شریف کو گزرنا ہے، وہ پاکستان میں بھی کیا جا سکتا تھا لیکن انکے ڈاکٹرز نے اصرار کیا کہ وہ برطانیہ میں کرانے کو ترجیح دیں گے جہاں پہلے ہی دو بار ان کا آپریشن ہو چکا ہے۔
ان حالات میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کپتان حکومت کی جانب سے علاج کی غرض سے لندن مقیم نواز شریف کے بھائی شہباز کے خلاف قانونی دباؤ بڑھا کر ان کی حالت سے متعلق اپڈیٹ حاصل کرنے کی تازہ کوشش شاید اتنی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو جتنی امید کی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ ن اور شریف خاندان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے جس قسم کی تفصیلی میڈیکل رپورٹس مانگی ہیں وہ شاید دستیاب نہ ہوں کیونکہ سابق وزیر اعظم کو ابھی تک کسی ایسے طریقہ کار سے گزرنا باقی ہے جو انہیں ڈاکٹروں نے تجویز کیا تھا۔
