حکومت کا نان فائلرز کیٹیگری ختم کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ٹیکس قوانین سے نان فائلرز کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، حکومت نے وجودہ فائلرز اور نان کمپلائنٹ شہریوں سےمزید ریونیو حاصل کرنے کےلیےبڑے صنعت کاروں کی حمایت حاصل کرلی ہے۔

انکم ٹیکس ریٹرنز ڈیٹا کو دیکھتےہوئے ایف بی آر نے انکشاف کیا ہےکہ پاکستان کی درمیانی آمدنی والےگروپ کے ٹیکس دہندگان کا 94 فیصد تعمیل کررہا ہے جب کہ امیر ترین ایک فیصد پاکستانیوں کےدرمیان تعمیل کی شرح 29 فیصد ہے۔ حکومت سمجھتی ہےکہ ٹیکس ریٹرنز فائلرز کےگرد مزید گھیرا تنگ کرنےکی ضرورت ہے۔

ملک کی بڑےصنعت کاروں،کارپوریٹ سیکٹر کےنمائندوں اور تیزی سےحرکت کرنے والی کنزیومر گڈز کمپنیوں نے حکومت کےنئے ٹیکس پلان کی حمایت کردی ہے۔ اس پلان میں فائلرز کو مکمل طور پر قابو میں لانےاور نان فائلرز کو سزا دین کو شامل کیاگیا ہے۔ صنعت کاروں اور بزنس مینوں کےساتھ ملاقات میں چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے شرکا کو بتایاکہ اب حکومت نان فائلرز کی کیٹگری ختم کرنےجارہی ہے اس سےمخصوص حد سے زیادہ کیش نکلوانے کےلیے چیک کا استعمال روک دیاجائےگا۔

لیکن اب حکومت ٹیکس قوانین سے نان فائلرز اوربعد میں فائلرز کی تعریفیں ختم کردےگی اور انکم ٹیکس آرڈیننس سےشیڈول 10 کو بھی ختم کردے گی۔ یہ شیڈول نان فائلرز کےلیے کئی ٹرانزیکشنز میں ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح دو گنا کردیتا ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نےکہا ایف بی آر نےاپنے پاس دستیاب ڈیٹا مائنز کا استعمال نہیں کیااس لیےاب وہ نئےپلان کی طرف بڑھ رہی ہے۔چیئرمین ایف بی آر نےکہاکہ بتدریج نان فائلرز کی 15 قسم کی ٹرانزیکشنز پر پابندی لگائی جائےگی،ان میں غیر مذہبی مقاصد کا سفربھی شامل ہوگا۔چیک کےذریعے کیش نکالنےکی حد بھی 3 کروڑ روپے سالانہ کرنےکی تجویز دی گئی ہے۔انہوں نےکہا کہ چیک کےذریعے کیش نکالنےپر دباؤ بڑھانے کےلیے اسٹیٹ بینک کےذریعے بینکوں کو معلومات شیئر کی جائے گی۔حکومت جلد وہ جائیدادیں خریدنا شروع کردے گی جن کی لاگت ٹیکس ریٹرنز میں مارکیٹ ریٹ سےکم ظاہر کی گئی ہے۔انہوں نےکہا کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کےدور میں یہ شق متعارف کرائی گئی تھی لیکن اس پر عمل نہیں ہوسکا،لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کےلیے مسلم لیگ ن کی سابق حکومت میں نان فائلرز کی کیٹگری متعارف کرائی گئی تاہم لوگوں نے فائلر بننےکے بجائےزیادہ ٹیکس دینےکو ترجیح دی۔

چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نےکہا کہ گزشتہ سال 1.33 ٹریلین روپے ودہولڈنگ ٹیکس کی ادائیگیاں ہوئیں۔ 423ارب روپےکا دعوی ان کی جانب سےنہیں کیاگیا جو نان فائلر تھے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت تصوراتی فائلرز بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ ہےجتنا نان فائلرز کا مسئلہ ہے۔ان دونوں مسئلوں کو حل کیےبغیر پاکستان کے ٹیکس کےمسائل حل نہیں ہوں گے۔ 6 لاکھ 70 ہزار افراد پرمشتمل ایک فیصد امیر ترین افراد میں سےصرف 2لاکھ 30ہزار افراد نےاپنے ریٹرنز جمع کرائےاور اپنی درست انکم ظاہر کی۔

انفرادی کیٹگری میں 1.32 ٹریلین روپے کےٹیکس گیپ میں سے 1.2 ٹریلین روپےکی کمی کےذمہ دار یہ ایک فیصد امیرترین افراد ہی ہیں۔دوسری طرف غریبوں کی صورت حاصل اس کےبرعکس ہےاور 94 فیصد غریب افراد اپنی ادائیگیاں کررہے ہیں۔علی پرویز ملک نےکہا نئے ٹرانسفارمیشن پلان کامقصد غیر ٹیکس والےاور کم ٹیکس والےشعبوں اور افراد کو تلاش کرنا ہےتاکہ رسمی شعبوں پر دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

ایف بی آر کے ممبر پالیسی حامد عتیق سرور نےصنعت کاروں اور ان کےنمائندوں کو آگاہ کیاکہ سالانہ 30 ملین روپے سے زیادہ کیش نکالنےپر نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔وہ فائلرز جو 10 ملین روپے سےزیادہ آمدنی کا دعویٰ کریں گےصرف انہیں کارخریدنے کی اجازت ہوگی تاہم انہیں پلاٹ خریدنے سےقبل اپنا ذریعہ آمدن بتاناہوگا۔ 10ملین روپےسے کم آمدنی والوں کو کار اور پلاٹ خریدنےاور سکیورٹیز اور میوچل فنڈز میں انویسٹمنٹ کرنےسے قبل وضاحت فراہم کرناہوگی۔حامد عتیق نےاپنی بریفنگ میں بتایاکہ افراط زر اور معاشی نمو کےاثرات کو ایڈجسٹ کرنےکے بعد 2004 سے ایف بی آر کی وصولیاں 3.1 ٹریلین روپے پر مستحکم رہی ہیں۔ 5.9 ٹریلین روپے کےٹیکس گیپ میں سے 2 ٹریلین روپے انکم ٹیکس کےتھے۔ پاکستان کی 60 فیصد آبادی یا 67 ملین افراد قوت سالانہ چھ لاکھ روپے کےقابل ٹیکس انکم کی حد سےنیچے ہے۔انہوں نے کہاکہ نان فائلرز پر جائیداد، کاریں خریدنے،اسٹاک مارکیٹ یامیوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کرنےاور کرنٹ اکاؤنٹ کھولنےپر پابندی لگائی جائےگی۔پاکستان ریٹیل چینز ایسوسی ایشن کےنمائندے زیاد بشیر کو چھوڑ کربزنس کمیونٹی نےان اقدامات کی حمایت کی ہے۔پاکستان بزنس کونل کےنمائندے بشیر دیوان نےبھی حکومتی اقدام کی حمایت کردی ہے۔

پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کےنمائندے خرم مختار اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کےنمائندے شاہد ستار نےبھی اس حوالےسے حکومت کی حمایت کی ہے۔فارمل ٹوبیکو سیکٹر کےنمائندے اسد شاہ نےکہا ہےکہ یہ اقدامات اچھےہیں لیکن ان کو لاگو کرنےمیں چیلنجز کاسامنا کرناہوگا۔

عارف حبیب نےتجویز کی حمایت کی لیکن ساتھ ہی کہاکہ ایف بی آر کو کیش ٹرانزیکشنز کی حوصلہ شکنی کرنےکی تجویز کو لاگو کرنےمیں احتیاط برتنی چاہیے۔

زیاد بشیر نےکہا فائلرز کےخلاف یہ ایکشن لیےکر ایف بی آر انہیں کیاپیغام دےرہا رہے۔انہوں نےتجویز دی کہ ایف بی آر کو نان فائلرز کی تفصیلات جاننے کےلیے 3ہزار نئےپرائیویٹ آڈیٹرز مختص کرنےچاہیں۔

نیسلے پاکستان کےنمائندے شیخ وقار نےموجودہ ضوابط کو ہی نافذ کرنےکی ضرورت پر زور دیا۔جہانگیر خان ترین کی شوگر انڈسٹری ایمپائر کی نمائندگی کرنےوالے رفیق نےبھی اس تجویز کی حمایت کی اور کہاکہ پاکستان میں غیر رجسٹرڈ افراد کےکاروبار کرنے کاتصور نہیں ہوناچاہیے لیکن انہوں نےکہا کہ ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کےلیے ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو کم کرنےکی بھی ضرورت ہے۔

اسٹیل انڈسٹری کی نمائندگی کرنےوالے عباس اکثر نےحکومت کی حمایت کی اور زور دیاکہ ان اقدامات کوپائیدار بنایاجائے۔سروسز انڈسٹری سے تعلق رکھنےوالے عارف سعید نےکہا کہ ان معیارات کو لاگو کرنے کےلیےحکومت کو مضبوط سیاسی عزم کی ضرورت ہوگی کیوں کہ جب حکومت ان اقدامات کو شروع کرےگی تو بہت سےلوگ پیچھےہٹ جائیں گے۔

آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کر دیں، معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں : وزیر اعظم

Back to top button