مفت بجلی کے مزے اڑانے والے سرکاری ملازمین کون؟

پاکستان میں ایک جانب بجلی کی بڑھتی قیمتوں پر عوام سراپا احتجاج ہیں وہیں دوسری جانب سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی جاری ہے کہ پاکستان میں کون سے طبقات یا اداروں کو مفت یا کم نرخوں پر بجلی سمیت مراعات فراہم کی جاتی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں متواتر اضافے، فیول ایڈجسٹمنٹ سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر رواں ماہ توقع سے زیادہ بجلی کے بل ملنے کے بعد ملک بھر میں جاری احتجاج میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔ ایسے میں مفت بجلی کی سہولت سے عیاشیاں کرنے والے سرکاری اداروں سے یہ سہولت واپس لے کر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے دوسری جانب نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بھی مفت بجلی حاصل کرنے والے اداروں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔نگران حکومت عوام کو ریلیف دے پائے گی یا نہیں، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے لیکن سوشل میڈیا پر ایک بڑا طبقہ یہ بحث کرتا نظر آیا کہ سرکاری ملازمین کو ملنے والی مفت بجلی کی سہولت سمیت دیگر مراعات کو ختم کرنا ہی اس تمام تر معاملے کا حل ہے۔

خیال رہے کہ عوامی دباؤ بڑھنے کے بعد پاور ڈویژن نے گریڈ 17 سے 21 تک کے سرکاری افسران کو بجلی کی مفت فراہم بند کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم ایک رپورٹ کے مطابق سرکاری ملازمین کی جانب سے سالانہ 34کروڑ یونٹ مفت بجلی استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن نے گریڈ 17سے 21تک کے سرکاری افسران کی مفت بجلی کے خاتمہ کی تجویز کا جھانسہ دے کر بڑی واردات چھپا لی ہے کیونکہ 15ہزار ملازمین کی مفت بجلی ختم کرنے سے بڑا فرق نہیں پڑے گا بلکہ ٹیرف میں بڑے فرق کے لیے تمام ملازمین کی مفت بجلی سہولت ختم کرنا ضروری ہے،دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ گریڈ 17سے 21کے 15ہزار 971ملازمین ماہانہ 70لاکھ یونٹس مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اسکے مقابلے میں گریڈ ایک سے 16تک کے ملازمین 33کروڑیونٹ ماہانہ مفت بجلی استعمال کررہے ہیں جن کی تعداد 1لاکھ 73ہزار200ہے، یہ سرکاری ملازمین سالانہ 10 ارب کی مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔

دوسری جانب صحافی حامد میر نے ٹوئٹر پر ایک بجلی کا بل شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ واپڈا کے ایک ملازم کا بل ہے جس نے 1200 یونٹ بجلی استعمال کی اور بل صرف 716 روپے ، ان واپڈا اور ڈسکو والوں کے بلوں کا بوجھ بھی مہنگائی کے مارے عوام اٹھا رہے ہیں ان کو دی جانے والی سبسڈی کب بند ہو گی؟‘دوسری جانب سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے ایک پیغام میں لکھا کہ ’پی ڈی ایم حکومت کے دور میں کسی وزیر کے سرکاری گھر یا پھر اراکین پارلیمنٹ کی لاجز میں مفت بجلی نہیں دی گئی۔‘خرم دستگیر کے اس ٹویٹ پر ایک صارف نے سوال کیا کہ ’کیا محکمہ بجلی کے افسران کو مفت بجلی نہیں ملتی؟ تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں کون سے اداروں کو مفت یا کم نرخوں پر بجلی فراہم کی جاتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور نیشنل ہیومن ڈولپمنٹ کی جانب سے 2021 میں شائع ہونے والی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مختلف اداروں کے افسران کو اکثر ماہانہ تنخواہ کے ساتھ کئی مراعات ملتی ہیں جن میں مفت بجلی بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق عدلیہ کے ایک ہائی کورٹ کے جج کو اپنی ملازمت کے دوران مفت گھر ملتا ہے، جس کا کرایہ حکومت دیتی ہے جبکہ بجلی کا بِل اور سرکاری گاڑی بھی حکومتی کھاتے میں آتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر جج اپنے گھر میں رہتے ہیں تو ان کے گھر کا اضافی خرچہ، جو دستاویزات میں تقریباً 65 ہزار روپے ماہانہ رقم بتائی جاتی ہے، مختص کردی جاتی ہے۔اور اس کے علاوہ دیگر اخراجات بھی اسی کھاتے میں ’اضافی‘ کے نام سے شامل کر دیے جاتے ہیں جو حکومت بھرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسی طرح بجلی کے اداروں میں کام کرنے والے اعلیٰ افسران کو مفت بجلی دی جاتی ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ مفت ٹیلیفون، مفت پٹرول اور مفت گھر بھی دیا جاتا ہے۔

لیکن ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کے بڑے اداروں کے افسران کو ملنے والی مفت بجلی اور دیگر آسائشوں کو کم کرنے سے کیا فرق پڑے گا تو اس کا جواب ملک کی معاشی صورتحال پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا نے کچھ یوں دیا کہ ’ایسے وقت میں جب پاکستان کے پہلے سے غریب طبقے پر بوجھ ڈالا جارہا ہے، ان حالات میں یہ لازم ہے کہ ان اداروں پر سوال اٹھایا جائے جن کو مفت آسائشیں دی جارہی ہیں کہ انھیں یہ آسائشیں مفت کیوں

ارجن نے بوڑھی ملائکہ کو چھوڑ کر نئی گرل فرینڈ بنا لی؟

ملیں؟‘

Back to top button