کیا عمران اور امریکہ مل کر پاکستان برباد کر رہے ہیں؟

عمران خان کو الیکشن سے زیادہ انارکی اور افراتفری میں دلچسپی ہے، عمران خان گرفتاری سے نہیں ڈر رہا بلکہ سارا ڈرامہ افراتفری اور ہنگامہ خیزی کو جلا دینے کے لئے رچا رکھا ہے، عمران خان کو معلوم ہے کہ پاکستان کو ہلکان کر کے ہی وہ طاقتور اداروں کو سرنگوں کر سکتے ہیں، آج پھر سے امریکہ کو عمران خان کے ہاتھ مضبوط کرنا ہیں کیوںکہ بربادی کا نُسخہ کیمیا عمران خان کے پاس بدرجہ اُتم موجود ہے۔

ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله نیازی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ سی پیک کا آغاز ہوا تو خطرات بھی اس کے ساتھ منسلک تھے، بحیرۂ ہند، بحیرہ عرب اور خصوصاً آبنائے ہرمز بلا شرکت غیرے امریکی تسلط میں ہیں۔ گوادر پر چین کی موجودگی امریکی سمندری مفادات کیلئے ناقابلِ تلافی نقصان تھا، گوادر پر چین کا تجارتی اور تزویراتی کنٹرول اور پھر وہاں سے چین کو تیل کی ترسیل امریکہ کے لئے ایک دھچکا تھا، وطن عزیز میں امریکی دخل در معقولات کی سب سے بڑی سہولت کار ہمیشہ سے ہماری اسٹیبلشمنٹ رہی ہے، ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ابوظبہی میں CIA ہیڈ کوارٹر سے ISI کے گہرے روابط ہیں۔ 1954 ء کاسیٹو معاہدہ ، بغداد پیکٹ بعد ازاں سینٹو CENTO ،پشاور بڈا بیر اڈا، جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف کا افغان جنگ میں سینہ سپر رہنا،سب میں مماثلت ایک ہی کہ سیاسی حکومتوں کو ذبح کرنے کے بعد پاکستان کا استعمال ممکن ہوا۔

ہماری اسٹیبلشمنٹ یقیناً بقائمی ہوش وحواس پاکستان کے نقصان کا سوچ نہیں سکتی۔ البتہ ذاتی مفادات اور ذات مبارکہ کو دوام بخشنے کے لئے شریک جُرم بننا اُن کیلئے اعزاز ہے۔ حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ چینی سرمایہ محفوظ بنانے کے لئے چین نے پاکستان کے لئے تین ترجیحات کو اپنا رہنما اُصول بنایا۔ سیاسی استحکام، خوشحالی اور پُر امن پاکستان جو چین کی اپنی ضرورت تھی۔ 70سالہ تاریخ شاہد کہ پاکستان کی بدحالی، عدم استحکام اور افراط و تفریط میں امریکی محنت و مشقت موجود ہے۔سی پیک نے پاکستان کو ساتویں آسمان پر پہنچانا تھا۔ آنے والی دہائی میں سینکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری مقدر بننی تھی۔ امریکہ کا مقصد تب ہی پورا ہوتا ہے اگر سیاسی عدم استحکام اور حکومتی اُکھاڑ پچھاڑ ہمارا اوڑھنا بچھونا رہے۔

سیاسی عدم استحکام کیلئے اسٹیبلشمنٹ ہمہ وقت تیار اور مستعد رہی کیوں کہ اقتدار پر اُن کی رالیں ٹپکنا کبھی بند نہیں ہوئیں۔ 2014 ء سے 2018 ءکے سیاسی جنگ و جدل نے خاطر خواہ نتائج دئیے۔ نواز شریف رُخصت ہوا تو اقتدار اسٹیبلشمنٹ کی جھولی میں اور CPEC امریکی خوشنودی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ پاکستان کے استحکام، خوشحالی اور امن و امان کا ایک اور موقع گنوا دیا گیا۔عمران خان جیسے مہرے کو اقتدار ملا تو اقتدار سنبھالتے ہی حکومتی وزراء کا پہلا اعلامیہ یہ تھا کہ ’’سی پیک کچھ سالوں کیلئے معطل رکھا جائے گا‘‘۔ دوسری طرف IMF اور F A T F کا ٹریپ پہلے سے تیار تھا۔

حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان کیکی دوآتشہ تحریک سے پُر تشدد عدم استحکام رواج پا چکا ہے جبکہ اس نے رائے عامہ کو اداروں کے خلاف بھڑکا رکھا ہے۔ یہ ساری صورت حال 1971ء کے سقوط مشرقی پاکستان والےحالات  سے سو فیصد مطابقت رکھتی ہے، مجھے پہلے دن سے یقین ہے عمران خان کو الیکشن سے زیادہ انارکی اور افراتفری میں دلچسپی ہے، میری بات مان لیں، عمران خان گرفتاری سے نہیں ڈر رہا، مجھے سو فیصد یقین کہ موصوف نے سارا ڈرامہ افراتفری اور ہنگامہ خیزی کو جلا دینے کے لئے رچا رکھا ہے۔ خاطر خواہ نتائج لے بھی رہا ہے۔

عمران حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی اب تک کی ساری تدبیریں ناکام بنا چُکا ہے ۔ ہر عمل، ہر آنے والا دن اگرچہ عمران خان کو الیکشن سے دور لے جا رہا ہے مگر عوام کے اندر باہمی انتشار اور عوام بمقابلہ ادارے تصادم مستحکم ہو رہا ہے ۔عمران خان کا ہر عمل ملکی سیاست پر اس کی گرفت مضبوط کر رہا ہے۔ لانگ مارچ، اسمبلیوں کی تحلیل، گرفتاری سے بچنا سب کچھ خون گرم رکھنے اور سیاسی مہم جوئی کیلئے استعمال میں ہے۔ بظاہر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ عمران خان کے عفریت کو قابو کرنے میں بے بس نظر آ رہی ہے۔ دوسری طرف عمران خان کو معلوم ہے کہ پاکستان کو ہلکان کر کے ہی وہ طاقتور اداروں کو سرنگوں کر سکتے ہیں۔

آج پھر سے امریکہ کو عمران خان کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے کہ بربادی کا نُسخہ کیمیا عمران خان کے پاس بدرجہ اُتم موجود ہے۔ 1971 ء کے بعد دوسری دفعہ سیاسی نظام کیساتھ اسٹیبلشمنٹ بھی عمران خان کے نشانے پر ہے۔ آخر میں حفیظ الله نیازی لکھتے ہیں کہ پاکستان آگ کے بلند الاؤ میں گھرا ہوا ہے، فارمولا 1971ء میں استعمال ہو چکا ہے، جب پاکستان ٹوٹا تھا تو ادارے ایک عرصہ سر اُٹھانے کے قابل نہ تھے، ’’کیا آج کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے‘؟

عثمان کاکڑ کا قاتل کون؟ اقوام متحدہ نے جواب مانگ لیا

Back to top button