جسم میں پانی کی کمی کا اشارہ دینے والی عام نشانیاں کون سی ہیں؟

ہمارا جسم ایسے متعدد اشارے دیتا ہے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ اندر کیا کچھ ہورہا ہے۔

روزمرہ کے کاموں میں مناسب مقدار میں پانی پینا بھول جانا بہت آسان ہوتا ہے، خاص طور پر موسم گرم ہو تو ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

گرمی سے ہٹ کر بھی جسم میں پانی کی کمی کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں جیسے ہیضہ، قے، زیادہ پیشاب کرنا، بخار ہونا یا پانی کم پینا وغیرہ۔اہم بات یہ ہے کہ ڈی ہائیڈریشن کے شکار ہونے کے لیے جسم میں پانی کی مقدار بہت زیادہ کم ہونا ضروری نہیں بلکہ محض ڈیڑھ فیصد کمی بھی ڈی ہائیڈریشن کا آغاز ہوتی ہے۔عموماً پانی کی کمی کا عندیہ پیاس کے احساس سے ملتا ہے مگر کئی بار دیگر نشانیاں بھی سامنے آتی ہیں۔اگر سانس کی بو کے مسئلے کا سامنا ہو رہا ہے تو یہ بھی مناسب مقدار میں پانی نہ پینے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

لعاب دہن جراثیم کش ہوتا ہے اور سانس کی بو کا باعث بننے والے بیکٹریا کا خاتمہ کرتا ہے، تاہم پانی کی کمی سے منہ خشک ہوتا ہے اور بیکٹریا کی تعداد بڑھتی ہے۔اس تعداد بڑھنے سے سانس کی بو کا سامنا ہوتا ہے۔

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر کئی بار جسم میں پانی کی کمی کی صورت میں پیاس کی بجائے بھوک کا احساس تانے لگتا ہے، خاص طورپر کچھ میٹھا کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔عموماً ایسا جسمانی سرگرمیوں کے باعث ہوتا ہے جس کے دوران پانی کی کمی ہونے پر ہمارا جسم کاربوہائیڈریٹس کو زیادہ تیزی سے استعمال کرتا ہے۔تو اس ذخیرے میں کمی سے میٹھے کی خواہش بڑھتی ہے کیونکہ جسم دوبارہ کاربوہائیڈریٹس کا ذخیرہ کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔

Back to top button