ایوب کے صدارتی نظام نے پاکستان کو کیسے برباد کیا؟

پاکستان میں پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام لانے کی بحث میں تیزی آنے کے بعد اس نظام کے ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ مکمل صدارتی نظام کا حقیقی تجربہ صدر جنرل ایوب خان نے 1962 سے لے کر 1969 تک کر لیا تھا جو نہ صرف مکمل طور پر ناکام رہا بلکہ اس کے نتیجے میں 1971 میں پاکستان دو لخت ہو گیا تھا۔اسکے علاوہ جنرل یحییٰ، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے ادوار بھی صدارتی مارشل لا کے تھے جن کے نتائج پاکستان اور اس کے عوام آج دن تک بھگت رہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی کے فوجی طالع آزماؤں کی طرح آج عمران خان بھی اس سوچ کو آگے بڑھا رہے ہیں کہ تمام تر اختیارات فرد واحد کے ہاتھ میں ہوں اور ان پر کوئی چیک نہ ہو تاکہ وہ ملک کی قسمت بدل سکیں، لیکن ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ اختیارات کی اسی مرکزیت اور فرد واحد کے اقتدار نے پاکستان کو تباہ کیا۔

ایوب خان کا 1958 سے 1962 تک کا مارشل لا، پھر 1962 سے 1969 تک کا صدارتی نظام، ہھر یحییٰ خان، ضیاالحق اور مشرف کے مارشل لا، ان سب میں فرد واحد ہی اختیارات کا مرکز تھا اور اب اسی صدارتی نظام کو نافذ کرنے کا شوشہ دوبارہ چھوڑا جا رہا ہے، ہالا کے دنیا بھر میں طاقت کی مرکزیت کو ختم کیا جا رہا ہے جو کہ آمریت کو فروغ دیتی ہے۔

پاکستان میں اس سے پہلے بھی صدارتی نظام حکومت رائج کرنے کا ڈرامہ سجایا جاتا رہا ہے۔ ایک آدھ بار اس کا تجربہ بھی کیا گیا لیکن زیادہ تر صدارتی نظام کی خواہش آمرانہ حکومتوں سے مارشل لا کی صورت میں ہی پوری کی گئی۔ اس مرتبہ فرق یہ ہے کہ دبے دبے یا پھر کبھی کھلے الفاظ میں برسرِ اقتدار حکومت کی طرف سے نظام کی تبدیلی کے مطالبے کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کئی مرتبہ یہ اشارہ کر چکے ہیں کہ وہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن موجودہ نظام کی وجہ سے وہ کر نہیں پاتے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل نظام بدلنے میں نہیں ہے بلکہ چہرہ بدلنا ضروری ہے۔ دوسری جانب چہرہ عوامی جذبات بھانپ کر نظام بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا یے کہ جہاں تک صدارتی نظام کا تعلق ہےطتو یہ ماضی میں مختلف صورتوں میں پٹ چکا ہے۔ دوسری جانب پارلیمانی نظام کے ناکام ہونے کا شوشہ اڑایا جا رہا ہے حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ پارلیمانی نظام کو یہاں ٹھیک طرح سے کام کرنے کا موقع ہی کب دیا گیا۔ پچھلے 74 سال میں آنے والے تمام وزرا اعظم کے ہاتھ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے پیچھے کی جانب باندھ رکھے تھے۔ اس۔کے علاوہ سب کو پتہ ہے کہ ہمارے آئین میں کتنی زیادہ ترامیم کی گئیں اور کسی نہ کسی طریقے سے پارلیمان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس کی سب المناک مثال آئین کی شق 58 ٹو بی ہے جس کے تحت صدر کے پاس اختیار تھا کہ وہ اگر سمجھتا ہے کہ اسمبلیوں کی کارکردگی اچھی نہیں ہے تو وہ انھیں تحلیل کر سکتا تھا۔ایک پوری دہائی اس اختیار کے تحت حکومتوں کے آنے اور جانے میں ضائع کی گئی اور چار منتخب حکومتیں اس صدارتی کلہاڑے کا شکار ہوئیں۔

لہذا ناقدین کہتے ہیں کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پارلیمانی نظام فیل ہوگیا ہے اور صدارتی نظام ہی پاکستان کو کامیاب کر سکتا یے۔ دراصل صدارتی نظام کا تجربہ بار بار ناکام ہوا ہے اور پارلیمانی نظام کو ایک مرتبہ کھل کر کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر پارلیمانی نظامِ میں کوئی مسئلہ ہے تو وہ اصل میں انتظامیہ کی طاقت کے ناجائز استعمال کا ہے۔ اس طاقت کے ناجائز استعمال کی وجوہات پیچیدہ اور بہت سی ہیں۔ عدلیہ سمیت بہت سے اداروں کا کمزور ہونا، اندرونی نظام کا نہ ہونا، پارلیمانی نظام میں جو حکومت آتی ہے اس کو اپنی میعاد پوری نہ کرنے دینا، سول سوسائٹی میں اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگانا وغیرہ۔ سو اس کا تعلق پارلیمانی نظام سے بالکل نہیں ہے۔

اگر آپ صدارتی نظام لائیں گے تو پھر بھی وہی طبقے اور گروپ غالب آ جائیں گے جن کے بارے میں اب بھی خدشہ ہے کہ وہ غالب ہیں۔ لہذا انکا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایوب دور کی رومانویت سے نکلا جائے جس نے نہ صرف پاکستان کو تباہ کیا بلکہ توڑ دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایوب دور کو باریک بینی سے دیکھنا بہت ضروری ہے۔

اس دور کی اقتصادی ترقی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے حالانہ اس دور کی معاشی کارکردگی بد ترین تھی۔ دوسرا اس دور میں عدم مساوات بہت ذیادہ بڑھی، دولت کی مرکزیت بڑھی۔ اس زمانے میں نفرت کے جو بیج بوئے گئے، اور جس طرح معاشرے کو مختلف طریقوں سے تقسیم کیا گیا اس کا نتیجہ 1971 میں سانحہ مشرقی پاکستان کی صورت میں سامنے آیا۔ لیکن اس نام نہاد ’ترقی کے دور‘ کے بارے میں جھوٹے افسانے گھڑے گے اور اب انہیں افسانوں کی بنیاد پر دوبارہ سے صدارتی نظام لانے کی بات کی جا رہی ہے۔

How did Ayub’s presidential system destroy Pakistan? video

Back to top button