نئی قومی سلامتی پالیسی قوم سے خفیہ کیوں رکھی جا رہی ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ہائبرڈ نظام چلانے والوں کی جانب سے حال ہی میں تشکیل دی جانے والی قومی سلامتی پالیسی کو اس لیے قوم سے خفیہ رکھا جا رہا ہے کہ کچھ بڑے فیصلے کر لیے گئے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پرانی قومی سلامتی پالیسی کو راتوں رات تبدیل کرنا سات دہائیوں سے اس سے مستفید ہونے والے اداروں، گروہوں اور طبقوں کے اسٹیک ہولڈرز کے سخت ردعمل کا باعث بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی قومی سلامتی پالیسی کو انتہائی رازداری میں رکھا جا رہا ہے۔
فرائیڈے ٹائمز کے لئے اپنے ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے سینکڑوں دانشوروں، تاجروں، اساتذہ اور طلبا اور ماہرین سمیت اہم اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد قومی سلامتی کی پالیسی بنائی ہے۔ تاہم بد قسمتی سے اپوزیشن جماعتوں اور رہنماؤں کو اس اہم معاملے میں نظر انداز کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ حکومتی اراکین پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ قومی سلامتی کی ضامن پالیسی کو ”خفیہ“ قرار دیا گیا ہے۔ ہمیں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ ”انسانی سکیورٹی“ کو توانا کر کے ”روایتی سکیورٹی“ کو مضبوط کیا جائے گا اور ان دونوں کے لیے مختص کردہ وسائل کاحجم بڑھایا جائے گا۔
لیکن سیٹھی کہتے ہیں کہ ہم سات دہائیوں سے جاری قومی سلامتی پالیسی کو جانتے ہیں اور ہم بلاتامل پوچھتے رہیں گے کہ نئی پالیسی دراصل ہے کیا؟
قیام پاکستان عالمی تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی ہجرت، بے مثال فرقہ وارانہ تشدد اور کشمیر پر جنگ کی سلگتی ہوئی یادیں لیے ہوئے ہے ۔ درحقیقت ہندوستان کے سیاسی رہنماؤں نے بلاتاخیر ببانگ دھل کہنا شروع کردیا تھا کہ پاکستان کی نئی ریاست جلد ہی ہندوستان میں دوبارہ جذب ہو
جائے گی ۔ اس طرح عدم تحفظ نئی قوم اور ریاست کے جینیاتی سانچے میں شامل ہوگیا ۔ ملک کے پہلے بجٹ کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ فوری طور پر فوجی دفاع اور سلامتی کے لیے مختص کر دیا گیا۔ وراثت میں ملی نوآبادیاتی سول ملٹری بیوروکریسی مقامی سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں سے زیادہ ترقی یافتہ، منظم اور مربوط تھی۔ اس نے ریاست اور معاشرے کے اہم عہدوں پر قبضہ جما لیا۔ اس کی طاقت کا ارتکاز غلام محمد اور خواجہ ناظم الدین کی صورت گورنر جنرل اور اسکندر مرزا اور ایوب خان کی صورت صدور کی صورت میں تھا۔
یہ اشرافیہ امریکہ کے ساتھ سینٹو، سیٹو اور بغداد پیکٹ جیسے دفاعی معاہدوں میں شریک ہوئی۔ اگرچہ بظاہر یہ معاہدے اشتراکیت کے خلاف تھے لیکن درحقیقت ان کے ذریعے بھارت کے خلاف فوجی دفاع مضبوط بنانا مقصود تھا۔ اس طرح پاکستان کا قومی سلامتی کابیانیہ وجود میں آیا۔
نجم سیٹھی بتاتے ہیں کہ اس بیانیے کے تین ستون تھے: پہلا رھا بھارت کی طرف سے بداعتمادی اور دشمنی جس کے تحت کشمیر کو تقسیم ہند کا ادھورا باب قرار دیا گیا۔ اسکا دوسرا ستون تھا جنرل ایوب کے دور اقتدار میں بنیادی جمہوریت کے نام پر اختیارات کو اپنے ہاتھ میں رکھنا۔ اور تیسرا ستون فوجی اور معاشی امداد کے لیے امریکہ پر انحصار کرنا تھا۔
سیٹھی کہتے ہیں اختیارات کی مرکزیت پر مبنی قومی سلامتی کا ریاستی نظام 1971 میں فوجی شکست کے بعد پاکستان کے دولخت ہونے پر منہدم ہوگیا۔ اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے تحت سویلین بندوبست اور 1973 کا جمہوری آئین وجود میں آیا۔ لیکن 1977ء میں سلطنت نے پھر پلٹ کر وار کیا اور ملک پر مارشل لا نافذ کردیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے 1980کی دہائی میں غیر جماعتی صدارتی نظام مسلط کیا اور ملک کو واپس امریکی کیمپ میں دھکیل دیا۔
1988 میں جنرل ضیاء الحق کے غیر متوقع طور پر منظر عام سے ہٹنے کے ساتھ اس نظام کو ایک جھٹکا لگا لیکن صدر غلام اسحاق خان اور جنرل اسلم بیگ نے ایک ہائبرڈ آئینی نظام کی صورت کھیل کے پتے اپنے ہاتھ میں رکھے ۔
شرمیلا فاروقی نادیہ خان کے خلاف ایف آئی اے پہنچ گئیں
طاقت ور فوج کا نامزد کردہ یا حمایت یافتہ صدر منتخب شدہ وزیر اعظم کو برطرف اور پارلیمنٹ کو تحلیل کرسکتا تھا ۔ 1990ء کی دہائی میں ایسا تین مرتبہ دیکھنے میں آیا۔ بے نظیر بھٹو نے راجیو گاندھی کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر چلتا کردیا گیا ۔ 1990 کی دہائی میں وقتاً فوقتاً برطرفیوں اور دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے جمہوری عمل کو روندا جاتا رہا۔
بالآخر 1999 میں حتمی وار کیا گیا جب نواز شریف نے بھارت کے ساتھ ”امن“ قائم کرنے کے لیے بس ڈپلومیسی کا سہارا لیا تو جنرل مشرف نے کارگل میں مہم جوئی کرکے اُن کا تختہ الٹ کر اور جلاوطن کردیا گیا ۔ مشرف نے آٹھ سال تک آمر کی طرح حکومت کی۔ افغانستان میں امریکہ کی جنگ کا سہولت کار بنتے ہوئے فوجی اور اقتصادی امداد کی مد میں اربوں ڈالر وصول کیے۔ ایک غیر متوقع عوامی مزاحمت کی تحریک جوجج افتخار چوہدری نے شروع کی تھی، نے مشرف کا اقتدار ختم کردیا۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر سولین کے ہاتھ میں حق حکمرانی آگیا۔ لیکن اس سے پہلے بے نظیر بھٹو کو اپنی جان دینی پڑی تھی۔ آصف زرداری کے دور کو ممبئی اور میموگیٹ نے بلیک میل کیا۔ ان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو برطرف کیا گیا۔ نواز دورکسی کی ایما پر دیے گئے دھرنوں، انڈیا میں جہادیوں کو بھجوانے اور دشمن کے ساتھ روابط رکھنے کے الزامات کی نذر ہوگیا۔ ان کے خلاف کام کرنے والی تحقیقاتی ٹیم اعلیٰ افسران کو جواب دہ تھی۔
قومی سلامتی کے اس نمونے کو 2018 میں عمران خان کو اقتدار پر بٹھانے اور آصف زرداری اور نواز شریف کو قید و بند کا نشانہ بنانے کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا گیا ۔ لیکن امریکی حمایت اور امداد سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ عمران خان کے طرز حکمرانی، کارکردگی دکھانے میں ناکامی نے اقتصادی بحالی اور ہائبرڈ نظام کا جواز ختم کردیا ہے۔
اس کی وجہ سے منصوبہ سازوں کا دامن داغ دار ہوگیا۔ دریں اثنا پرانے دشمن بھارت کے ساتھ روایتی فوجی توازن تیزی سے بگڑ چکا۔ہائبرڈ سسٹم کی قانونی حیثیت اور فزیبلٹی دونوں کے چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے نیشنل سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بنیادی امور پر واپس آنے اور اپنی قومی سلامتی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔
امریکی امداد اور حمایت کھونے کے بعد ایک نئی قومی سلامتی کی پالیسی وضع کرنی ہوگی جس میں سیاسی نظام کی نمائندہ اور معتبر قانونی حیثیت کو بحال کرنا اور کشمیر پر بھارت کے ساتھ دائمی تنازع سے قدم پیچھے ہٹانا ناگزیر ہے۔ ٹریلین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ یہ سب کیسے ہوگا؟
بقول سیٹھی انتہائی امیر اور مراعات یافتہ طبقوں سے غریبوں کو دولت کی بڑے پیمانے پر منتقلی اور نمائندہ سولین نظام حکومت کی طرف واپسی ضروری ہے۔ صرف یہی چیز بڑھتی ہوئی معاشی اور سیاسی بے اطمینانی اور مذہبی عسکریت پسندی کو روکے گی جو ریاست کو زیر و زبر کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔ بھارت کے ساتھ امن کے لیے طویل المدت پالیسی اور عسکریت پسندی سے حتمی واپسی ہی مطلوبہ نتائج دے گی۔
لیکن پرانی قومی سلامتی پالیسی کو راتوں رات تبدیل کرنا سات دہائیوں سے اس سے مستفید ہونے والے اداروں، گروہوں اور طبقوں کے اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے زبردست ردعمل کا باعث بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی قومی سلامتی کی پالیسی انتہائی رازداری میں رکھی گئی ہے۔ اس پر سرکاری بیانیہ لفاظی اور وسیع تر مفہوم کا الجھاؤ رکھتا ہے۔ اس نے پالیسی کے مواد اور درپیش چیلنج کو مبہم کر دیا ہے۔
