مجھے اقتدار سے نکالا گیا تو زیادہ خطرناک ثابت ہوں گا

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کسی سے ڈرنے والے نہیں اور اگر انہیں اقتدار سے نکالا گیا تو وہ اور بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔عمران خان نے کہا کہ ابھی میں وزیراعظم ہاؤس میں چپ بیٹھا ہوا ہوں، لیکن اگر مجھے حکومت سے نکالاگیا تو میں سڑکوں پر نکل آؤں گا، پھر میرے مخالفین کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا میں واضح کہتا ہوں کہ ملک کو لوٹنے والے چور نہیں ڈاکو ہیں جو این آر او لینے کے لئے مجھ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں نے ان کو این آر او دیا تو ملک سے غداری ہو گی۔ ماضی میں مشرف نے دو بڑے خاندانوں کی چوری معاف کر کے بڑا ظلم کیا۔

عمران خان نے یہ بات اتوار کو ‘آپ کا وزیرِاعظم آپ کے ساتھ’ نامی سلسلے میں میں عوام سے ٹیلیفون کالز کے ذریعے براہِ راست باتیں کرتے ہوئے کہی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ کافی دنوں سے میں آپ سے بات نہیں کرسکا تھا، اصولا تو مجھے پارلیمنٹ میں ایسی بات کرنی چاہیے لیکن بد قسمتی سے پارلیمنٹ میں اپوزیشن مجھے بات نہیں کرنے دیتی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں این آر او کے متلاشی لوگ بیٹھے ہیں، اگر آپ ان کے مطالبات پورے نہ کریں تو وہ آپ کو بات نہیں کرنے دیتے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک عظٰیم خواب کا نام ہے، علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا کہ کوئی ایسی ریاست بنے جس کو دیکھ کر دنیا کو پتا چلے کہ حقیقی فلاح ریاست کیا ہوتی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں میں نے ریاست مدینہ کے موضوع پر مضمون لکھا تو مخالفین نے تنقید کی کہ میں دین کے پیچھے چھپ رہا ہوں، مجھے سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں تھی، میری ساری جدوجہد کا مقصد ملک کو مثالی فلاحی ریاست بنانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جس مقصد کے لیے ہم نے ملک بنایا، جب تک ہم اس مقصد پر عمل نہیں کریں گے ہم ترقی نہیں کرسکتے۔

ایک فون کالر نے ایمرجنسی کے نفاذ یا صدارتی نظام کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں زیر گردش خبروں کے حوالے سے سوال کیا تو عمران خان نے جواب دیا کہ میں نے وزیراعظم بننے کے بعد پہلی ہی تقریر میں کہا تھا کہ آپ کو بہت شور سننے کو ملے گا کہ ملک تبا ہو گیا، یہ نااہل ہیں، میں ان گھٹیا لوگوں کے خلاف کھڑا ہونا جہاد سمجھتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے ان سے مفاہمت نہیں کرنی، انہوں نے ہمیں بلیک میل کرنا ہے تاکہ انہیں کسی طرح این آر او مل جائے جیسے پرویز مشرف نے دیا تھا.

جنرل مشرف نے اس ملک پر مارشل لا سے زیادہ ظلم ان دو خاندانوں کو این آر او دے کر کیا تھا اور آج قوم اس کی قیمت ادا کررہی ہے کیونکہ جو آدھا پیسہ ہم ٹیکس سے اکٹھا کرتے ہیں وہ ان کے لیے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دو خاندانوں کو این آر او دینا ملک سے سب سے بڑی غداری ہے، انہوں نے کہا کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا اور اگر مجھے اقتدار سے نکالا گیا تو میں اور زیادہ خطرناک ثابت ہوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تنقید اچھی چیز ہوتی ہے لیکن ایک چیز پراپیگنڈا اور جعلی خبر ہوتی ہے، جان بوجھ کر ملک میں فیک نیوز کے ذریعے جو مایوسی پھیلائی جا رہی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو مافیاز ہیں، ہمارا مقابلہ عام لوگوں سے نہیں، یہ سیاستدان نہیں مافیاز ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ میڈیا میں بیٹھے ہوئے لوگ ان کے ساتھ مل کر مسلسل مایوسی پھیلا رہے ہیں، میرا ان سے سوال ہے کہ اس کا کیا جواب ہے کہ شرح نمو 5 فیصد زائد کیسے ہوئی ہے، تمام شعبوں میں نمو کیسے ہوئی ہے، اگر اتنے برے حالات تھے تو ملک کو دیوایہ ہوجانا چاہیے تھا اور بیروزگاری بھی بڑھنی چاہیے تھی۔

ملک بھر میں بارشں، برفباری، کئی علاقوں میں بجلی منقطع

انہوں نے کہا کہ روزگار بڑھ رہا ہے، غربت کم ہو رہی ہے، ملک کی دولت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، ملک کا ٹیکس بھی زیادہ اکٹھا ہو رہا ہے تو مایوسی کس چیز کی ہے اور بلوم برگ نے پیشگوئی کی ہے کہ پاکستان صحیح ڈگر پر گامزن ہے۔

ایک خاتون فون کالر نے عمران خان سے یہ سوال کیا کہ انہوں نے پچھلے برس بھی اسی طرح فون سنتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ وہ بہت جلد ملک سے مہنگائی کا خاتمہ کردیں گے لیکن ایسا نہیں ہو پایا۔ خاتون نے کہا کہ عوام نے جتنا گھبرانا تھا گھبرا چکے، اب وزیراعظم کے گھبرانے کی ضرورت ہے تا کہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔ خاتون کو جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں ہے۔

 

Back to top button