فیض حمید نے طالبان کو خیبر پختون خواہ کا قبضہ کیسے دیا ؟

خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں حالیہ عرصے میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ حال ہی میں ڈیرہ اسماعیل خان سے فوجی افسر سمیت چار افراد کے اغوا اور رہائی کے معاملے نے بھی جنوبی علاقوں میں سیکیورٹی صورتِ حال پر سوالات اُٹھا دیے ہیں۔حالیہ کچھ عرصے میں ان علاقوں میں دھماکے، فائرنگ، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔مبصرین کے مطابق سابقہ عسکری قیادت کی پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گرد خیبرپختونخوا میں مضبوط ہو چکے ہیں ان کی کمر توڑنے کےلیے ایک اور مربوط فوجی آپریشن ناگزیر ہے۔
خیال رہے کہ پاک فوج کے لیفٹننٹ کرنل، ان کے دو بھائیوں اور بھتیجے کے اغوا میں بھی کالعدم تحریک طالبان گنڈا پور گروپ کا نام سامنے آیا ہے جن کی رہائی کے عوض بھاری تاوان اور مبینہ شدت پسندوں کی رہائی کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں تاہم پاک فوج کے مطابق ان افراد کو غیر مشروط طور پر رہا کرایا گیا ہے۔
فیض حمید نے انڈر ورلڈ ڈان بن کر 30 ارب روپے کس طرح کمائے؟
مبصرین علاقے کی پسماندگی اور افغان طالبان کے علاقے میں بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وجہ قرار دیتے ہیں مبصرین کے مطابق کلاچی خیبرپختونخوا کا ایک پس ماندہ علاقہ ہے اور یہ ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ان کے بقول علاقے میں جدید اسلحے کی بھرمار ہے۔ ٹی ٹی پی کے مقامی جنگجوؤں کے علاوہ افغان شہری بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں جو کہ زیادہ تر کارروائیاں موٹر سائیکلوں کے ذریعے کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ کچھ عرصے سے گنڈاپور طالبان علاقے میں اغواء برائے تاوان سمیت مختلف وارداتوں میں متحرک ہیں گنڈا پور گروپ کی قیادت ضرار گنڈا پور کرتے ہیں جن کو ٹی ٹی پی میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔
تاہم سینئر تجزیہ کار اور مصنف فخر کاکاخیل کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں شدت پسندوں کے محسود طالبان، داوڑ طالبان اور وزیر طالبان گروپ زیادہ منظم ہیں۔ لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافاتی علاقے کلاچی میں گنڈا پور طالبان شرپسندانہ وارداتیں کر رہے ہیں۔سابق سیکریٹری قبائلی علاقہ جات خیبرپختونخوا بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کہتے ہیں کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہوں کے ہاتھوں جو نایاب اسلحہ لگا اس کے بعد شدت پسندوں کی کارروائیاں زیادہ پُراثر اور منظم انداز میں ہونے لگیں۔بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ضربِ عضب کے بعد بھی دہشت گردوں کا منظم انداز میں صفایا جاری رکھا۔ تاہم سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے ٹی ٹی پی کے ساتھ مبینہ ‘امن معاہدے’ کے بعد سے علاقے میں بے امنی بڑھی۔بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا مکمل صفایا ایک جامع فوجی آپریشن سے ہی ممکن ہے۔بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کے مطابق سیکیورٹی کے معاملات کو سیاست سے الگ رکھ کر دیکھنے سے ہی بے امنی کا مکمل خاتمہ ہو سکتا ہے۔
