قومی اسمبلی میں اکثریتی پارٹی پی ٹی آئی تیسرے نمبرپرکیسے پہنچ گئی؟

مخصوص نشستوں بارے سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے حکم پر مخصوص نشستوں سے محرومی کے بعد تحریک انصاف اکثریتی پارٹی نہیں رہی بلکہ قومی اسمبلی میں تیسرے درجے پر آ گئی ہے۔ جس سے نہ صرف پی ٹی آئی کی ایوان میں عددی برتری ختم ہو گئی ہے بلکہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی حیثیت بھی کمزور ہو گئی ہے۔ اس کے برعکس، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد حکومتی اتحاد نے دو تہائی اکثریت حاصل کر کے اپنی پوزیشن کو بے حد مضبوط بنا لیا ہے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جانب سے مخصوص نشستوں کے کیس میں حکومتی اپیل کا فیصلہ آنے کے بعد وفاقی حکومت ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے، عدالتی فیصلے کے بعد حکمران اتحاد کی قومی اسمبلی میں حاصل نشستوں میں اضافے کے بعد حکومت کے لیے اپنی مرضی کی آئینی ترامیم لانے کے دروازے کھل گئے ہیں۔
یاد رہے کہ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے اس فیصلے سے قبل قومی اسمبلی میں حکمراں اتحاد کی جماعتوں کے ارکان کی مجموعی تعداد 218 تھی۔ مسلم لیگ (ن) کے 110، پیپلز پارٹی کے 70، متحدہ قومی موومنٹ کے 22 اور مسلم لیگ (ق) کے 5 ارکان ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد 100 ہے جس میں سنی اتحاد کونسل کے 80، تحریکِ انصاف کی حمایت سے کامیاب ہونے والے 8 آزاد ارکان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 8 ارکان شامل ہیں۔
لیکن سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے حالیہ فیصلے کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کو 15، پیپلز پارٹی کو 4، اور جے یو آئی (ف) کو 3 اضافی نشستیں ملنے جا رہی ہیں۔اس فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 125 ہو جائے گی۔ قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے اراکین کی تعداد 74 ہو جائے گی جبکہ جے یو آئی کے ارکان کی تعداد 11 ہو جائے گی۔ قومی اسمبلی میں اضافی نشستیں ملنے سے حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہونے جا رہی ہے، 336 ممبران کے ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے 224 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ حکومت کو اس سے بھی 13 ممبران زیادہ، یعنی237 اراکین کی حمایت حاصل ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 5 کے مقابلے میں 7 کی اکثریت سے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستیں منظور کرلیں، عدالت نے مختصر فیصلے میں 12 جولائی 2024 سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواستوں پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے کی تھی جبکہ آئینی بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس عقیل عباسی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔
یاد رہے کہ 12 جولائی 2024 کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دیا تھا۔ اس سے قبل، 14 مارچ 2024 کو پشاور ہائی کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ 6 مئی 2025 کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے۔ تاہم، بینچ کے ارکان جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے اختلاف کرتے ہوئے نظر ثانی درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں کیس کی طویل سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستین نہ دینے کا حکمنامہ جاری کر دیا تھا۔
مبصرین کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر مخصوص نشستیں نہ ملنے کے بعد پی ٹی اکثریتی پارٹی سے اقلیتی پارٹی میں بدل گئی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بالترتیب پہلی اور دوسری بڑی جماعتیں بن چکی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ملکی سیاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ جہاں حکومت کو اب قانون سازی کے لیے وسیع گنجائش حاصل ہو گئی ہے، وہیں اس فیصلے نے اپوزیشن کو پارلیمان میں مزید کمزور کر دیا ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے نے نہ صرف مخصوص نشستوں کے قانونی اصول کو واضح کر دیا ہے بلکہ قومی اسمبلی میں اقتدار کے توازن کو بھی یکسر بدل دیا ہے۔ حکومتی اتحاد کو حاصل ہونے والی دو تہائی اکثریت ملک کی سیاسی، قانونی اور آئینی سمت کا تعین کرے گی۔ تاہم، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا اس اکثریت کو قومی مفاد میں استعمال کیا جاتا ہے یا محض سیاسی فائدے کے لیے۔
