بشریٰ بی بی کی بہن مریم وٹونےگنڈاپورکونشانےپرکیوں لےلیا؟

عمران خان کی رہائی کیلئے فیصلہ کن احتجاجی تحریک سے پہلے ہی پی ٹی آئی میں پھوٹ پر گئی۔ عالیہ حمزہ کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بہن مریم وٹو نے بھی علی امین گنڈا پور کو نشانے پر لے لیا۔ مریم وٹو نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی 90روزہ احتجاجی ڈیڈ لائن کو ڈرامے بازی قرار دے دیا ہے
مبصرین کے مطابق عالیہ حمزہ اور مریم وٹو کے بیانات محض سیاسی اختلافات نہیں بلکہ پارٹی کے اندر جاری اختیارات اور قبضے کی لڑائی کا مظہر ہیں۔ بنیادی طور پر تحریک انصاف پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ پارٹی میں بشریٰ بی بی گرو پ کا حصہ ہیں۔ اس لئے اپنے حالیہ بیانات کے ذریعے عالیہ حمزہ نےگنڈاپور کو ہدف تنقید نہیں بنایا بلکہ اصل میں بشریٰ بی بی علی امین گنڈاپور پر حملہ آور ہوئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کے اختلافات کسے سے ڈھکے چھپے نہیں۔ مختلف مواقع پر بشریٰ بی بی اپنی پراکسیز کے ذریعے گنڈاپور کی دھلائی کرتے رہتی ہیں۔
خیال رہے کہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کے اختلافات اس وقت پیدا ہوئے تھے جب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ اسلام آباد میں احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کو گاڑی میں بٹھا کر جوتے چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ تاہم اس وقت اپنی مرضی سے علی امین گنڈاپور کے ساتھ بھاگنے کے بعد بشریٰ بی بی نے کارکنان کی تنقید کے بعد دعویٰ کر دیا تھا کہ انھیں اسلام آباد میں احتجاج سے ان کی مرضی کے خلاف لے جایا گیا تھا۔
تاہم اب ایک بار پھر احتجاجی تحریک کے آغاز سے قبل ہی بشریٰ بی بی کیمپ نے گنڈاپور کے خلاف محاذ سنبھال لیا ہے۔ اور عالیہ حمزہ کے بعد مریم وٹو نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پر تنقید کے نشتر چلانے شروع کر دئیے ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعلی خیبر پختونخو اعلی امین گنڈا پور کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے نوے روز کا الٹی میٹم دیئے جانے پر خود پی ٹی آئی کے ورکرز بھی برہم ہو گئے ہیں اور انھوں نے سوشل میڈیا پر گنڈاپور کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔ اس مہم میں بشری بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو پیش پیش ہیں۔ مریم وٹو نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر علیمہ خان کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے یہ نوے دن کی کیا بکواس ہے۔ ڈرامے پر ڈرامہ۔ علیمہ خان اس ٹولے کو سمجھا ئیں۔ یہ خان کے لیے کچھ نہیں کر سکتے ۔ کیا آپ کو اب بھی ان سے امید ہے؟ ۔ اس کے ساتھ ساتھ مریم وٹو نے ہر وہ پوسٹ ، ری پوسٹ کی ہے، جس میں گنڈا پور کو برا بھلا کہا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کے ایک حامی صارف نے مریم وٹو کی تائید کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ گنڈاپور ایک بار پھر خان صاحب کی حکم عدولی کر گیا۔ بانی پی ٹی آئی نے 15 اگست تک تحریک کوانتہا پر پہنچانے کا کہا تھا اور یہ نوے روز کا الٹی میٹم
دے کر چلتا بنا۔
مبصرین کے مطابق کبھی جنہیں انقلاب کے خواب دکھائے جاتے تھے، آج وہی کارکن سوشل میڈیا پر اپنے ہی قائدین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ 90 روزہ ڈیڈ لائن، لاہور کا فارم ہاؤس، علی امین گنڈا پور کا خاموش قافلہ، اور بشریٰ بی بی کے حلقے سے اُٹھتی ہوئی ناراضی کی صدائیں… یہ سب صرف ایک بات کی نشاندہی کر رہے ہیں: تحریک انصاف اب تحریک نہیں، ایک داخلی جنگ کا میدان بن چکی ہے۔ ناقدین کے مطابق تحریک انصاف میں اس وقت شدید اندرونی خلفشار جاری ہے، اور اس کی سب سے بڑی مثال پارٹی کے اندر سے اُٹھنے والی وہ آوازیں ہیں جو براہ راست وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ سیاسی مخالفین کی بجائے گنڈاپور بشریٰ بی بی گروپ کی جانب سے ہی ہی تنقید کی زد میں ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق گنڈا پور کے 90 روزہ احتجاجی پلان پر نہ صرف پی ٹی آئی اکثریتی رہنما بلکہ خود پارٹی کارکنان بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل سامنےآ رہا ہے، بشریٰ بی بی گروپ کے مطابق گنڈاپور ایک بار پھر ایک "فکس میچ” کھیلنے جا رہے ہیں۔ ایک جانب گنڈا پور نے احتجاجی قافلے کی قیادت کی، تو دوسری طرف پارٹی قیادت نے لاہور روانگی سے پہلے ہی حکومتی اداروں کو یقین دہانی کرا دی کہ کوئی ہنگامہ، کوئی گرفتاری یا غیر آئینی سرگرمی مقصود نہیں ہیں وہ صرف پکنک نما خاموش احتجاج کرنے لاہور جا رہے ہیں ناقدین کے مطابق یہ سب کچھ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پارٹی قیادت اب مزاحمت نہیں، مفاہمت کے سائے میں تحریک چلانے کا ناٹک کر رہی ہے کیونکہ پارٹی رہنما بھی جانتے ہیں کہ 26 نومبر کے احتجاج میں کارکنوں کو بے یار و مددگار چھوڑ کر بھاگنے کے بعد اب کارکنان سڑکوں پر نکلنے کو تیار نہیں۔
دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے بھی پی ٹی آئی کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر دوبارہ نومبر 2022 جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو ریاست پہلے سے زیادہ سخت ردعمل دے گی۔ دوسری جانب پارٹی بھی یہ جان چکی ہے کہ اب کارکنان سڑکوں پر نہیں نکلیں گے، صرف ٹوئٹر پر جذباتی نعروں تک محدود رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاجی پلان کو قابلِ عمل بنانے کی بجائے صرف خانہ پری کی جا رہی ہے۔ اسلام آباد میں موجود ایک باخبر ذرائع کے مطابق عمران خان کی رہائی کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ جب قیادت خود تقسیم ہو، پالیسی واضح نہ ہو، اور کارکن غیر یقینی کا شکار ہوں، تو تحریک نہیں، تماشہ برپا ہوتا ہے—اور یہی کچھ پی ٹی آئی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق تحریک انصاف اس وقت نہ صرف سیاسی جمود کا شکار ہے، بلکہ اندرونی دھڑے بندی، گروہ بندی، اور باہمی عدم اعتماد نے اسے "تحریک” کے درجے سے نیچے گرا دیا ہے۔
ایسے میں سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ گنڈا پور نے احتجاجی تحریک کے لیے عمران خان کی ہدایت کے برعکس نوے روز کے الٹی میٹم کا اعلان کیوں کیا؟ اس حوالے سے مختلف دعوے کیے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے حلقوں تک رسائی رکھنے والے ایک ذریعے کے بقول اول تو کارکنان بڑی تعداد میں باہر نکلنے کو تیار نہیں۔ اس کا ایک بڑا سب 9 مئی کے کیسز میں جیلیں اور مقدمات بھگتنے والے کارکنوں سے پارٹی قیادت کا منہ موڑنا ہے۔ پھر چھبیس نومبر کو جس طرح کارکنان لاٹھیاں، آنسو گیس اور گولیاں کھاتے رہے اور رہنما خاموشی سے نکل گئے تھے جس کے بعد اب پارٹی کارکنان کی اکثریت سوشل میڈیا پر جوش و جذبت کا مظاہرہ تو ضرور کر رہی ہے لیکن سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سوشل میڈیا ٹیم کے دباؤ پر پی ٹی آئی قیادت کو احتجاج کے لیے نکلنا بھی پڑا تو سب کچھ پہلے کی طرح نمائشی ہوگا۔
