احتجاج سے پہلےپی ٹی آئی کاہری پورکےپہاڑوں میں ٹینٹ ویلج بنانےکافیصلہ

پی ٹی آئی فیصلہ کن احتجاجی تحریک کیلئے صوابی کی بجائے ہری پور کے پہاڑوں میں ٹینٹ ویلج لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ پی ٹی آئی قیادت نے احتجاجی مظاہرے کی فنڈنگ کیلئے اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کرنے بارے حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ تاکہ احتجاج میں شریک یوتھیوں کے من ورنجن اور’’تفریح‘‘کا مکمل انتظام کیا جا سکے۔ تاہم مبصرین کے مطابق مسلسل یوٹرنز اور انتشاری پالیسیوں کی وجہ سے پی-ٹی-آئی اپنی سٹریٹ پاور کھو چکی ہے اسی لئے پی ٹی آئی قیادت نے ہری پور کے پہاڑوں میں ٹینٹ ویلج بنا کر’’گمراہ نسل‘‘ کو ’’حقیقی آزادی‘‘ کے نام پر ’’متحرک‘‘ کرنے اور ’’آزادی کے حقیقی نظریہ‘‘ کو زندہ رکھنے کے لئے آبادیوں سے نکل کر جنگلوں کا رخ کر لیا ہے جہاں وہ کھل کر اپنی’’نظریاتی سیاست‘‘ کرسکیں گے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس کا رزلٹ بھی صفر بٹا صفر ہی نکلے گا۔
پی ٹی آئی میں احتجاجی تحریک کے آغاز سے قبل ہی پارٹی میں انتشار پھوٹ چکا ہے اور احتجاج بارے مختلف پارٹی رہنما اپنی اپنی بولی بولتے دکھائی دیتے ہیں تاہم سینئر صحافی شکیل انجم کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران کی کال پر تحریک کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے اوراس بار صوابی کی بجائے ہری پور کو تحریک کے آغاز کا مرکز بناتے ہوئے پہاڑوں میں ٹینٹ ویلج لگانے کا فیصلہ کرلیاہے۔ شکیل انجم کے مطابق موسم کی شدت اور اسلام آباد سے دوری کی وجہ سے صوابی میں دھرنے کی بجائے ہری پور میں عارضی رہائش گاہیں بنانے کی پلاننگ کی جا رہی ہے شکیل انجم کا مزید کہنا ہے کہ ہری پور میں قائم کئے جانے والے ٹینٹ ویلج میں پختونخواء کے ہر ضلع کا اپنا زون ہو گا، ٹینٹ ویلج میں اسلام آباد دھرنے کی طرح نہ صرف نوجوان نسل کی’’تفریح‘‘ کا مکمل سامان موجود ہو گا بلکہ شرکاء کے لئے تمام ’’سہولیات‘‘ بھی دستیاب ہوں گی جس میں سینٹرل فنڈز کے لیے اورسیز پاکستانیوں کی مدد لینے پر غورہو رہا ہے۔
شکیل انجم کے بقول 5 اگست 2025ء کو عمران خان کو قید ہوئے دو سال بیت جائیں گےاور پاکستان تحریک انصاف اس تاریخ سے ملک گیر احتجاج شروع کرنے جا رہی ہے جس میں جمائما گولڈ سمتھ کے الزام کو بنیادی بیانیہ کے طور پر پیش کیا جائے گا شکیل انجم کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کی قیادت مبینہ طور پر’’قید تنہائی میں رکھے جانے والے عمران خان خود جیل سے کریں گے‘‘ جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی نےاس باراحتجاجی تحریک کے دوران بڑے پارٹی رہنماؤں پر اعتماد کرنے کی بجائے نچلی سطح کے کارکنوں پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شکیل انجم کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ عمران خان کے بیٹے، قاسم اور سلیمان، اپنے والد کی گرفتاری کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، دونوں بیٹے پہلے امریکہ جائیں گے اور وہاں سے پاکستان آ کر احتجاج میں شامل ہوں گے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے پی ٹی آئی کے پہلے کیے گئے احتجاج نہ صرف ناکام رہے بلکہ ان احتجاجی مظاہروں کے بعد پارٹی مزید تنہائی کا شکار ہوئی اور ہزاروں کارکن پارٹی چھوڑ گئے یا گرفتار ہوئے اور اکثر سیاست سے ہی تائب ہوگئے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں عمران خان کے بیٹوں کی شمولیت سے بھی پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک میں کچھ زیادہ توانائی پیدا نہیں ہو گی لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ قاسم اور سلیمان ریاستی طاقت کے سامنے کھڑے ہونے کی کتنی ہمت رکھتے ہیں۔ادھروزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان پانچ اگست کو پی ٹی آئی کے احتجاج کی قیادت کے لیے پاکستان آئے، تو انہیں گرفتار کیا جائے گا اور وہ مشکلات میں پڑ سکتے ہیں۔
شکیل انجم کا مزید کہنا ہے کہ یہ بات تو طے ہے کہ جمائما گولڈ سمتھ موجودہ حالات میں اپنے بچوں کو پاکستان بھیجنے اور انہیں خطرے میں دھکیلنے کے لئے تیار نہیں ہوں گی البتہ حالات انتہائی موافق ہونے کی صورت میں یہ رسک لے سکتی ہیں-البتہ پی-ٹی-آئی کے رہنماؤں کا ’’غیریقینی دعویٰ‘‘ ہے کہ 5 اگست کی تحریک کامیاب ہو گی اور قاسم اور سلیمان اپنے والد سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستان آئیں گے۔اُن کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک میں بانی کی بہنیں بھی شامل ہوں گی مگر وہ قیادت نہیں کریں گی بلکہ تحریک کو پی ٹی آئی کی قیادت اور بانی پی-ٹی-آئی کے نامزد عہدیدار لیڈکریں گے۔
شکیل انجم کے مطابق سینئر صحافی نصرت جاوید نے عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ کے ایک تازہ ٹویٹ کی بنیاد پر انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت پاکستان کے خلاف عالمی تحریک چلانے کی تیاریوں میں ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جس کا شمار انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں ہوتا۔ شکیل انجم کے بقول تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے عمران خان کے بیٹوں کو اپنے والد کی رہائی کے لئے شروع کی جانے والی تحریک کی قیادت سونپ جانے سے کئی سوالات ذہنوں میں اٹھنے لگے ہیں۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کے نیشنلٹی ہولڈرز، ریاست دشمن سرگرمیوں اور انتشار کی سیاست کی بنیاد پر پاکستان آسکتے ہیں؟ کیا یہ درست ہے کہ یہودی گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ اسرائیلی قومیت کا حامل ہوتا ہے؟ کیا کوئی اسرائیلی پاکستان کے عدالتوں اور عدالتی فیصلوں کی توہین اور چیلنج کرنے کا مجاز ہو سکتا ہے؟
