سینیٹ الیکشن،کے پی میں پی ٹی آئی اراکین کروڑوں میں بکنےکاامکان

تبدیلی، شفافیت اور نوجوان قیادت کے نعرے پر اٹھنے والی پی ٹی آئی آج خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے موقع پر شکستہ سایوں کی مانند بکھرتی دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے گروہی تضادات، بااثر امیدواروں کو نظریاتی کارکنوں پر فوقیت دینے کی حکمت عملی اور سینیٹ کی نشستوں کو مال و زر کے ترازو پر تولنے کی اطلاعات نے تحریک انصاف کی سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے۔ جس کے بعد خیبرپختونخوا میں سینیٹ کے ایک ایک ووٹ کی بولی 40سے 50کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔
مبصرین کے مطابق سینیٹ انتخابات نے پی ٹی آئی کے اندرونی انتشار کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔تحریک انصاف اب ایک ہم آہنگ نظریاتی جماعت سے زیادہ، بااثر گروپوں اور مالی طاقت رکھنے والے امیدواروں کے درمیان رسہ کشی کا میدان بن چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کی سینیٹ الیکشن بارے پالیسی پر شدید تنقید اس وقت شروع ہوئی جب سامنے آیا کہ جیلوں سے باہر موجود پارٹی قیادت نے مراد سعید اور خرم ذیشان جیسے نظریاتی اور قربانی دینے والے کارکنان کو نظر انداز کر کے مرزا آفریدی جیسے ارب پتی افرادکو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے ہی پارٹ قیادت کی سوشل میڈیا پر بینڈ بجا دی اور انھیں دیگر سیاسی جماعتوں کی پرچھائی قرار دے دیا۔ پی ٹی آئی کارکنان کے مطابق تحریک انصاف جس سیاسی کلچر کے خاتمے کیلئے میدان میں آئی تھی آج اسے سیاسی روایات کی امین بن چکی ہیں کارکنان پارٹی کیلئے ماریں کھا رہے ہیں جبکہ جیلوں سے باہر موجود قائدین اپنی جیبیں بھرنے کا کوئی موقع ضائع کرتے نظر نہیں آتے۔
خیال رہے کہ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد سے لاہور تک گنڈا پور کے قافلے کو جس فارم ہاؤس میں ٹھہرایا گیا تھا، وہ مرزا آفریدی کی ہی ملکیت بتایا جاتا ہے۔ مبینہ طور پر مرزا آفریدی نے 9 کروڑ روپے وکلا کی فیس کے لیے بھی ادا کیے ہیں، جسے سوشل میڈیا پر "سیاسی سرمایہ کاری” قرار دیا جا رہا ہے۔ارکن سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ووٹ خریدے جا رہے ہیں، تو پھر قربانی، جدوجہد اور اصول پرستی کا کیا فائدہ؟ ہمیں اب مان لینا چاہیے کہ پی ٹی آئی نے سیاسی تبدیلی لانے کی بجائے خود کو ہی سیاسی کلچر کے مطابق تبدیل کر لیا ہے۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق سینیٹ کی نشستیں اس وقت خیبرپختونخوا میں کھلی نیلامی کا منظر پیش کر رہی ہیں جہاں فی ووٹ کی قیمت 40 سے 50 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خیبرپختونخوا میں جہاں ایک طرف سینیٹ انتخابات میں سرمایہ کاروں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری جانب خیبرپختونخوا میں ایک بار پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور عاطف خان گروپ ایک بار پھر کھل کر آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ دونوں گروپوں کے مابین خاتون ٹیکنوکریٹ کی نشست پر مشعال یوسفزئی کی نامزدگی کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ گنڈا پور گروپ نے مشعال یوسفزئی کی مخالفت کر دی ہے جبکہ عاطف خان گروپ نے مشعال یوسفزئی کے کاغذات نامزدگی جمع کرا کے انہیں عمران خان کی نامزد امیدوار قرار دے دیا۔ مسئلہ یہاں تک محدود نہیں رہا بلکہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی مشعال یوسفزئی کی مخالفت میں سامنے آ گئی ہیں، جس نے معاملے کو اور بھی گمبھیر کر دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ جب تک عمران خان براہِ راست کوئی ہدایت نہیں دیتے، وہ مشعال یوسفزئی کی حمایت نہیں کر سکتے۔ اس کے باوجود پارٹی کے دو ایم پی ایز، شکیل خان اور طارق آریانی نے گنڈا پور کی ہدایت کے خلاف جا کر مشعال یوسفزئی کے کاغذات پر دستخط کر دیے۔ نتیجتاً وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے شکیل احمد کو کابینہ سے برطرف کر دیا ہے۔ تاہم یہ ساری صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ پارٹی اندر ہی اندر سلگتی چنگاریوں کا جنگل بنتی جا رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا کے سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی میں بڑی بغاوت کا خطرہ موجود ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے اندر بعض حلقے اس وقت فلور کراسنگ کے قوانین سے آزاد تصور ہو رہے ہیں، جس کے باعث یہ اندیشہ پایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی ٹکٹس پر اسمبلی پہنچنے والے خیبرپختونخوا سمبلی کے بعض آزاد اراکین پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی بجائے اپنی وفاداری "نیلامی” کے ذریعہ بدل سکتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات، گروہ بندیاں اور ذاتی مفادات اس قدر غالب آ چکے ہیں کہ پارٹی کے کچھ سینئر اراکین یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ "یہ جنرل الیکشن نہیں جہاں عوام ووٹ دیتی ہے، یہ سینیٹ ہے۔ یہاں کروڑوں میں ووٹ بکتا ہے”۔ اس لئے لگتا نہیں کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی اپنی مطلوبہ نشستیں حاسل کر پائے گی۔
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات نے پی ٹی آئی کو ایک آئینہ دکھایا ہے۔ ایسا آئینہ جس میں وہ چہرہ جھلکتا ہے جس سے پارٹی خود نظریں چرانا چاہتی ہے۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آءی میں موجودنظریاتی بحران صرف ایک صوبے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی بازگشت قومی سطح پر بھی سنائی دے رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق خیبرپختونخوا میں محض سینیٹ انتخابات نہیں ہو رہے بلکہ حقیقت میں یہ پی ٹی آئی کے نظریے کا امتحان ہے تاہم ابھی تک یہی لگتا ہے کہ سینیٹ الیکشن کے پرچے میں "نمبر اور قابلیت نہیں صرف نوٹ” چل رہے ہیں۔
