غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی جاری،مزید47فلسطینی شہید

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اورآج صبح سے اب تک صہیونی حملوں میں مزید 47 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق مقامی میڈیکل ذرائع نے بتایا ہے کہ صبح سویرے سے غزہ کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد شہید ہوئے، جن میں سے بیشتر کا تعلق غزہ شہر، شمالی اور جنوبی غزہ پٹی سے تھا۔ متعدد افراد کو امدادی مراکز کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق صرف پانی کے حصول کے دوران کیے گئے حملوں میں اب تک 700 سے زائد فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔ دفتر نے ان حملوں کو ’پیاس کی منظم جنگ‘ قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے اب تک 112 پانی بھرنے کے مقامات اور 720 پانی کے کنویں تباہ کر دیے، جس سے 12 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد صاف پانی سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال کو بین الاقوامی انسانی حقوق اور جنیوا کنونشنز کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں ماہانہ ایک کروڑ 20 لاکھ لیٹر ایندھن کی فراہمی پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے، جو پانی کے نظام، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس، کچرا اٹھانے والی گاڑیوں اور دیگر اہم خدمات کے لیے ناگزیر تھا۔ اس پابندی نے پانی اور نکاسی آب کے پورے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جس کے باعث خاص طور پر بچوں میں تیزی سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 9 مارچ کو اسرائیلی فورسز نے وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کو بجلی فراہم کرنے والی آخری لائن بھی منقطع کر دی، جس سے پینے کے پانی کی تیاری مکمل طور پر بند ہو گئی اور بحران مزید شدت اختیار کر گیا۔

Back to top button