مکہ معاہدہ خطے میں طاقت کا توازن کیسے بدلنے والا ہے؟

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ نہیں بلکہ خطے کے بدلتے ہوئے طاقت کے توازن میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ’’ایک پر حملہ سب پر حملہ‘‘ کے اصول پر مبنی یہ شراکت داری جارحانہ عزائم رکھنے والی قوتوں کے لیے واضح پیغام سمجھی جارہی ہے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت، سعودی عرب کی معاشی طاقت اور ترکیہ کی جدید دفاعی و عسکری صلاحیت اگر ایک مشترکہ اسٹریٹجک فریم ورک میں آتی ہیں تو اس کے اثرات صرف تینوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور مسلم دنیا کی سیاست پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مکہ معاہدہ مستقبل میں ایک وسیع مسلم دفاعی اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے اور بھارت، اسرائیل، امریکا سمیت دیگر طاقتیں اس نئی صف بندی کو کس نظر سے دیکھ رہی ہیں؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان علاقائی امن و سلامتی اور کسی بھی ایک ملک پر حملے کی صورت میں اجتماعی مزاحمت کے اصول پر مبنی مکہ دفاعی معاہدہ علاقائی سطح پر ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا جبکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کے امکانات کو روکنے کے لیے ایک نیا اسٹریٹجک توازن قائم ہوسکتا ہے۔
اس معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ تینوں ممالک اپنی اپنی جگہ غیر معمولی اسٹریٹجک صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے، سعودی عرب خطے کی ایک بڑی معاشی قوت ہے جبکہ ترکیہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور جنگی صلاحیت کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان تینوں طاقتوں کا ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں آنا خطے میں موجود دیگر طاقتوں کے لیے یقیناً ایک اہم پیش رفت ہے۔
مکہ معاہدے کا بنیادی اصول ’’ایک پر حملہ سب پر حملہ‘‘ قرار دیا جارہا ہے، جو کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی ردعمل کا تصور پیش کرتا ہے۔ اگر اس اصول کو عملی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف تینوں ممالک کی دفاعی پوزیشن مضبوط ہوسکتی ہے بلکہ کسی بھی فریق کو فوجی کارروائی سے پہلے ممکنہ مشترکہ ردعمل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مکہ معاہدے میں مستقبل میں مزید اسلامی ممالک کو شامل کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی تو یہ ایک وسیع تر مسلم دفاعی اتحاد کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین اس شراکت داری کو ’’مسلم ممالک کی نیٹو‘‘ سے بھی تشبیہ دے رہے ہیں۔ تاہم اس نوعیت کے کسی بڑے اتحاد کے قیام کے لیے صرف دفاعی معاہدہ کافی نہیں ہوگا بلکہ رکن ممالک کے درمیان سیاسی اتفاق، مشترکہ دفاعی حکمت عملی، انٹیلی جنس تعاون اور عملی دفاعی نظام بھی تشکیل دینا ہوگا۔
مکہ معاہدے کے علاقائی اثرات کا جائزہ لیا جائے تو بھارت اور اسرائیل اس پیش رفت کو خاص اہمیت سے دیکھنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ بھارت کی جانب سے معاہدے کے اعلان کے بعد یہ کہنا کہ وہ خطے میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دفاعی شراکت داری کو نئی دہلی میں بھی سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت اور سعودی عرب و ترکیہ کے ساتھ اس کا بڑھتا ہوا دفاعی تعاون بھارت کے لیے جنوبی ایشیا کے سیکیورٹی منظرنامے میں ایک اہم تبدیلی ہوسکتا ہے۔
اسرائیل کے لیے بھی یہ معاہدہ اس لیے اہم ہے کہ سعودی عرب اور ترکیہ دونوں مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اہم کردار رکھتے ہیں جبکہ پاکستان کی شمولیت اس اتحاد کو جنوبی ایشیا تک وسعت دیتی ہے۔ اگر یہ دفاعی شراکت داری مستقبل میں مزید اسلامی ممالک تک پھیلتی ہے تو اسرائیل کے لیے خطے میں طاقت کے نئے توازن کو سمجھنا اور اس کے مطابق اپنی سیکیورٹی پالیسی تشکیل دینا ضروری ہوگا۔
مکہ معاہدے کا ایک اور اہم پہلو امریکا کے علاقائی کردار سے متعلق ہے۔ مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازعات اور جنگی صورتحال کے بعد بعض خلیجی ممالک اپنی سیکیورٹی ضروریات کے لیے صرف ایک بڑی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ سعودی عرب کا دفاعی تعاون ایک متبادل سیکیورٹی فریم ورک کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
خلیجی ممالک کی ممکنہ شمولیت بھی اس معاہدے کو مزید اہم بنا سکتی ہے۔ بعض ممالک اس نوعیت کے دفاعی تعاون میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ کچھ ممالک محتاط رویہ اختیار کرسکتے ہیں۔ بحرین اور اردن کے حوالے سے بھی ایسے مذاکرات میں دلچسپی کا ذکر سامنے آیا ہے، جبکہ عمان ممکنہ طور پر اس اتحاد کا حصہ بننے سے گریز کرسکتا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر خلیجی ممالک اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ خطے کی سلامتی ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے میں پاکستان کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان نہ صرف جوہری صلاحیت رکھنے والی مسلم ریاست ہے بلکہ اس کی سعودی عرب کے ساتھ طویل عرصے سے دفاعی اور برادرانہ تعلقات کی تاریخ بھی موجود ہے۔ ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے دفاعی اور دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے روابط بھی اس شراکت داری کو مزید اہم بناتے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی معاہدے سے متعلق سرگرمیوں اور موجودگی کو بھی پاکستان کے کردار کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ پاکستان اس شراکت داری کو اپنے دیرینہ تاریخی تعلقات، اسلامی یکجہتی اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کے تناظر میں آگے بڑھا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں بھی اس کی علاقائی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
اگر مکہ معاہدہ صرف ایک دفاعی دستاویز کے بجائے طویل المدت اسٹریٹجک تعاون کا پلیٹ فارم بن جاتا ہے تو اس کے اثرات دفاعی شعبے سے کہیں آگے جاسکتے ہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ، سائبر سیکیورٹی، تربیت اور مشترکہ دفاعی پیداوار کے شعبوں میں تعاون بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی اور تجارتی تعاون میں اضافے کی صورت میں یہ شراکت داری ایک وسیع تر اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
تاہم کسی بھی دفاعی اتحاد کی کامیابی کا انحصار اس کے اعلان سے زیادہ عملی اقدامات پر ہوتا ہے۔ اگر تینوں ممالک مشترکہ کمانڈ اسٹرکچر، انٹیلی جنس تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں اور واضح دفاعی ذمہ داریوں کا نظام قائم کرتے ہیں تو معاہدے کی مؤثریت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ دوسری صورت میں یہ صرف ایک سیاسی اور سفارتی اعلان تک محدود رہنے کا خطرہ بھی رکھتا ہے۔
مجموعی طور پر مکہ دفاعی معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا دونوں میں سیکیورٹی کے روایتی تصورات تبدیل ہورہے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں آنا نہ صرف جارحیت کے خلاف ایک ممکنہ ڈیٹرنس پیدا کرتا ہے بلکہ مسلم دنیا میں دفاعی تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا کرتا ہے۔

 

ایران سے کشیدگی، پاکستان اور ترکی نے اپنا وزن سعودیہ کے پلڑے میں کیسے ڈالا؟

مبصرین کے مطابق اصل سوال اب یہ نہیں کہ مکہ معاہدہ کتنا اہم ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اس معاہدے کو ایک مؤثر، مستقل اور وسیع تر علاقائی دفاعی شراکت داری میں تبدیل کر پاتے ہیں؟ اگر مزید اسلامی ممالک بھی اس فریم ورک کا حصہ بن گئے تو مکہ معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کے دفاعی تعاون کی تاریخ میں بھی ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔

Back to top button