ایران سے کشیدگی، پاکستان اور ترکی نے اپنا وزن سعودیہ کے پلڑے میں کیسے ڈالا؟

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے نئے دفاعی معاہدے نے خطے کے سیکیورٹی منظرنامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات صرف عسکری معاملات تک محدود رہنے کے بجائے علاقائی سیاست، ایران، بھارت، اسرائیل اور امریکا سمیت کئی اہم فریقوں کے لیے بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کے مطابق سعودی عرب کے تحفظ کے لیے اس نوعیت کے معاہدے پر پہلے ہی بات چیت جاری تھی، تاہم نئے معاہدے میں ترکیہ اور پاکستان کو شامل کرکے دفاعی تعاون کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی معاہدہ بھی اپنی اہمیت برقرار رکھتا ہے۔ اس معاہدے میں یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، تاہم اس کی عملی تفصیلات کبھی منظرعام پر نہیں لائی گئیں۔ نئے معاہدے میں بھی ممکنہ خطرات اور مختلف صورتحال میں فراہم کی جانے والی امداد کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، لیکن نجم سیٹھی کے خیال میں تینوں ممالک نے مختلف ممکنہ حالات میں اپنے ردعمل اور ایک دوسرے کو فراہم کی جانے والی مدد کا طریقہ کار طے کرلیا ہے۔
ان کے مطابق ترکیہ اس شراکت داری میں جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور بالخصوص ڈرونز کے حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ سعودی عرب ترکیہ سے جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور دیگر دفاعی سازوسامان حاصل کرسکتا ہے، جبکہ اس تعاون سے ترکیہ کی دفاعی صنعت کے لیے بھی سعودی مارکیٹ میں مزید مواقع پیدا ہوں گے۔ اس طرح دفاعی معاہدہ صرف سیکیورٹی تعاون تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ پیداوار اور صنعتی شراکت داری کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
اس معاہدے کا ایک اہم پہلو ایران سے متعلق ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق پاکستان نے ایران کو بھی ان معاملات سے آگاہ کیا ہے تاکہ اسے معلوم ہو کہ خطے میں کچھ واضح سرخ لکیریں موجود ہیں جنہیں عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے خیال میں ایران اس معاہدے کا انتہائی غور سے جائزہ لے گا اور ممکنہ طور پر ایسے حالات پیدا نہیں کرنا چاہے گا جن کے نتیجے میں یہ دفاعی معاہدہ عملی طور پر فعال ہوجائے۔ یوں نئے معاہدے کے ذریعے ایران کو ایک واضح پیغام دیا گیا ہے کہ مخصوص حالات میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے شدہ دفاعی تعاون کس سمت جاسکتا ہے۔
جنوبی ایشیا کے تناظر میں بھارت کے لیے بھی یہ پیش رفت اہم قرار دی جارہی ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو سعودی عرب کس نوعیت کی مدد فراہم کرے گا، اس کی مکمل تفصیلات فی الحال سامنے نہیں آئیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو سعودی عرب کی ممکنہ پوزیشن اور اس کی ترجیحات کا اندازہ ہوگا، جبکہ ایران کو بھی پاکستان کی ممکنہ مجبوریوں اور ترجیحات کا علم ہوگا۔ اس صورتحال میں نیا دفاعی تعاون پاکستان کے لیے خطے میں ایک اضافی اسٹریٹجک سپورٹ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق معاہدے میں طے پانے والی بنیادی باتوں سے اسرائیل اور امریکا بھی آگاہ ہوں گے۔ یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ سعودی عرب روایتی طور پر امریکی سیکیورٹی نظام کا ایک اہم حصہ رہا ہے، لیکن حالیہ عرصے میں ریاض نے اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں زیادہ خودمختاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاسکتا ہے جس کے تحت وہ اپنی سیکیورٹی ضروریات کے لیے مختلف طاقتوں کے ساتھ متبادل شراکت داریاں قائم کررہا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ کیا مزید خلیجی ممالک اس نوعیت کے دفاعی تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں۔ نجم سیٹھی کے مطابق مستقبل میں مزید خلیجی ممالک اس طرح کے تعاون میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کویت بھی پاکستان کے ساتھ کسی معاہدے کا خواہاں ہے، تاہم پاکستان ممکنہ طور پر کویت کے ساتھ اسی نوعیت کا دفاعی معاہدہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات اب بھی امریکی سیکیورٹی نظام سے قریبی طور پر منسلک ہیں، جبکہ سعودی عرب نے اپنی آزادانہ دفاعی شراکت داریوں کو آگے بڑھانا شروع کردیا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مکہ مکرمہ میں ہونے والا یہ دفاعی معاہدہ صرف تین ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون نہیں بلکہ خطے میں بدلتے ہوئے اسٹریٹجک توازن کی علامت بھی بن سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت بھارت کے تناظر میں، سعودی عرب کے لیے ایران اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں جبکہ ترکیہ کے لیے اپنی دفاعی صنعت اور علاقائی اثر و رسوخ کے حوالے سے نمایاں ہے۔ تاہم معاہدے کی اصل اہمیت اس وقت واضح ہوگی جب اس کی خفیہ یا غیر اعلانیہ تفصیلات کے بجائے عملی اقدامات سامنے آئیں گے۔
کیا واقعی مکہ معاہدہ پاکستان کی قسمت بدلنے والا ہے؟
نجم سیٹھی کے تجزیے کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ نئے دفاعی معاہدے کے ذریعے ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کچھ واضح سرخ لکیریں موجود ہیں اور انہیں عبور کرنے کی صورت میں ممکنہ ردعمل پہلے سے زیرِ غور ہے۔ اگر یہ شراکت داری دفاعی تعاون سے آگے بڑھ کر ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون تک پہنچتی ہے تو اس کے اثرات صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے سیاسی اور معاشی توازن پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
