کیا واقعی مکہ معاہدہ پاکستان کی قسمت بدلنے والا ہے؟

مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کو خطے کے بدلتے ہوئے اسٹریٹجک منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس معاہدے کی اصل اہمیت شاید دفاعی تعاون سے کہیں آگے نکل جائے۔ تینوں ممالک اگر دفاعی شراکت داری کو تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون تک وسعت دیتے ہیں تو پاکستان کے لیے یہ معاہدہ معاشی بحالی کا ایک غیر معمولی موقع بن سکتا ہے۔ تینوں ممالک کی مجموعی معیشت تین کھرب ڈالر سے زیادہ اور مجموعی آبادی تقریباً 38 کروڑ ہے، ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ایک نئی معاشی مثلث کی بنیاد بھی بن سکتا ہے؟
مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ عالمی اور علاقائی سطح پر نئی اسٹریٹجک صف بندی کی بحث کو جنم دے چکا ہے۔ اگرچہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانا ہے، تاہم ماہرین کے نزدیک اس کے اثرات صرف عسکری میدان تک محدود رہنے کے بجائے معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور صنعتی تعاون تک پھیل سکتے ہیں۔
پاکستان ایک ایسے وقت میں معاشی استحکام کی کوشش کر رہا ہے جب اسے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے، برآمدات بڑھانے، توانائی کے تحفظ، صنعتی پیداوار اور روزگار کے نئے مواقع کی شدید ضرورت ہے۔ ایسے میں سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ گہرا اسٹریٹجک تعاون پاکستان کے لیے ایک بڑے معاشی موقع میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں اپنی اپنی جگہ اہم علاقائی معیشتیں ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ترکیہ کی معیشت تقریباً 1.4 کھرب ڈالر، سعودی عرب کی تقریباً 1.28 کھرب ڈالر جبکہ پاکستان کی معیشت تقریباً 410 سے 420 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔
یوں تینوں ممالک کی مجموعی معاشی طاقت تین کھرب ڈالر سے تجاوز کرتی ہے۔
صرف معاشی حجم ہی نہیں بلکہ آبادی کے اعتبار سے بھی یہ شراکت داری غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ تینوں ممالک کی مجموعی آبادی تقریباً 38 کروڑ افراد پر مشتمل ہے، جو جنوبی ایشیا، خلیج، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک وسیع معاشی رابطہ پیدا کر سکتی ہے۔

اگر اس بڑی مارکیٹ کو مشترکہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے لیے استعمال کیا جائے تو تینوں ممالک ایک دوسرے کے لیے نہ صرف بڑی منڈی بلکہ سرمایہ اور ٹیکنالوجی کے اہم ذرائع بھی بن سکتے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کے باوجود باہمی تجارت اب بھی دونوں ممالک کی معاشی صلاحیت کے مقابلے میں محدود ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 4 سے 5 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔

یہ حجم بظاہر بڑا دکھائی دیتا ہے لیکن سعودی عرب کی معیشت، پاکستان کی بڑی مارکیٹ اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو دیکھا جائے تو تجارت میں مزید کئی گنا اضافے کی گنجائش موجود ہے۔

سعودی عرب پاکستان میں توانائی، معدنیات، انفرا اسٹرکچر، زراعت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کرتا رہا ہے۔ اگر دفاعی تعاون کے ساتھ معاشی تعاون کو بھی ادارہ جاتی شکل دی جائے تو سعودی سرمایہ کاری پاکستان کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بھی قریبی سیاسی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک کی باہمی تجارت تقریباً 1.3 سے 1.5 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔

اس کے مقابلے میں سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تجارت 8.5 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔

دونوں ممالک اسے مستقبل قریب میں 10 ارب ڈالر اور طویل مدت میں 30 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھتے ہیں۔
یہ اعداد پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود معاشی روابط کو پاکستان کے ساتھ بھی جوڑا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے لیے اس ممکنہ شراکت داری کا سب سے اہم پہلو یہ ہوسکتا ہے کہ تینوں ممالک اپنی مختلف معاشی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑیں۔

سعودی عرب کے پاس سرمایہ کاری کی بڑی صلاحیت ہے، ترکیہ دفاعی و صنعتی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ میں نمایاں تجربہ رکھتا ہے، جبکہ پاکستان کے پاس بڑی افرادی قوت، وسیع صارف مارکیٹ اور خطے میں اہم جغرافیائی محل وقوع موجود ہے۔

اگر ان تینوں صلاحیتوں کو ایک مشترکہ معاشی فریم ورک میں لایا جائے تو دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی، زراعت، تعمیرات، توانائی، معدنیات، لاجسٹکس اور برآمدات کے شعبوں میں نئے منصوبے شروع کیے جاسکتے ہیں۔

پاکستان کی معاشی ترقی کے راستے میں توانائی ایک بنیادی چیلنج رہی ہے۔ سعودی عرب توانائی کے شعبے میں عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت ہے، جبکہ ترکیہ بھی توانائی، انفرا اسٹرکچر اور صنعتی منصوبوں میں وسیع تجربہ رکھتا ہے۔

اگر تینوں ممالک توانائی کے شعبے میں مشترکہ منصوبے شروع کرتے ہیں تو پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، توانائی کے تحفظ اور صنعتی پیداوار میں اضافے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

خاص طور پر طویل المدت سرمایہ کاری کے ذریعے توانائی کے منصوبے پاکستان کی صنعتی لاگت کم کرنے اور برآمدی مسابقت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

مکہ معاہدے کا ایک اور ممکنہ معاشی پہلو دفاعی صنعت ہے۔

پاکستان اور ترکیہ پہلے ہی دفاعی شعبے میں تعاون کر رہے ہیں جبکہ سعودی عرب اپنی دفاعی صلاحیت اور مقامی دفاعی صنعت کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اگر مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی منتقلی، تحقیق و ترقی اور دفاعی مصنوعات کی برآمدات تک پہنچتا ہے تو اس سے پاکستان اور ترکیہ کی دفاعی صنعت کو نئی منڈیاں مل سکتی ہیں، جبکہ سعودی عرب اپنی دفاعی خود انحصاری کے اہداف کو آگے بڑھا سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا فائدہ اس وقت سامنے آئے گا جب مکہ معاہدہ صرف دفاعی تعاون تک محدود نہ رہے بلکہ اسے ایک وسیع معاشی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔

اس کے لیے تینوں ممالک کے درمیان تجارت میں آسانی، سرمایہ کاری کے تحفظ، مشترکہ صنعتی منصوبوں، بینکنگ و مالیاتی تعاون، ٹیکنالوجی منتقلی اور کاروباری روابط کو فروغ دینا ہوگا۔

پاکستان اگر اس شراکت داری کو صرف مالی معاونت یا سرمایہ کاری حاصل کرنے کے بجائے برآمدات بڑھانے اور صنعتی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے تو اس کے طویل المدت اثرات زیادہ مثبت ہوسکتے ہیں۔

مکہ معاہدے کے بعد بعض مبصرین کی جانب سے اسے "اسلامک نیٹو” سے بھی تشبیہ دی جا رہی ہے، تاہم اس اصطلاح سے قطع نظر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعاون مستقبل میں دفاعی دائرے سے نکل کر معاشی شراکت داری میں تبدیل ہوسکتا ہے؟

اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ایک ایسا تعاون کا ماڈل تشکیل پاسکتا ہے جس میں سیکیورٹی، سرمایہ، ٹیکنالوجی، تجارت اور صنعتی پیداوار ایک دوسرے سے منسلک ہوں۔

یہی وہ پہلو ہے جو مکہ معاہدے کو پاکستان کے لیے محض دفاعی پیش رفت کے بجائے ایک ممکنہ معاشی موقع بناتا ہے۔

تاہم کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے اعلان پر نہیں بلکہ عملدرآمد، سرمایہ کاری کے حقیقی منصوبوں اور باہمی تجارت میں عملی اضافے پر ہوتا ہے۔

پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید بہتر، پالیسیوں کو مستقل اور کاروباری عمل کو آسان بنانا ہوگا۔ اسی طرح سعودی اور ترک سرمایہ کاروں کے لیے واضح اور طویل المدت منصوبے پیش کرنا بھی ضروری ہوگا۔

اگر یہ اقدامات کیے جاتے ہیں تو مکہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک ایسے معاشی راستے کی بنیاد بن سکتا ہے جس میں سعودی سرمایہ، ترک صنعتی و تکنیکی صلاحیت اور پاکستانی مارکیٹ و افرادی قوت ایک دوسرے کی طاقت بن جائیں۔

 

12 صوبے، 20 صوبے یا 38 ڈویژنز؟ پاکستان میں کیا ہونےوالا ہے؟

یوں مکہ معاہدے کا اصل امتحان دفاعی تعاون نہیں بلکہ یہ ہوگا کہ کیا تینوں ممالک اس اسٹریٹجک شراکت داری کو تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کی مستقل شراکت داری میں تبدیل کر پاتے ہیں۔

Back to top button