12 صوبے، 20 صوبے یا 38 ڈویژنز؟ پاکستان میں کیا ہونےوالا ہے؟

پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی تجویز اور حالیہ دنوں میں اس معاملے پر سامنے آنے والے بیانات کے بعد سیاسی و انتظامی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، تاہم اس بحث کو اب معاشی زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے نمایاں کاروباری ماہرین پر مشتمل معاشی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ کی رپورٹ نے ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے، آبادی کے دباؤ، غربت اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے تین ممکنہ ماڈلز پیش کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 12 چھوٹے صوبے، 15 سے 20 صوبے یا پھر 38 وفاقی ڈویژنز قائم کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ ایک مرتبہ پھر قومی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی ضرورت پر بات کیے جانے کے بعد سیاسی، انتظامی اور معاشی حلقوں میں اس موضوع پر بحث تیز ہوئی ہے۔
اس بحث کو اس وقت مزید اہمیت حاصل ہوئی جب ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی حالیہ پریس کانفرنس میں نئے انتظامی یونٹس کے تصور کی حمایت سامنے آئی۔ تاہم نئے صوبوں کا معاملہ محض سیاسی یا انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے گہرے معاشی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان کے نمایاں کاروباری افراد پر مشتمل اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ نامی معاشی تھنک ٹینک کی گزشتہ برس جاری کردہ رپورٹ اہم نکات سامنے لاتی ہے۔ رپورٹ میں موجودہ انتظامی ڈھانچے کو ملک کے بڑھتے ہوئے معاشی مسائل سے نمٹنے میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے نئے انتظامی ماڈلز پر غور کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
تھنک ٹینک کی رپورٹ میں پہلے منظرنامے کے طور پر پاکستان میں 12 چھوٹے صوبے قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 12 صوبوں کے قیام کی صورت میں ہر صوبے کی اوسط آبادی تقریباً دو کروڑ تک ہوسکتی ہے، جبکہ ہر صوبے کا بجٹ تقریباً 994 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نسبتاً چھوٹے انتظامی یونٹس کے ذریعے حکومتی وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور ترقیاتی منصوبہ بندی کو مقامی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
دوسرے منظرنامے میں تھنک ٹینک نے ملک میں 15 سے 20 چھوٹے صوبے بنانے کا ماڈل پیش کیا ہے۔
اس ماڈل کے تحت ہر صوبے کی آبادی تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 60 لاکھ افراد کے درمیان ہوسکتی ہے، جبکہ صوبائی بجٹ کا حجم تقریباً 600 سے 800 ارب روپے تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اس تجویز کے حامیوں کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس کے ذریعے حکومتیں عوام کے قریب آسکتی ہیں، جس سے بنیادی سہولیات، روزگار، تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں تک رسائی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
رپورٹ میں تیسرا اور نسبتاً مختلف ماڈل 38 وفاقی ڈویژنز کے قیام کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔
اس منظرنامے کے مطابق پاکستان کی موجودہ مجموعی آبادی کو 38 انتظامی ڈویژنز میں تقسیم کیا جائے تو ہر ڈویژن کی اوسط آبادی تقریباً 63 لاکھ افراد بنتی ہے۔
تھنک ٹینک کے مطابق اس ماڈل کے ذریعے مختلف علاقوں کے لیے ان کی مخصوص معاشی ضروریات کے مطابق ٹارگٹڈ معاشی اقدامات شروع کیے جاسکتے ہیں۔
رپورٹ میں 2023 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 76 لاکھ، سندھ کی 5 کروڑ 56 لاکھ، خیبر پختونخوا کی 4 کروڑ 8 لاکھ اور بلوچستان کی ایک کروڑ 48 لاکھ ہے۔
یعنی پاکستان کی تقریباً 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی صرف چار صوبوں میں آباد ہے۔
تھنک ٹینک کا مؤقف ہے کہ اتنی بڑی آبادی کو صرف چار صوبائی انتظامی ڈھانچوں کے ذریعے مؤثر انداز میں چلانا کئی معاشی اور انتظامی مشکلات پیدا کرتا ہے، جبکہ آبادی میں مسلسل اضافے سے یہ دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں صوبوں کے درمیان غربت اور وسائل کی تقسیم کے فرق کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں غربت کی شرح 48 فیصد جبکہ سندھ میں 45 فیصد تک بتائی گئی ہے۔
تھنک ٹینک کے مطابق صوبوں میں اوسط غربت کی شرح تقریباً 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ آبادی کے دباؤ اور وسائل کی ضرورت میں فرق معاشی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
رپورٹ میں صوبوں کو فراہم کیے جانے والے وسائل کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق پنجاب کو تقریباً 5 ہزار 355 ارب روپے جبکہ بلوچستان کو ایک ہزار 28 ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
معاشی تھنک ٹینک کے مطابق چھوٹے صوبوں کے قیام سے نہ صرف بجٹ کے استعمال کو زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے بلکہ مقامی سطح پر ترقیاتی ترجیحات کا تعین بھی بہتر انداز میں ممکن ہوگا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں، غربت میں کمی لائی جاسکتی ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔
تاہم نئے صوبوں کا قیام ایک پیچیدہ آئینی، سیاسی اور انتظامی عمل ہے۔ اس کے لیے صرف معاشی جواز کافی نہیں ہوگا بلکہ قومی اتفاقِ رائے، آئینی ترامیم، وسائل کی تقسیم، انتظامی اخراجات اور سیاسی نمائندگی جیسے اہم معاملات پر بھی وسیع مشاورت درکار ہوگی۔
پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث دراصل صرف اس سوال تک محدود نہیں کہ ملک میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی، غربت، بے روزگاری اور علاقائی عدم مساوات کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
معاشی تھنک ٹینک کی رپورٹ نے اس بحث کو تین واضح ماڈلز—12 صوبے، 15 سے 20 صوبے یا 38 وفاقی ڈویژنز—کے ذریعے ایک نئی سمت دی ہے۔
پی سی بی کا قومی کرکٹرز کو غیر ملکی لیگز کے لیے این او سی جاری
اب یہ فیصلہ سیاسی قیادت، پارلیمان، ماہرین معیشت اور عوامی نمائندوں کو کرنا ہوگا کہ پاکستان کے لیے کون سا انتظامی ماڈل زیادہ مؤثر، قابلِ عمل اور معاشی طور پر پائیدار ہوسکتا ہے۔
