عمران اور چھوٹے چوہدری کا ہنی مون کتنا عرصہ چلے گا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان ماضی میں جس پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا کرتے تھے، اسے وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیا اور جس مونس الٰہی کی انہیں شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں تھی وہ آج انکی آنکھ کا تارا ہیں۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اور چوہدری برادران کا اتحاد کتنا دیرپا ثابت ہوتا ہے؟

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ گجرات کے سیانے چوہدری پرویز الٰہی ان سیاست دانوں میں شامل ہیں جو ماضی میں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں کے لیے قابلِ قبول ہوا کرتے تھے۔ چوہدری برادران کو 80 کی دہائی میں جنرل جیلانی اور جنرل ضیاء الحق نے شریف برادران کا ساتھ دینے کا کہا تھا کیونکہ اس وقت مقصد پی پی پی کو پنجاب سے ختم کرنا تھا۔ تب بھٹو کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے تو وہ سیاست میں نومولود تھے۔ حسین حقانی اور کچھ دوسرے صحافیوں اور دانشوروں کو ان کی سیاسی تربیت کے لیے رکھا گیا۔ مئی 1988 میں جنرل ضیاء اپنے ہی لگائے ہوئے وزیراعظم محمد خان جونیجو سے ناراض ہوئے تو نہ صرف انہیں اقتدار سے فارغ کیا بلکہ اس مسلم لیگ سے بھی نکال دیا جو 1985 کے الیکشن کے بعد معرض وجود میں آئی تھی۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ پاکستان میں اگر کوئی کامیاب سیاسی جماعت یا گروپ بنانا ہو تو اپنے نام سے پہلے بس مسلم لیگ لکھ لیں۔ جب جونیجو صاحب مسلم لیگ سے فارغ ہوئے تو میاں صاحب کی لاٹری نکل آئی اور وی اسکے سربراہ بن گے۔
چوہدری شجاعت نے اپنی کتاب میں شریفوں کی بے وفائی کا ذکر تفصیل سے کیا ہے مگر اب تو انکے اپنے گھر کو آگ لگ چکی ہے گھر کے چراغ سے اور انکا خاندان دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ 1988 میں ISI کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے بینظیر بھٹو کا راستہ روکنے کے لیے اسلامی جمہوری اتحاد بنایا تو شریف اور چوہدری خاندان ساتھ ساتھ تھے۔ 1990 میں بےنظیر حکومت کا خاتمہ ہوا تو غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگران وزیراعظم بنایا گیا۔ جتوئی صاحب نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ’’طے تو یہ ہوا تھا کہ وہ الیکشن کے بعد وزیراعظم بنیں گے، لیکن جنرل مرزا اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ کے بعد بازی پلٹ دی گئی اور میاں صاحب وزیر اعظم بن گئے۔

پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل سے بلوچ نوجوان کس نے اغوا کیا؟

بقول مظہر عباس، چوہدریوں کو یقین تھا کہ اب پنجاب کی وزارت اعلیٰ انہیں ملے گی مگر غلام حیدر وائیں کو وزیر اعلی بنا دیا گیا۔ لیکن 1997 میں جب دوسری بار میاں صاحب وزیر اعظم بنے تو یہ طے ہوچکا تھا کہ چوہدری شجاعت وزیر داخلہ اور پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب ہونگے۔ مگر شہباز شریف ضد کر کےوزیر اعلیٰ بن گئے۔ چنانچہ چوہدری خاندان نے شریف خاندان کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور مناسب موقعے کا انتظار کرنے لگے۔ 12 اکتوبر 1999 کو شریفوں کے برے اور چوہدریوں کے اچھے دن شروع ہو گئے جو آج تک جاری ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ چوہدری خاندان تقسیم ہو چکا ہے لیکن پھر بھی اس کے دونوں دھڑے اقتدار میں ہیں۔

مظہر عباس بتاتے ہیں کہ جنرل مشرف نے 2002 کے الیکشن میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو باہر رکھنے کا فیصلہ کیا تو عمران خان نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور مشرف کو سیاست کا مسیحا قرار دے دیا۔ تاہم جب الیکشن کا وقت آیا تو عمران کو صرف اپنی نشست مل سکی، چنانچہ مشرف نے اپنا دست شفقت چوہدریوں کے سر پر رکھ دیا اور یوں پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ پرویز نے پانچ سال ڈٹ کر حکومت کی۔ بےنظیر بھٹو کے اس خط کا بڑا ذکر رہا ہے جس میں انہون نے خود پر ہونے والے کراچی حملے کی سازش کا الزام دیگر افراد کے علاوہ پرویز الٰہی اور اعجاز شاہ پر بھی عائد کیا تھا۔ 2008 میں الیکشن ہوئے تو پی پی پی اور مسلم لیگ (ن)کی مشترکہ حکومت بنی مگر ججز کی بحالی پر اختلاف ہونے لگا تو زرداری صاحب نے چوہدریوں کو اپنا ہمنوا بنالیا۔

بقول مظہر عباس، پرویز الٰہی نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ آصف زرداری میرے پاس یہ پیغام لے کر آئے تھے کہ ’’پرانی دشمنی ختم کریں تاکہ ہمارے بچے بطور دشمن جوان ہونے کی بجائے بطور دوست جوان ہوں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پرویز الٰہی ڈپٹی وزیراعظم بن گئے اب آئین میں اس کی گنجائش تھی یا نہیں۔ مظہر کہتے ہیں کہ عمران کیلئے وہ لمحہ بہت تکلیف دہ تھا جب 2018 کے الیکشن کے بعد انہیں گجرات کے چوھدریوں کے ساتھ مل کر پنجاب میں حکومت بنانا پڑی، وہ کہتے ہیں ناں ’’وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ اک دم نہیں ہوتا‘‘۔ ساڑھے تین برس کے اقتدار میں ان کی گفتگو صرف تب ہوتی جب عمران خان مشکل میں ہوتے۔

عمران کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو زرداری اور چوہدری ایک پیچ پر تھے۔ پرویز الہی کو وزیر اعلی بنانے کا فیصلہ کرنے کے بعد زرداری ہائوس میں ’دعا‘ کی گئی، ’ماشاء اللہ‘ رب کی شان ہے۔ پرویز الٰہی صاحب وہاں سے روانہ ہوئے تو اچانک ایک ’نامعلوم نمبر سے کال آگئی‘ اور انکی گاڑی کا رُخ بنی گالہ کی طرف ہو گیا ۔ وہ دن اور آج کا دن، پرویز الہی کی گاڑی وہیں پارک ہے۔ وقت وقت کی بات ہے، عمران کو کل تک جن کی شکل پسند نہیں تھی وہی مونس الٰہی آج ان کی آنکھ کا تارا ہیں اور وہ پرویزالٰہی جو بقول خان صاحب پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو تھے، آج ان کے وزیر اعلی ہیں۔ یعنی رنگ بدلتا ہے آسماں کیسے کیسے؟

Back to top button