دنیا میں پہلی بار ایک انسان کے دماغ میں زندہ کیڑا دریافت

طبی تاریخ میں پہلی بار ایک انسان کے دماغ سے زندہ طفیلی کیڑے کو دریافت کیا گیا ہے۔یہ منفرد واقعہ آسٹریلیا کے شہر کینبرا میں سامنے آیا۔کینبرا سے تعلق رکھنے والی نیورو سرجن ڈاکٹر ہری پریا نے ایک خاتون کے دماغ میں راؤنڈ وارم کو دریافت کیا۔
2022 میں مریضہ کو چیزیں بھول جانے اور ڈپریشن جیسی علامات کا سامنا ہوا جس کے بعد انہیں کینبرا کے اسپتال بھیجا گیا۔اسپتال میں دماغ کے ایم آر آئی اسکین کے دوران غیر معمولی خرابیوں کا انکشاف ہوا جس کے لیے سرجری کی ضرورت تھی۔
مگر ڈاکٹروں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ انہیں ایک زندہ طفیلی کیڑا ملے گا جسے سرجری سے نکال دیا گیا۔
اس حیران کن دریافت کے بعد اسپتال کی ایک ٹیم نے اکٹھے ہوکر یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ کس قسم کا راؤنڈ وارم ہے جبکہ یہ بھی دیکھنا تھا کہ مریضہ کو مزید علاج کی ضرورت ہے یا نہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق انہوں نے کتابوں میں مختلف اقسام کے راؤنڈ وارمز کو دیکھا مگر ناکامی کا سامنا ہوا اور اس وجہ سے ماہرین سے مدد طلب کرنا پڑی۔
اس کیڑے کو طفیلی کیڑوں کے شعبے میں مہارت رکھنے والے ایک سائنس دان کو بھیجا گیا جس نے بتایا کہ یہ Ophidascaris robertsi ہے۔
اس قسم کے راؤنڈ وارم عموماً پائیتھون سانپوں میں پائے جاتے ہیں اور یہ پہلی بار تھا کہ کسی انسان میں بھی اسے دریافت کیا گیا۔
ڈاکٹروں نے مزید جانچ پڑتال کی تو انہیں علم ہوا کہ مریضہ ایک جھیل کے قریب رہتی ہے جہاں کارپٹ پائیتھون پائے جاتے ہیں۔
اگرچہ مریضہ کا براہ راست کسی سانپ سے سامنا نہیں ہوا مگر وہ اکثر جھیل کے پاس سے گھاس اکٹھا کرتی تھی۔
ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ کسی سانپ نے طفیلی کیڑے کو اپنے اندر سے فضلے کے ذریعے خارج کیا ہوگا جو گھاس میں رہ گیا اور مریضہ نے اس جگہ کو چھولیا
9مئی کے جلاؤ گھیراؤ میں پی ٹی آئی کارکن نہیں کوئی اور ملوث تھا
یا وہ گھاس کھالی جس سے راؤنڈ وارم جسم کے اندر چلا گیا۔
