عمران خطرناک ہونے کی دھمکی پر عمل کب کریں گے؟

سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود اپنے جلسے جاری رکھنے والے سابق وزیراعظم عمران خان نے اب سیلاب زدہ پاکستانی قوم کو بتایا ہے کہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اور بھی ذیادہ خطرناک ہوتے چلے جا رہے ہیں، ایسا کہتے ہوئے وہ بھول گئے کہ سیاسی رہنما خطرناک نہیں ہوتے، بلکہ قوم کے خیر خواہ ہوتے ہیں اور آفت کے دوران عوام کو ڈرانے کے بجائے ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں، دوسری جانب حکومتی وزرا خان صاحب کو بار بار چیلنج دے رہے ہیں کہ وہ اب خطرناک ہو کر دکھائیں اور جس کا نام لینا چاہتے ہیں لے کر دکھائیں۔

روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ عمران خان ہماری تاریخ کے شناور ہیں۔ انہوں نے اپنی وزارت عظمیٰ کے آخری دنوں میں فرمایا تھا کہ میں اقتدار سے نکل کر خطرناک ہو جائوں گا، اب انہوں نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر یہ فرمایا ہے کہ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید خطرناک ہو رہا ہوں۔ ایک صحافی کی جانب سے اس سوال پر کہ کیا ان کی اہلیہ نے ملک ریاض سے ہیروں کا ہار وصول کیا تھا، عظیم رہنما نے کہا کہ ہیرے تو سستے ہوتے ہیں، تم کسی مہنگی چیز کی بات کرو، اس خوبصورت مکالمے سے معلوم ہو گیا کہ عمران خان مغربی دنیا ہی کو سب سے بہتر نہیں جانتے، وہ ہماری فلمی روایت سے بھی بخوبی آشنا ہیں۔

یاد رہے کہ بحریہ ٹاؤن کے ارب پتی مالک ملک ریاض حسین اور ان کی صاحبزادی امبر کے مابین ٹیلی فونک گفتگو کی لیک ہونے والی آڈیو میں ہیرے کی انگوٹھی کا تذکرہ تھا جوکہ سابقہ خاتون اول بشریٰ بی بی کی فرمائش پر انہیں فرح خان کے ذریعے دی گئی تھی، کہا جاتا ہے کہ اس انگوٹھی کے عوض پشاور میں بحریہ ٹاؤن کے ایک بڑے پروجیکٹ کو لگے ہوئے تالے کھول دیئے گئے تھے۔ اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں امبر والد کو بتاتی ہیں کہ فرح خان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ کام ہونے کی گارنٹی خان صاحب نے خود دیکھا ہے لیکن بشریٰ بی بی کو 3 قیراط والی ہیرے کی انگوٹھی پسند نہیں آئی۔ اس پر ملک ریاض بیٹی سے کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے تم بشریٰ بی بی کو ایک کروڑ روپے مالیت کی 5 قیراط والی انگوٹھی بھجوا دو۔

جب 31 اگست کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر سینئر صحافی اعزاز سید نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا ان کی اہلیہ نے ملک ریاض سے ہیروں کا کوئی تحفہ وصول کیا تھا تو خان نے اس کا براہ راست جواب دینے کی بجائے فلمی مکالمہ ادا کیا اور کہا کہ ہیرے تو سستے ہوتے ہیں، کسی مہنگی چیز کی بات کرو۔ لیکن بقول وجاہت مسعود، سوال مہنگی اور سستی چیز کا نہیں کیونکہ صادق اور امین کا معیار قائم کرتے ہوئے کرپشن کا نصاب متعین نہیں کیا گیا۔

وجاہت کہتے ہیں کہ 1974ء کا برس ہماری قومی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوا، اس سال 22 سے 24 فروری تک لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی۔ لاہور کی بادشاہی مسجد میں اسلامی سربراہان نے نمازِ جمعہ ادا کی۔اسلامیانِ پاکستان نے مسلم امہ کی قیادت کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کر دیے۔ اس کانفرنس سے بھٹو صاحب عالم اسلام کے متفقہ عظیم رہنما کے طور پر ابھرے اور پاکستان کو عالم اسلام کی قیادت مل گئی۔

وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ دراصل عالمِ اسلام کی قیادت کے تصور ہی میں ایسی کشش ہے کہ قلم کی پرواز سنبھالے نہیں سنبھلتی، خصوصاً ایک ایسے وقت۔میں کہ جب عمران خان کی صورت میں عالم اسلام کا ایک اور عظیم رہنما منظر پر اُبھر رہا ہے، حالات ایسے ہیں گویا قدرت خود عمران کے لئے راستہ ہموار کر رہی ہے۔ افغانستان میں طالبان نے عمران خان کے بقول غلامی کی زنجیریں توڑ ڈالیں مگر اسلامو فوبیا میں مبتلا مغربی دنیا تو ایک طرف، مسلم اکثریت کے حامل 57 ممالک میں سے بھی کوئی ایک طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی ہمت نہیں کر سکا۔

ایران سے توقعات تھیں مگر افسوس کہ بیشتر اسلامی ممالک بوجوہ ایران کی رہنمائی تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ سعودی عرب مسلم دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے لیکن وہاں محمد بن سلمان وژن 2030 ء کے بہلاوے میں آ کر اسرائیل کےلئے نرم گوشہ اختیار کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات تک قائم کر لئے ہیں۔ موجودہ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں دونوں ممالک میں تجارت کا حجم 1.7 ارب ڈالر کو پہنچ گیا ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ ہم نے 1.7 ارب ڈالرز قرض ہی کے لئے آئی ایم ایف کے دروازے پر گریہ زاری بھی کی اور اندرون ملک بھی گالی گلوچ کا نشانہ بنے۔

وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش سے کیا توقع رکھی جائے۔ وہاں دستور کا سیکولر تشخص بحال کر دیا گیا ہے۔ ترکی کی سنیے۔ ہم ارطغرل کے پرجوش مکالموں میں کھوئے رہے، لیکن طیب اردوان نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال کر لئے، بے شک مغربی ممالک اپنے سامراجی مفادات کے لئے سنکیانگ کی مسلم آبادی سے بدسلوکی پر آواز اٹھاتے رہتے ہیں، مگر ہم سابق وزیراعظم عمران خان کے اس بیان سے مطمئن ہیں کہ ’چین میں متعین پاکستانی سفیر نے سنکیانگ میں دس کروڑ مسلمانوں کے حالات کو اطمینان بخش قرار دیا ہے۔

بی بی حکومت کیخلاف آپریشن مڈنائٹ جیکال کیسے بے نقاب ہوا؟

مصر میں محمد مرسی انتقال کر چکے ہیں اور جنرل عبدالفتح السیسی برسراقتدار ہیں لیکن جنرل السیسی تدبر اور تقویٰ میں عمران خان کی گرد کو نہیں پہنچتے۔ لیکن خان صاحب ہیں کہ خود کو مسلسل خطرناک قرار دیے چلے جا رہے ہیں حالانکہ سیاسی رہنما خطرناک نہیں، بلکہ قوم کا خیرخواہ ہوتا ہے۔

Back to top button