اسٹیبلشمنٹ ہی عمران خان کے نشانے پر کیوں ہے؟

عمران کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد اسٹیبلشمنٹ پر کی جانے والی مسلسل الزام تراشیاں اس ٹھکرائی جانے والی محبوبہ جیسی ہیں جو پہلے تو اپنے عاشق کو پیار محبت سے اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتی ہے لیکن جلد بات نہ ماننے پر دھمکیاں دینے پر اتر آتی ہے۔ اگر عمران خان کے انٹرویوز اور تقاریر کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ تاحال اسٹیبلشمنٹ کے دست شفقت سے محروم ہیں اور ان پر دباؤ ڈال کر پھر سے کوئی ریلیشن شپ بنانے کی تگ و دو میں ہیں دوسری طرف باخبر حلقوں کے مطابق عمران خان صدر عارف علوی کے ذریعے سے نئے آرمی چیف کے ساتھ تعلقات بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تاہم تاحال ان کی دھمکیوں اور منتوں کے باوجود کوئی پذیرائی نہیں مل رہی۔

 

عمران خان اکثر کہتے نظر آتے ہیں کہ ہماری حکومت کے دور میں معیشت درست سمت میں جا رہی تھی مگر مخالف سیاسی جماعتوں نے جنرل (ر) باجوہ کے ساتھ مل کر ہماری حکومت گرا دی۔ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ہماری کون سی غلطی تھی جس کی بنیاد پر ہماری حکومت کے خلاف سازش کی گئی۔ پاکستان میں صرف عمران خان کو اس بات کا نہیں پتہ کہ ان کی کون سی غلطی تھی جس کی بنیاد پران کی حکومت گئی تھی ورنہ تو سب کو خبر ہے کہ خرابی کہاں پیدا ہوئی تھی۔سبھی کو خبر ہے کہ کس طرح عثمان بزدار اور گوگی پنکی گینگ نے اس ملک کے قانون اور اداروں کی ساکھ اور کارکردگی کو نقصان پہنچایا۔  کس طرح عمران خان کے دور حکومت میں بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہو گیا تھا۔ ملک کی معیشت شدید ابتری کا شکار تھی۔ ان کے اپنے حمایتی بھی اس حکومت کو لانے کے جرم میں باجوہ صاحب اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو لعن طعن کر رہے تھے۔ عمران خان کا وطیرہ بن چکا ہے کہ انہوں نے اپنی حماقتوں اور غلطیوں کو نہیں ماننا اور اپنی ہر ناکامی کا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈالنا ہے۔ آج کل ان کے پاس جنرل (ر) باجوہ کی صورت میں یہ کندھا دستیاب ہے۔ یہ کندھا بھی آہستہ آہستہ ان کے الزامات کے بوجھ سے سرکنے لگا ہے اور انھوں  نے بھی عمران خان کے الزامات پر اپنا ردعمل دینا شروع کر دیا ہے۔

 

عمران خان خود کئی بار اعتراف کر چکے ہیں کہ جب وہ جنرل (ر) باجوہ سے مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر مقدمات بنوانے کا کہتے تھے تو باجوہ صاحب ان کو ملک کی معیشت پر کام کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ اگر عمران خان کے دور حکومت میں معیشت اتنی ہی اچھی تھی تو باجوہ صاحب کو تحریک عدم اعتماد کے وقت نیوٹرل رہ کر اتنی ساری رسوائی مول لینے اور اچھی بھلی معیشت والی حکومت کو گرانے کی کیا ضرورت پیش آ گئی تھی؟ اصل میں جو حقیقت ہے اس کو عمران خان تسلیم کرنے سے قاصر ہیں۔ معیشت عمران خان کی ترجیح تھی ہی نہیں۔ ان کی ترجیحات میں سب سے اوپر مختلف سیاسی رہنماؤں کو گندا کرنا اور ان کے خلاف کیسز بنوا کر جیلوں میں ڈالنا تھا۔

 

اگرچہ موجودہ حکومت معیشت کو سنبھالنے میں کامیاب نہیں ہو رہی اور خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے، حکومت کے اوپر اس ناکامی کی بدولت تنقید بھی ہو رہی ہے مگر عمران خان یہ نہیں بتاتے کہ ان کے پاس ایسا کون سا منصوبہ ہے جس کے ذریعے سے وہ ملک کی ڈوبتی معیشت کو سہارا دیں گے یا وہ کون سی حکمت عملی ہے جو ان کے پاس تو ہے مگر موجودہ حکومت اس سے محروم ہے۔ عمران خان کے پاس جادو کا جو چراغ ہے وہ ان کے اپنے دور حکومت میں کیوں چمتکار نہ دکھا سکا اور ان کے دوبارہ حکومت میں آنے سے ایسا کون سا معجزہ ہو جائے گا جس سے ملک کی معیشت سنبھل جائے گی۔ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ ایک نوجوان کھلاڑی کی طرح صرف دوسری باری لیناچاہتےہیں۔

مریم نواز کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات

Back to top button