پی ٹی آئی نے سیاسی مقاصد کیلئے عمران پر حملے کا ڈرامہ خود رچایا

تحریک انصاف کے چیئرمین  وسابق وزیراعظم عمران خان پر حملے میں ملوث مشتبہ ملزم  نویدکے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے کیس سے متعلق تمام حقائق کو تبدیل کیا اور شواہد کو ضائع کردیا ہے،

وکیل میاں داؤد نے جے آئی ٹی میں شامل کردہ شواہد کی روشنی پر آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان اور جے آئی ٹی پر الزامات عائد کیے ، انہوں نے  پی ٹی آئی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موقع پر موجود ویڈیو کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جارہا، ہلاک شخص معظم گوندل عمران خان کے گارڈ کی گولی لگنے سے ہلاک ہوا، معظم کی ہلاکت کی ویڈیو کو ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کا کارکن معظم اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا، وہ جانتے تھے کہ ساری ذمہ داری اہلکار پر ہوگی اور اگر ایسا ہوا تو جس شخص نے اسے نوکری پر رکھا وہ بھی مصیبت میں پڑ جائے گا، اہلکار اور عمران خان کو قتل کے مقدمے سے بچانے کے لیے جے آئی ٹی نے سارے حالات و واقعات تبدیل کرنے کی کوشش کی، اور ایسا ہی ہوا اگر ہم تمام واقعات اور شواہد کو دیکھیں تو عمران خان کا اہلکار ہی حملے کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیرآباد حملے کے دوران پی ٹی آئی کا کارکن عمران خان کے سیکیورٹی اہلکار کی گولی سے جاں بحق ہوا تھا،معظم پر گولیوں کا رُخ اہلکار کی پوزیشن کی طرف اشارہ کرتا ہے، جے آئی ٹی کی جانب سے 90 پولیس اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ ہوئے ہیں لیکن آج یہ تمام اہلکار غائب ہیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ جے آئی ٹی کے کام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سارا واقعہ پلانٹڈ اور خود ساختہ تھا اور صرف پی ٹی آئی کے سیاسی مقاصد کی خاطر سب کچھ کیا گیا تھا، جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے وکلا سے مشاورت کرنے کے بعد زمان پارک میں تحقیقاتی رپورٹ تیار کی تھی۔

انہوں  نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اگر پی ٹی آئی یقین رکھتی ہے کہ ان پر حملہ واقعی ہوا ہے تو وہ ایف آئی آر سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ یہ سب کچھ خودساختہ ہے اس لیے یہ سب ڈرامہ لانگ مارچ کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے کیا گیا، عمران خان کو لگی گولیوں کی سچائی کے حوالے سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کنٹینر پر حملے کے کوئی نشانات نہیں ہیں۔

میاں دائودپوری کہانی کا فائدہ صرف عمران خان کو ہوا ہے، یہ سب لانگ مارچ کو دوبارہ سے بحال کرنے کے لیے ڈرامہ کیا گیا، عمران خان کے کردار کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے جعلی گولیوں کی تشہیر کی گئی، اگر معظم کے خاندان سے کوئی مقدمہ کرانے نہیں آتا تو ہم عمران خان اور گارڈ کے خلاف درج کرانے پر غور کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل تحقیقات سے باخبر ایک عہدیدار نے بتایا کہ گرفتار ملزم نوید مہر کے علاوہ 3 نامعلوم حملہ آوروں نے نامعلوم ہتھیاروں سےگولیاں فائر کیں جوکہ کافی اونچائی سے چلائی گئی تھیں۔

یاد رہے کہ گزشہ سال وزیرآباد اللہ والا چوک میں پی ٹی آئی کے وفاقی حکومت کے خلاف حقیقی آزادی مارچ کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان پرقاتلانہ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک پی ٹی آئی کارکن جاں بحق ہوگیا جبکہ عمران خان سمیت دیگر 14 کارکنان زخمی ہوگئے تھے۔گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے محافظوں کے پاس موجود اسلحہ کی فارنزک رپورٹ کرائی گئی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ محافظوں کی طرف سے کوئی گولی نہیں چلائی گئی تھی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان پر حملے کے دوران معظم نامی شہری کو اس حملہ آور نے گولی ماری جو اس ذمہ داری سے وہاں موجود تھا کہ ملزم نوید کو قتل کرنا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ایک ہی حملہ آور تھا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی نے وکیل میاں داؤد کی پریس کانفرنس سرکاری میڈیا پر نشر کرنے کے حوالے سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔پاکستان تحریک انصاف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ قوم جاننا چاہتی ہے کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کے ملزم کے وکیل کی پریس کانفرنس کا اہتمام کس نے کیا؟ فواد چوہدری نے بھی یہی سوالات دہراتے ہوئے کہا خبردار کیا کہ اگر ایسے کریں گے شبہات میں مزید اضافہ ہو گا۔اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو گردش کررہی ہے جس کے بعد پی ٹی آئی میں کھلبلی مچ گئی ہے۔

سی سی ٹی وی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گجرات کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر(ڈی پی او)اپنا موبائل فون ایس ایچ اوکے حوالے کرتے ہیں اور وہ اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو وزیرآباد حملے کے ملزم نوید کا اعترافی بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کررہے ہیں،تاہم ملزم نوید کو ویڈیو میں نہیں دیکھا جاسکتا۔

عمران کا منحرف سابق ارکان پنجاب اسمبلی سے ملاقات سے انکار

Back to top button