وزیر آباد میں عمران پر حملے کا کیس کون اُلجھا رہا ہے؟

وزیر آباد میں عمران خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کو دو ماہ گزرنے کے باوجود کیس کی تحقیقات میں ایک انچ کی بھی پیش رفت نہیں ہوسکی حالانکہ پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی حکومت پنجاب کے ماتحت کام کر رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حملے کا مرکزی ملزم جائے وقوعہ سے ہی گرفتار ہو گیا تھا۔ ملزم نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ اس نے حملہ اسلئے کیا کہ وہ عمران کی جانب سے اپنا موازنہ بار بار حضور پاکؐ سے کرنے کی وجہ سے نالاں تھا اور اسی لیے انہیں مارنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں اس کے ساتھ اور کوئی شخص شریک نہیں تھا۔ انٹیلی جنس بیورو نے بھی وفاقی حکومت کو اپنی رپورٹ میں ملزم نوید کو ایک مذہبی جنونی قرار دیا ہے جس کا تعلق تحریک لبیک سے ہے۔ لیکن دوسری جانب عمران اپنے سازشی بیانیے پر اڑے ہوئے ہیں چونکہ اس کا انہیں سیاسی طور پر فائدہ ہے۔ انکا اصرار ہے کہ وزیر آباد حملہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا ، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان اور ڈی جی کاؤنٹر انٹیلی جینس میجر جنرل فیصل نصیر شامل تھے۔ لیکن حملے کے ایک ماہ بعد درج ہونے والی ایف آئی آر میں ان تینوں میں سے کسی ایک کا نام بھی شامل نہیں ہو پایا جس پر خان صاحب سیخ پا ہیں اور مسلسل یہ رونا رو رہے ہیں کہ اصل ملزمان کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

لیکن اردو نیوز کے مطابق اس کیس کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ حملہ آور کے پہلے دن سے پولیس حراست میں ہونے کے باوجود ابھی تک تفتیش ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکی۔ اس بات کا اعتراف خود تحریک انصاف کی لیڈر شپ بھی کر رہی ہے۔ ملزم پنجاب پولیس کی حراست میں ہے جبکہ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر اب تک یہ کیس تنازعات کی زد میں ہے اور اب واضح طور پر تین مختلف سمتوں کی طرف چل پڑا ہے۔ تحریک انصاف، وفاقی حکومت اور اب عمران پر حملے کے ملزم نوید کے موقف نے اس کیس کو قانونی طور پر اور بھی الجھا دیا ہے۔ نوید کے وکیل میاں داؤد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعوی ٰکیا ہے کہ عمران خان پر وزیرآباد میں ہونے والا حملہ پلانٹڈ تھا اور اس کا بنیادی مقصد ان کے فلاپ ہوجانے والے لانگ مارچ کو ایک نئی زندگی فراہم کرنا تھا۔

 

یاد رہے کہ گزشتہ برس 3 نومبر کو تحریک انصاف کے لانگ مارچ پر وزیرآباد کی حدود میں اچانک فائرنگ ہوئی جس میں عمران سمیت ایک درجن افراد زخمی ہوئے اور معظم نامی پی ٹی آئی کارکن گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔ حملہ آور ملزم نوید کو اسی وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جس نے ایک ویڈیو بیان میں اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ وہ عمران خان کو گستاخ رسول سمجھتے ہوئے ختم کرنا چاہتا تھا۔ ملزم نے حملے کو اپنا ذاتی فعل قرار دیا تھا ۔ ملزم کے فون کی فرانزک رپورٹ سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ وہ تحریک لبیک کا ایک جنونی کارکن ہے جو مذہبی بھی ہے اور نشہ بھی کرتا تھا۔

 

عمران خان نے واقعے کی ایف آئی آر کے لیے درخواست دی تو اس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور آئی ایس آئی کے ایک افسر میجر جنرل فیصل نصیر کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ البتہ پولیس نے اس درخواست پر ایف آئی آر درج نہیں کی۔ بعدازاں پولیس نے اپنی مدعیت میں سپریم کورٹ کے حکم پر ایک ایف آئی آر درج کی جس میں صرف ان واقعات کا ذکر کیا گیا جو فائرنگ کے وقت رونما ہوئے۔ پنجاب حکومت نے تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی جس کی سربراہی سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کر رہے ہیں۔ چھ رکنی جے آئی ٹی کے ممبران میں ایس پی پوٹھوہار، آر پی او ڈیرہ غازی خان خرم علی، اے آئی جی مانیٹرنگ احسان اللہ چوہان اورایس پی سی ٹی ڈی نصیب اللہ شامل ہیں۔ یہ جے آئی ٹی عمران نے خود بنوائی تھی اور اس میں اپنی مرضی کے لوگ شامل کروائے تھے۔

پولیس نے ملزم نوید کو پستول بیچنے والے شخص وقاص اور وقاص سے ملوانے والے نوید کے دوست ساجد بٹ کو بھی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ لیکن ابھی تک یہ ثابت نہیں ہو پایا کہ ملزم نوید کو عمران پر حملے کے لیے کسی نے اکسایا یا کسی منصوبے کے تحت استعمال کیا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ وزیر آباد حملہ کیس تنازعات میں الجھا ہوا ہے۔ پہلا تنازع عمران خان کا اپنی مرضی کی ایف آئی درج کروانے سے شروع ہوا۔ دوسرا تنازع تحقیقاتی ٹیم کا بنا جو پنجاب حکومت نے مرضی سے بنائی لیکن اسے وفاقی حکومت نے ماننے سے انکار کر دیا۔ اس حد تک تو سیاسی بیان بازی ہر طرف سے ہو رہی تھی، لیکن صورت حال تب پیچیدہ ہونا شروع ہوئی جب اس کیس سے جڑی تحقیقات کی خبریں باہر نکلنا شروع ہوئیں۔ پہلے میڈیا اور بعد ازاں تحریک انصاف نے خود ان تحقیقات کو لیک کیا جس سے الزامات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔

عمران خان نے پانچ جنوری کو ایک ٹی وی خطاب میں اس کیس میں ہونے والی اب تک کی تحقیقات میڈیا کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’مجھے پر قاتلانہ حملہ سوچی سمجھی سازش تھی، پہلے میری توہین مذہب بارے ویڈیوز جاری کی گئیں، پھر سلمان تاثیر کی طرح مجھے بھی قتل کرنے کی سازش تیار کی گئی۔ وزیرآباد میں میرے کنٹینر پر فائرنگ کرنے والے شوٹر تین تھے اور مقتول معظم کو لگنے والی گولی ملزم نوید کو ختم کرنے کے لیے چلائی گئی تھی۔ دوسری جانب تحقیقاتی اداروں اور فرانزک ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق معظم کے سر میں لگنے والی گولی اونچائی سے چلائی گئی تھی اور وہ رائفل سے نکلی تھی جو کہ کنٹینر پر موجود عمران کے گارڈز کے پاس موجود تھی۔

لیکن پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا ہے کہ ’قریب کی چھتوں سے بھی گولیوں کے خول ملے تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک مکمل منصوبہ بندی تھی۔ انکے مطابق ملزم حد سے زیادہ تربیت یافتہ تھا اور وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹ رہا کہ اس نے یہ سب تن تنہا کیا ہے۔ اس حوالے سے عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ ملزم  کاویڈیو بیان فوری جاری کروایا گیا اور اب تو ثابت ہو گیا ہے کہ اسے ڈی پی او کے دفتر میں ریکارڈ کیا گیا۔ اب اور کیا ثبوت رہ گیا ہے سازش کے بارے میں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ جے آئی ٹی حکومت نے اپنی مرضی سے بنائی ہے، ہر چیز کی رسائی پولیس کے پاس ہے تو اس سازش کی مکمل تحقیقات کب سامنے لائی جائیں گی؟ تو ان کا کہنا تھا ’جے آئی ٹی کے ساتھ کوئی تعاون ہی نہیں کر رہا۔ ڈی پی او نے بیان نہیں دیا۔ سی ٹی ڈی اسی رات ملزم کو وزیرآباد سے اٹھا کر لے کر آئی۔ پھر ایک ویڈیو بیان جاری کیا اور وہ افسر بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوا۔‘ انہوں نے بتایا ’ملزم کے پولی گراف ٹیسٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ جو بیان دے رہا ہے وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس نے خود سے ہی یہ حملہ کیا ہوا۔‘

عمران خان پر حملے کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی نے براہ راست تو کوئی تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر نہیں کی ہیں اور نہ ہی عدالت میں ابھی تک اپنی تحقیقات کے حوالے سے کوئی ٹھوس مواد جمع کروایا ہے۔ البتہ تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے سامنے آنے والی تفتیش کو وفاقی حکومت نے رد کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ’یہ عمران خان کی ذاتی جے آئی ٹی ہے جو صرف وہی لکھے گئی جو خان صاحب کو پسند ہے۔ ایسی کون سی جے آئی ٹی ہے جس میں صرف پولیس کے افسران شامل ہوتے ہیں؟ اس کیس میں کسی قسم کی کوئی شفافیت نہیں ہے۔ تحقیقات میں اگر کوئی رکاوٹ ڈال رہا ہے تو وہ خود ان کا وزیراعلٰی پرویز الٰہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی بار بار ڈی پی او گجرات کا نام لے رہی ہے تو کیا اس کو ہم نے لگایا ہوا ہے؟ اس کو تو پرویز الٰہی نے لگایا ہے۔ یہ جان بوجھ کر کیس کو طُول دینا چاہتے ہیں اور لٹکا کر سیاسی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر حملے کے ملزم نوید کا بیان ان کے وکیل میاں داؤد کے ذریعے پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے پولیس حراست میں ان کے ویڈیو بیانات جاری کیے گئے تھے۔ میاں داؤد نے بتایا کہ ’میری آخری ملاقات ملزم سے تین جنوری کو ہوئی جس میں اس نے بتایا کہ اس پر پولیس نے بدترین تشدد کیا ہے۔ اس کا بھائی، بہن اور ماں بھی پولیس کی حراست میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف اور پنجاب حکومت اس کیس پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں اور قانونی عمل کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔ جے آئی ٹی صرف وہ چیزیں مثل پر لا رہی ہے جو ان کو زمان پارک سے ہدایت کی صورت میں ملتی ہیں۔ ابھی تک عدالت میں ایک بھی چیز پیش نہیں کی گئی لیکن پولی گرافک ٹیسٹ عمران خان نے پڑھ کر پوری دنیا کو سنا دیا۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔‘ میاں داؤد کے مطابق ’میری اطلاعات ہیں کہ وہاں پر ہلاک ہونے والے شہری معظم کا قتل میرے موکل پر ڈالا جا رہا ہے اور سب کو پتا ہے کہ وہ عمران خان کے گارڈ کی گولی سے ہلاک ہوا۔ اس کیس کی تفتیش میں کچھ بھی شفاف نہیں ہو رہا۔‘

اس کیس کے حوالے سے تازہ ترین انفارمیشن یہ ہے۔کہ ملزم نوید چوتھی مرتبہ 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے پاس ہے۔ اسے لاہور میں چوہنگ سینٹر میں رکھا گیا ہے جہاں جے آئی ٹی روزانہ کی بنیاد پر اس سے تفتیش کرتی ہے۔ جے آئی ٹی نے پولیس کے اعلٰی ترین تفتیشی افسروں کو ملزم سے تفتیش پر لگایا۔ سی آئی اے سے افسران کو بلایا گیا لیکن کوئی بھی حربہ ابھی تک کارگر ثابت نہیں ہو سکا۔ وہ اپنے پہلے بیان پر ہی قائم ہے۔اس بات کی تصدیق مشیر داخلہ پنجاب عمر چیمہ نے بھی کی ہے کہ ’ملزم اپنے بیان سے پیچھے ہٹ ہی نہیں رہا۔پولیس نے دو مہینوں سے بھی زیادہ وقت میں ملزم سے کیا اگلوایا اور اس معاملے کو سوچی سمجھی سازش ثابت کرنے کے لیے کیا ثبوت اکٹھے کیے، اس کی تمام جزئیات اسی وقت ہی سامنے آئیں گی جب اس کیس کا چلان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

تحریک طالبان کی وجہ سے پاک افغان تعلقات خرابی کا شکار

Back to top button