عمران کی اپنی مرضی کی JITرپورٹ لینے کی کوشش ناکام

عمران خان پر وزیر آباد حملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان میں پھوٹ پڑنے کے بعد چار افسران نے سابق وزیراعظم کی جانب سے حملے میں ایک سے زیادہ شوٹرز کے ملوث ہونے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملے۔ یاد رہے کہ عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان پر حملہ کرنے والے شوٹر نوید کو ختم کرنے کے لیے بھی دو شوٹرز موقع پر موجود تھے جن کی فائرنگ سے پی ٹی آئی کا ایک کارکن معظم مارا گیا۔ تاہم جے آئی ٹی کے اکثریتی اراکین نے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر معظم ملزم نوید کی گولی سے نہیں مرا بلکہ اسے اونچائی سے آنے والی گولی لگی جبکہ عمران پر حملہ کرنے والا زمین پر موجود تھا۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکن معظم کو عمران خان کے کنٹینر پر موجود سکیورٹی گارڈز میں سے کسی کی گولی لگی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر عمران خان نے اپنے پسند کے پولیس افسر غلام محمود ڈوگر کو جے آئی ٹی کا سربراہ بنوانے کے بعد ان سے مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جس پر تحقیقاتی کمیٹی کے چار اراکین نے بغاوت کردی ہے۔

سی سی پی او لاہور اور پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کے سربراہ غلام محمود ڈوگر کو لکھے گئے خط میں تحقیقاتی ادارے کے چار ارکان نے سی سی پی او کی جانب سے وزیرآباد حملے کے تفتیشی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس خط پر جے آئی ٹی کے چار اراکین آر پی او ڈی جی خان سید خرم علی شاہ، اے آئی جی مانیٹرنگ احسان اللہ چوہان، ایس ایس پی سی ٹی ڈی پنجاب نصیب اللہ خان اور ایس پی پوٹھوہار ڈویژن طارق محبوب کے دستخط ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ایک سے زائد شوٹروں کی موجودگی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کا کوئی قابل اعتماد ثبوت ریکارڈ پر نہیں آیا جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ عمران خان پر حملے کے وقت ایک سے زیادہ شوٹرز موجود تھے۔ مزید کہا گیا کہ ابھی تک کوئی ڈیٹا یا کال ریکارڈ نہیں ملا جس سے مرکزی ملزم نوید کو اس جرم کی منصوبہ بندی میں ملوث کسی دوسرے شخص سے جوڑا جا سکے، خط میں کہا گیا کہ اب تک نوید کو پستول بیچنے والے دوسرے ملزم وقاص کا کردار صرف سہولت کار کا ہے۔

عمران خان کے فیورٹ سی سی پی او لاہور غلام محمد ڈوگر کو لکھے گئے خط میں ان کے کردار پر رائے دیتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے چار اراکین نے دعویٰ کیا ہے کہ غلام محمود ڈوگر سے بار بار درخواست کی گئی کہ وہ ہماری آرا کو اہمیت دیں اور غلط رپورٹ تیار نہ کریں لیکن انہوں نے ہماری رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ چنانچہ ان لوگوں نے اپنی فائنڈنگز اور تحفظات کو ایک خط کے ذریعے ریکارڈ پر لانے کا فیصلہ کیا۔ وزیر آباد حملے کی تحقیقاتی کمیٹی کے چار ارکان نے کہا کہ 17 دسمبر کو جے آئی ٹی کے ایک رکن نے تحقیقات کے معیار پر شدید اعتراض کیے جس کے بعد انہیں 29 دسمبر کو ہونے والے جے آئی ٹی کے اگلے اجلاس میں نہیں بلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی قیمت پر کسی بھی کیس کی تفتیش میں معروضیت اور جانبداری پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، انکا کہنا تھا کہ کیس کی انتہائی احتیاط کے ساتھ تفتیش کی جا رہی ہے اور تمام ممبران اور معاون عملے نے اسے خالصتاً میرٹ پر حتمی شکل دینے کی اپنے تئیں پوری کوشش کی ہے لہذا کسی کو خوش کرنے کی خاطر نتائج کو تبدیل نہ کیا جائے۔

مجھے سیاست سےمائنس کرنے والے ناکام ہوں گے

Back to top button