عمران وزیرآباد حملے کی تحقیقاتی رپورٹ کیوں نہیں آنے دیتے؟

عمران خان پچھلے دو ماہ سے وزیر آباد قاتلانہ حملے کا الزام اپنے مخالفین کے سر تھوپنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ اس عرصے میں انکی اپنی پنجاب حکومت کی جے آئی ٹی اپنے ہی لیڈر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی رپورٹ کیوں تیار نہیں کرسکی؟ ایسے میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری میں خان صاحب جان بوجھ کر خود تاخیر تو نہیں کروا رہے تاکہ اس دوران مخالفین پر جھوٹے الزامات عائد کر کے زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔

عمران خان پر قاتلانہ حملے کے حوالے سے اپنی تازہ تحریر میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ نواز شریف کی بیماری ہو یا عمران خان کو دھات کے ٹکڑے لگنے کا معاملہ، میں اصول کے تحت اس پر بات نہیں کرتا۔ اس معاملے میں متعلقہ لیڈر یا پھر ان کے گھر والے جو کچھ کہتے ہیں، ہمیں اس پر یقین کرنا پڑتا ہے۔ لیکن جب ایسے معاملات سیاست کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں یا پھر انہیں سیاست کیلئے استعمال کیا جاتا ہے تو پھر اس پر رائے زنی مجبوری بن جاتی ہے۔

مثلاً جب نواز شریف کی بیماری کے سیاسی پہلو سامنے آئے تو میں نے اس پر بھی بات کرنی شروع کردی اور اب جب عمران خان اور انکے ساتھی اس حملے کو سیاسی مقصد کیلئے استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے لگے ہیں تو مجبوراً مجھے اس پر بات کرنا پڑ رہی ہے۔ میں اپنی بات شروع کرتا ہوں 2014 کے دھرنوں سے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ عمران خان نے نہ صرف اسلام آباد پہنچنے سے پہلے حکومت سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آبپارہ سے آگے نہیں جائیں گے بلکہ آبپارہ میں بھی اعلانات کرتے رہے کہ میں نے چوں کہ چوہدری نثار علی خان سے وعدہ کیا ہے اس لئے ہم یہاں سے آگے نہیں جائیں گے ۔ پھر اچانک ایک روز عمران خان اور طاہرالقادری نے ڈی چوک جانے کا اعلان کردیا اور وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے پولیس کو مسرچ روکنے کا حکم دے دیا۔

پولیس اور پی ٹی آئی یا عوامی تحریک کے کارکنوں کی لڑائی شروع ہوئی لیکن رات کے وقت اچانک پولیس کو حکم ملا کہ کارروائی روک کر عمران اور قادری کو ڈی چوک آنے دیا جائے۔ عام تاثر یہ تھا کہ یہ چوہدری نثار کے حکم پر ہوا لیکن صبح پنجاب ہائوس میں میری اور میجر عامر کی جب ان سے ملاقات ہوئی تو وہ غصے میں آگ بگولا تھے اور وزارت سے استعفیٰ دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھاکہ رات کو وزیراعظم میاں نواز شریف نےانہیں بائی پاس کرکے عمران اور قادری کو ڈی چوک آنے اور پولیس کو کارروائی روکنے کا حکم دیا جو میرے لئے شرمندگی کا موجب بنا۔

سلیم صافی کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دھرنے کا سکرپٹ لکھنے والوں نے دھرنے کو نتیجہ خیز بنانے کیلئےکم ازکم ایک سو لاشیں گرانے کا پروگرام بنایا تھا اور جب آئی بی نے یہ رپورٹ نواز شریف کو دی تو انہوں نے انسانی جانوں کا ضیاع روکنے کیلئے رات گئے سیکرٹری داخلہ شاہد خان کے ذریعے پولیس کو پیچھے ہٹنے اور عمران کو ڈی چوک آنے کے احکامات چوہدری نثار علی خان کو بتائے بغیر جاری کئے۔ 2014کے دھرنے کے بارے میں تو یہ آئی بی کی رپورٹ تھی لیکن عمران خان کے اب کی بار کے اسلام آباد آزادی مارچ کے بارے میں پہلے سے فیصل واوڈا جیسے رہنما خبردار کررہے تھے کہ یہ مارچ خونی ہوگا۔ بدقسمتی سے نومبر کے پہلے ہفتے میں جب وہ وزیر آباد سے گزر رہے تھے تو ان کے کنٹینر پر ایک نوجوان نے فائرنگ کردی، جس میں عمران تو زخمی ہوگئے لیکن ان کی پارٹی کے ایک کارکن معظم گوندل گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔

عمران پر فائرنگ کرنے والے نوجوان نوید کو موقع پر عمران خان کے ایک جان نثار نے دبوچ کر زندہ گرفتار کرلیا اور انہیں عمران خان اور پرویز الٰہی کے زیرکنٹرول پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس طرح کے معاملات میں پولیس صرف سرکاری ہسپتالوں کی رپورٹ کو قبول کرتی اور پوسٹ مارٹم وغیرہ کیلئےبھی سرکاری ہسپتالوں سے رجوع کیا جاتا ہے لیکن قریبی سرکاری ہسپتال (جو کہ پنجاب حکومت کے کنٹرول میں ہے) میں جانے کی بجائے انہوں نے شوکت خانم ہسپتال جانے کو ترجیح دی۔

سلیم صافی کے بقول اگرچہ وفاقی حکومت کا اس معاملے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن عمران نے چونکہ پہلے دن سے اس حملے میں اپنے سیاسی مخالفین کو ملوث کرنے کی کوشش کی اسلئے وزیراعظم شہباز شریف نے 8 نومبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر درخواست کی کہ عدالت کے تمام دستیاب ججز پر مشتمل کمیشن بنا کر عمران خان پر حملے کی تحقیقات کرے لیکن وہ کمیشن آج تک نہیں بنا۔ عمران نے حملے کی ایف آئی آر شہباز شریف، رانا ثنااللہ اور ایک حاضر سروس فوجی افسر کے خلاف درج کرانے کی کوشش کی لیکن ان کے اپنے وزیراعلیٰ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ البتہ عمران اور پرویز کی پنجاب حکومت نے وقوعہ کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی۔ یہ جے آئی ٹی عمران خان کی پرویزالٰہی حکومت کے نصف درجن پولیس افسروں پر مشتمل ہے جس کی تشکیل کسی فرد واحد نے نہیں بلکہ پنجاب کابینہ کے لا اینڈ آرڈر کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اتفاق رائے سے کی، لیکن اس جے آئی ٹی نے آج تک اپنی حتمی رپورٹ تیار کی ہے اور نہ قوم یا عدالت کے سامنے لائی ہے۔

سلیم صافی کے بقول سوال یہ ہے کہ دو ماہ کے عرصے میں پنجاب حکومت کی جے آئی ٹی اپنے ہی لیڈر عمران خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی رپورٹ اب تک کیوں تیار نہ کرسکی؟ عمران خان درمیان میں اسلام آباد سے پنڈی منتقل ہونے والے جلسے سے خطاب کیلئے آئے لیکن یہاں سے پھر زمان پارک چلے فے۔ وہاں سے وہ روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا بیان جاری کرتے یا انٹرویو دیتے ہیں جو ٹاک شوز کا موضوع بن جاتے ہیں۔ اب انہوں نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ انہیں قتل کرنا چاہتے تھے تاکہ ایمرجنسی لگانے کیلئے بہانہ تلاش کرسکیں۔

لیکن اگلے روز صبح وضاحتی بیان جاری کرکے پی ٹی آئی مکر گئی۔ جب شام کو خان صاحب نے اس حوالے سے پریس کانفرنس کی تو جنرل باجوہ کا نام لینے کی بجائے شہباز شریف، رانا ثنا اللہ اور فوج کے بعض افسروں کو مورد الزام ٹھہرا دیا۔ اسی طرح وہ جے آئی ٹی رپورٹ آنے سے قبل یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ حملہ آور ایک نہیں بلکہ تین تھے ۔ وہ اور ان کے حامی اب ایک سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی اپنے سازشی بیانئے کے ثبوت کے طور پر پیش کررہے ہیں جس میں ڈی پی او گجرات سید غضنفر علی شاہ کے حکم پر ایس ایچ او ملزم نوید کا اقبالی بیان ریکارڈ کروارہے ہیں۔

اگر ملزم نوید کا اقبالی بیان ریکارڈ کرانا جرم ہے یا پھر اسے پٹی پڑھا کر بیان ریکارڈ کیا جارہا ہے تو یہ ڈی پی او گجرات کی نگرانی میں ہورہا ہے جو نہ صرف عمران خان اور پرویز الٰہی کے ماتحت ہیں۔ عمران خان کے وزیر اعلیٰ چاہیں تو انہیں اسی وقت معطل یا سروس سے برخاست کرسکتے ہیں یا کم ازکم تبادلہ تو کرسکتے ہیں لیکن تادم تحریر وہ گجرات کے ڈی پی او ہیں جبکہ عمران خان صاحب پرویز الٰہی کی بجائے دوسری طرف انگلیاں اٹھارہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ حملے کی تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری میں خان صاحب جان بوجھ کر خود تاخیر تو نہیں کروا رہے تاکہ اس دوران جھوٹے الزامات عائد کر کے زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔

‏گولڈ کنگ سیٹھ عابد کا نیوکلیئر پروگرام سے کیا تعلق تھا؟

Back to top button