پاکستان دیوالیہ ہونے کی نہج تک کیسے پہنچ گیا؟

عمران خان کے آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے، معاشی پالیسیوں، غیر سنجیدہ اقدامات کی وجہ سے تباہ حال ملکی معیشت ایک سال بعد بھی سنبھلتی نظر نہیں آتی۔ ملکی معاشی صورتحال اس حد تک گھمبیر ہو چکی ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کی نہج پر پہنچ چکا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ایک کامیاب عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں ختم ہوئی تو نے اس تحریک کو لانے کی پس پردہ بڑی وجوہات میں ملک میں مہنگائی اور عام آدمیوں پر اس کے اثرات کو قرار دیا تھا لیکن اتحادی حکومت کے ایک سال کے دورِ حکومت میں مختلف معاشی اشاریوں میں تنزلی دیکھی جا رہی جن میں روپے کی قدر میں زبردست کمی، ڈیزل و پیٹرول کی قیمتوں اور شرح سود کا ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچنا، درآمدات پر پابندی اور ایل سیز نہ کھلنے کی وجہ سے اقتصادی شعبے کو بڑے نقصانات شامل ہیں۔
اس صورتحال کے باعث بہت سے حلقوں کی جانب سے اب یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آیا تحریک انصاف کے خاتمے کے وقت ملکی معیشت واقعی اس نہج تک پہنچ چکی تھی کہ اس پر قابو پانا ایک سال کے قلیل عرصے میں ممکن نہیں تھا یا آیا موجودہ حکومت ’سیاسی مفادات‘ پر مبنی اس نوعیت کے فیصلے کیے جو مزید خرابی کا باعث بنے؟
گزشتہ ایک برس کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ایک سو روپے سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے، پاکستان میں شرح سود میں ساڑھے نو فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، پیٹرول و ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 150 روپے کا اضافہ ہوا اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 10.5 ارب ڈالرز سے کم ہو کر 4.2 ارب ڈالرز رہ گئے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی مہنگائی کی شرح 12.7 فیصد سے بڑھ کر 35 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے، سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف نو اپریل 2022 کو کامیاب ہونے والی تحریک عدم اعتماد سے ایک دن قبل کاروباری ہفتے کے اختتام پر پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت 184.68 روپے کی سطح پر بند ہوئی تھی۔
بیرونی ذرائع سے کوئی قابل ذکر فنانسنگ حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، مصنوعی طریقے سے ایکسچینج ریٹ پر کنٹرول کو اس وقت ختم کرنا پڑا جب آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے مذاکرات شروع ہونے سے چند دن قبل 26 جنوری 2022 کو فری ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے ڈالر کی قیمت ایک دن میں 230 روپے سے 255 روپے تک جا پہنچی اور اس سے اگلے دن 262 روپے اور اسے اگلے چند روز میں 275 روپے تک جا پہنچی۔
ڈالر کی قدر کے اتار چڑھاؤ پر ماہر اقتصادی امور ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے جاتے ہوئے جو اقدامات کیے اس سے سب سے زیادہ نقصان آئی ایم ایف کے پروگرام کا ختم ہونا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ مگر اتحادی حکومت کی جانب سے اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنانا ایک سنگین غلطی تھی، اس کے بعد سے بہت سے غلط فیصلے لیے گئے۔
اقتصادی امور کے ماہر اور سابقہ حکومت کے معاشی امور کے ترجمان مزمل اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اتحادی حکومت نے دنیا کو پاکستان کی معاشی صورتحال کی غلط تصویر پیش کی جس سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔
صحافی و تجزیہ کار ندیم ملک کے مطابق جس وقت پی ڈی ایم حکومت عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے میں کامیاب ہوئی تھی اس وقت آئی ایم ایف کا پروگرام بند تھا، دوست ممالک سے بھی امداد نہیں آ رہی تھی اور ملک کو 17.3 ارب کا خسارہ تھا، تاہم وہ بھی موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر کنٹرول کرنے اور ڈالر کو دو سو روپے سے نیچے لانے کے دعوؤں کو غلط نعرہ قرار دیتے ہیں۔اس کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان 50 سالوں کی بلند شرح پر پہنچ گیا۔
موجودہ حکومت کے اپریل 2022 میں قیام سے پہلے مارچ کے مہینے کے آغاز میں تحریک انصاف کی حکومت نے ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں کو منجمد کر دیا تھا، جبکہ موجودہ حکومت کے ایک سال میں پٹرول کی قیمت میں 122.14 روپے کا اضافہ ہوا جو 149.86 سے بڑھ کر 272 روپے فی لیٹر ہو گئی۔ ڈیزل کی قیمت میں 148.85 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا جو اپریل 2022 میں 144.15 روپے سے اپریل 2023 میں 293 روپے فی لیٹر ہو گئی۔
ملک میں مہنگائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سیاسی مبصر ندیم ملک کا کہنا تھا کہ اگر تین سال میں پاکستان کو 75 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے۔ اس میں روپے پر دباؤ پر آئے گا اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، ملک میں رواں ماہ کے دوران تقریباً 50 فیصد تک شرح مہنگائی کسی بھی سیاسی حکومت کے لیے سازگار نہیں، حکومت کسی طرح سے بجلی اور پیٹرول کی سپلائی کو ممکن بنائے ہوئے ہیں ورنہ یہاں بھی صورتحال سری لنکا سے مختلف نہ ہوتی

اتحادی حکومت نے عمران کیلئے اپنی سیاست کیسے تباہ کی؟

Back to top button