عمران خان کو تحریک انصاف میں سے کون مارنا چاہتا ہے؟

اسٹیبلشمنٹ، سابق صدر آصف علی زرداری، شہباز شریف، مریم نواز، رانا ثناء اللہ سمیت دیگر حکومتی اتحادی سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں پر اپنے قتل کی سازش کا الزام لگانے والے سابق وزیر اعظم  اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نےتازہ بونگی یہ ماری ہے کہ انہیں ہسپتال میں علاج کے دوران ڈرپ میں زہر ملا کر لگانے کی سازش کی گئی تھی لیکن عین موقعہ پر یہ کوشش ناکام ہوگئی۔

 انہوں نے یہ انکشاف 25اپریل کے روز زمان پارک میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے سوالوں کے جواب میں کیا جس پر کارکنوں کی جانب سے ان کیلئے جذباتی ہونا اور اظہار یکجہتی کرنا ایک فطری سی بات تھی، لیکن یہاں یہ سوال بھی موجود ہے کہ عمران خان پر جب گزشتہ سال نومبر میں وزیر آباد میں حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ان کی ٹانگ پر زخم آئے تھے تو انہوں نے شوکت خانم ہسپتال میں علاج کرانے کو ترجیح دی تھی اور تمام وقت وہیں زیر علاج رہے جہاں سے وہ زمان پارک میں واقع اپنی رہائش گاہ پر منتقل ہوگئے اور پانچ ماہ ہونے کو آئے ہیں وہ مستقل طور پر وہیں سکونت پذیر ہیں۔

شوکت خانم ہسپتال میں ان کے علاج کیلئے مختص خصوصی انتظامات کے تحت قرب وجوار میں کوئی غیر متعلقہ شخص داخل نہیں ہوسکتا تھا اب اگر بقول عمران خان کے ان کو ڈرپ میں زہر ڈال کر مارنے کی سازش کی گئی تھی تو پھر یہ سازش یقیناً ان کے ہسپتال کے کسی قابل اعتماد ذریعے نے یا پارٹی کے کسی مرکزی رہنما نے ہی کی ہوگی لیکن اس کا انکشاف انہوں نے پانچ ماہ بعد وہ بھی کارکنوں سے گفتگو کے دوران کیا، اس تاخیر میں نہیں معلوم ان کی کیا مصلحت تھی ۔ پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ کیا انہوں نے اس بات کی تحقیقات کرائی کہ اس سازش میں کون کون شریک تھا اور ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی اور یہ تمام واقعہ منظرعام پر کیوںنہیں لایا گیا۔ تاہم عمران خان کی ماضی کو مدنظر رکھا جائےتو ان کا یہ دعویٰ بھی بے بنیاد لگتا ہے۔

خیال رہے کہ جنوری 2023 میں عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ سابق صدر آصف زرداری نے مجھے قتل کرانے کے لیے ایک دہشت گرد تنظیم پر پیسہ لگایا ہوا ہے جس میں طاقتور ایجنسی کے لوگ سہولت کار شامل ہیں۔انہوں نے زمان پارک میں ویڈیو لنک سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب پہلی بار ہماری حکومت ہٹائی گئی تو معلوم ہوا کہ مجھے قتل کرنے کی سازش کی گئی ہے جس کے بعد میں نے ان 4 لوگوں کے نام بتا کر ویڈیو بنا دی اور کہا کہ اگر قتل کیا گیا تو اس میں وہ 4 لوگ ملوث ہوں گے مگر وہ اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے دشمنوں نے پی پی پی رہنما کے ساتھ مل کر مجھے ختم کرنے کے لیے ’پلان سی‘ تیار کر لیا ہے۔

عمران خان کے الزامات کے رد عمل میں پاکستان پیپلزپارٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری پر سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ’قتل کے منصوبے‘ کے الزام کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو قانونی نوٹس بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔عمران خان کے الزامات کا جواب دینے کے لیے منعقدہ مشترکہ نیوز کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤ فرحت اللہ بابر، نیئر بخاری اور قمر زمان کائرہ نے عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی سربراہ ’دماغی توازن کھو چکے۔انہوں نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی ان الزامات پر قانونی چارہ جوئی کرے گی، انھوں  نے مطالبہ کیا تھا کہ عمران خان اپنے الزامات واپس لیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آنے کے بعد عمران خان اس الزام سے بھی پیچھے ہٹ گئے تھے اور خاموشی اختیار کر لی تھی۔

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے مسلسل سیاسی رہنماؤں اور اسٹیبلشمنٹ پر اپنے قتل کی سازش کا الزام کیوں عائد کرتے ہیں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سینئر صحافی امداد سومرو نے دعویٰ کیا  ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے بطور وزیر اعظم اپنے دور حکومت میں ‘اپوزیشن رہنماؤں کو جیل میں مارنے’ کی پوری کوشش کی تھی۔ چونکہ اب اپوزیشن اقتدار میں ہے  اس لیے وہ خوفزدہ ہیں کہ انہیں مار دیا جائے گا۔

اپنے یوٹیوب چینل پر ایک وی-لاگ میں صحافی نے کہا کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم اپنے دور حکومت میں اپوزیشن کو ختم کرنے کی نیت سے اپوزیشن لیڈروں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا تھا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو زہر دینے کے الزامات، سابق صدر آصف علی زرداری کو قید کے دوران طبی سہولیات فراہم کرنے سے انکار اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ کو ادویات کی فراہمی روکنے کے الزامات ایسے چند واقعات ہیں جو عمران خان کے منصوبے کو ثابت کرتے ہیں چونکہ عمران خان اب خود اپوزیشن میں ہیں اور ان کو خوف لاحق ہے کہ وہ بھی مکافات عمل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ پنجاب میں نئے انتخابات کے انعقاد اور ان کی تاریخ کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظرنہیں آ رہا اور اب اس تناظر میں پاکستان اور بھارت کے مابین نئی ممکنہ جنگ کے خطرے کا ذکر بھی سننے میں آ رہا ہے۔

 انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے رویوں میں کوئی لچک نظر نہیں آتی۔ ایک طرف سپریم کورٹ ان انتخابات کو 14 مئی کو ہی کرانے کا پکا ارادہ رکھتی ہوئی نظر آتی ہے تو دوسری طرف حکومت تاحال اس ارادے کی شدید مخالفت کر رہی ہے۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت انتخابات نہ کرانے کے حوالے سے مختلف وجوہات بیان کر رہی ہے، جن میں سے ایک وجہ ممکنہ پاک بھارت جنگ کا خطرہ بھی ہے۔ اس موقف پر ناقدین حیران ہیں اور سوال کر رہے ہیں کہ آخر ان انتخابات کا بھلا کسی ممکنہ جنگ سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔

اس بات کا پس منظر یہ ہے کہ 17اپریل کے روز وزارت دفاع نے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کرائی تھی، جس میں پاکستان کو درپیش خطرات بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ملک کو سرحد پار دہشت گردی، عدم سلامتی، کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے لاحق خطرات، داعش کے جنگجوؤں کی مختلف ممالک سے پاکستان واپسی اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے خطرناک عزائم کا سامنا ہے حتیٰ کہ بھارت کے ساتھ جنگ بھی ہو سکتی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ وہ عوامل ہیں جو پنجاب میں الیکشن کے انعقاد کے راستے میں حائل ہیں۔وزارت دفاع نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ عدالت پنجاب میں انتخابات کرانے کے حوالے سے اپنا فیصلہ واپس لے لے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انتخابات ہونے کی صورت میں بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان کے لسانی مسائل، پانی کے تنازعات اور دوسرے مسائل سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ پنجاب میں صورتحال ملک میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے اور یہ کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے سینیئر رہنماؤں کے خلاف ‘تھریٹ الرٹ‘ پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔مبصرین وزارت دفاع کی اس رپورٹ کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں اور بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس میں بھارت سے ممکنہ جنگ کا تذکرہ کر کے وزارت دفاع نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

تجزیہ نگار حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع کی طرف سے جاری کی جانے والی رپورٹوں کو پہلے ہی لوگ اتنی زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے لیکن اس رپورٹ کے بعد تو وہ وزارت دفاع کی کسی بھی رپورٹ کو بالکل سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔انہوں نے بتایا، ”میرے خیال میں کسی جنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی امکان ہے۔ حکومت نے اس طرح کی رپورٹ جاری کر کے پاکستان کی جگ ہنسائی کرائی ہے اور دنیا سوچ رہی ہے کہ کیا یہ ملک اتنا کمزور ہے کہ وہ اپنے ہاں انتخابات بھی نہیں کرا سکتا۔‘‘

تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد خان کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع کی رپورٹ پنجاب میں انتخابات ملتوی کروانے کی ایک ‘بھونڈی کوشش‘ ہے۔ انہوں نے بتایا، ”اس رپورٹ سے لوگوں کا حکومت اور اداروں دونوں پر اعتماد کم ہو گا لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ موجودہ صورتحال کی ذمہ دار صرف حکومت ہی نہیں بلکہ ملکی سپریم کورٹ اور عمران خان کی انا بھی اس ماحول کو خراب کر رہی ہیں۔‘‘ڈاکٹر توصیف احمد خان کے مطابق اس صورتحال میں سیاسی قوتوں کو نقصان ہو گا جب کہ فوج کا اثر و رسوخ مزید بڑھے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا تھا، جس کے بعد ملک میں طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیاں بڑھ گئی تھی۔ سن 2000ء سے لے کر اب تک پاکستان میں بےشمار دہشت گردانہ حملے ہوئے لیکن اس سارے برسوں میں بلدیاتی، صوبائی اور قومی سطح کے انتخابات تو ہوتے ہی رہے تھے۔دفاعی مبصرین کا خیال ہے کہ ملک میں سکیورٹی کی صورت حال اتنی بری نہیں جتنی کہ ماضی میں تھی۔ دفاعی مبصر جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں الیکشن طالبان دہشت گردوں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران بھی ہوئے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”میرے خیال میں آج حالات اتنی برے نہیں جتنے 2008 سے 2013 میں تھے یا دو ہزار اٹھارہ میں تھے۔‘‘

جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ کے مطابق جہاں تک پاکستان کی بھارت سے کسی نئی جنگ کے خطرے کا تعلق ہے، تویہ خطرہ تو ہر وقت رہتا ہی ہے، ”چونکہ بھارت پاکستان کا حریف ہے، اس لیے اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ پاکستان میں الیکشن کو ہی التوا میں ڈال دیا جائے۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت دفاع کو یہ رپورٹ بالکل جمع نہیں کرانا چاہیے تھی۔ ”اگر ایسا کوئی معاملہ تھا بھی، تو اسے عوامی سطح پر سامنے نہیں آنا چاہیے تھا۔‘‘

پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سپریم کورٹ اور حکومت دونوں کے رویوں میں سختی آتی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے بیس اپریل کے روز پنجاب میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو واپس لینا کوئی مذاق نہیں۔سپریم کورٹ نے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی طلب کیا اور انتخابات ایک وقت پر کرانے کے حوالے سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اس بات کا عندیہ دیا کہ چودہ مئی کے حوالے سے سنایا گیا فیصلہ واپس نہیں لیا جا سکتا۔

عدالت نے سیاسی رہنماؤں کو اس حوالے سے مذاکرات کا مشورہ بھی دیا اس پر جمعیت علماء اسلام اور پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ مولانا فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ عمران خان سے مذاکرات کرنے کا کہہ رہی ہے، انہوں نے سوال کیا، ”یہ عدالت ہے یا کوئی پنچایت؟‘‘انہوں نے سپریم کورٹ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے رویے میں لچک پیدا کرے اور یہ کہ عدالت جس اختیار کے تحت دھونس جما رہی ہے، وہ اس کا اختیار نہیں۔ پی ڈی ایم کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ جس ‘شخص کو سیاست سے باہر رکھنا چاہیے تھا، سپریم کورٹ اسے ہی سیاست کا محور بنا رہی ہے‘۔

دوسری طرف بلاول بھٹو زرداری نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو بالواسطہ طور پر آڑے ہاتھوں لیا۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی پارلیمان اور سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بندوق کی نوک پر مذاکرات کے لیے کہا جائے گا، تو اتحادیوں کو منانا مشکل ہو گا۔

کیا عدلیہ ملک میں مارشل لاء لگوانا چاہتی ہے؟

Back to top button