کیا عدلیہ ملک میں مارشل لاء لگوانا چاہتی ہے؟

سینئر صحافی مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی ساس کی آڈیو لیک سے اندازہ ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کے گھر میں کیا سوچ پائی جاتی ہے۔ اس وقت عدلیہ پاکستان میں مارشل لاء لگوانا چاہتی ہے کیونکہ عدلیہ بند گلی میں پھنس گئی ہے اسے نکلنے کا راستہ مارشل لاء میں ہی نظر آ رہا ہے۔ مزمل سہروردی کا مزید کہنا ہے کہ مجھے اس آڈیو لیک سے ایک ہی بات سمجھ آئی ہے کہ یہ کم بخت ملک میں مارشل لاء بھی تو نہیں لگانا چاہتے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ لیک آڈیو سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ کے ججز کی جانب سے اپنے گھر والوں کے اثر میں آ کر فیصلے دینے والی بات کی بھی تصدیق ہو گئی ہے۔
دوسری جانب سینئر اینکر پرسن ماریہ میمن کا کہنا ہے کہ سیاست کا کام عوام کے اندر موجود اختلافات کو ایک پٹڑی پر جاری رکھنا ہے۔ سیاست سے اختلافات ختم نہیں ہو سکتے مگر جب کم از کم اصول ہی ہوا ہو جائیں گے تو پیچھے نفسا نفسی اور بد امنی ہی بچے گی۔ اس سیاسی بے حسی سے نکلنے کے لیے نظام کو چلانا ضروری ہے اور یہ کام وہی رہنما کر سکتے ہیں جو کہ سیاسی فہم رکھتے ہوں۔ سیاستدان خود دعوی کرتے ہیں کہ عدالتوں کو سیاسی معاملات کو سیاست دانوں پر ہی چھوڑ دینا چاہئے مگر جب گیند ان کے کورٹ میں آتی ہے تو وہ کوئی اور ہی کھیل شروع کر دیتے ہیں۔اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں ماریہ میمن مزید کہتی ہیں کہ ملک اس وقت سیاست اور قانون کے بیچ معلق ہے۔ دو صوبوں میں نمائندہ حکومت ہی موجود نہیں ہے۔ آئینی تقاضا ہے کہ ایک خاص مدت میں الیکشن ہوں مگر حکومت کا اصرار ہے کہ نہ ایسا ہو سکتا ہے اور نہ وہ ہونے دے گی۔ حکمران جماعتوں کے خیال میں الیکشن ایک ہی روزہ ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کا جواب واضح ہے۔ اگر اکٹھے الیکشن چاہتے ہیں تو باقی اسمبلیاں بھی تحلیل کریں اور الیکشن کروا لیں۔ اسی بات پر بات آگے نہیں بڑھتی۔
قانون پر حتمی رائے عدالت کی ہے۔ عدالت عظمٰی نے اس پر اپنی واضح رائے دے دی ہے۔ اس کا جواب تنازعات کی صورت میں نکلا ہے۔ یہ تنازعات عدالت کے اندر سے بھی ابھرے ہیں اور باہر سے بھی۔ حکومت نے پارلیمان کا سہارا لے کر قانون سازی کر کے تنازعات کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔عدالت بھی اپنے فیصلوں پر قائم ہے مگر فیصلوں پر عملدرآمد مشکل سے مشکل کر دیا گیا ہے۔ قانون غیر مبہم اور غیر مشروط ہے مگر قانون کے نفاذ کے اردگرد شکوک و شبہات کی ایک باڑ لگا دی گئی۔ قانون کے راستے میں نت نئی قدغنون کے بعد اب عدالت کو بھی سیاستدانوں کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے جیسا کہ عید سے قبل ہونے والی سماعت میں دیکھنے میں آیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا سیاست کے پاس اس مخمصے کا حل ہے؟اس سوال کا جواب اثبات میں ڈھونڈنا مشکل ہے۔ سیاست کی بنیاد ذاتی اور گروہی مفاد پر رکھی جاتی ہے مگر اس کے باوجود کم از کم ایک سطح پر اتفاق ضرور ہوتا ہے۔ یہ اتفاق ان بنیادی اقدار پر فروغ پاتا ہے جو ذاتی مفاد سے ہٹ کر نظام کی بقا کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔
سیاست کا ذاتی مفاد گویا اجتماعی مفاد کے ساتھ مل کر چلتا ہے۔ اس دوران الیکشن میں مقابلہ بھی ہوتا ہے۔ الزامات اور اختلافات بھی سامنے آتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حالات کے ساتھ سمجھوتہ بھی کیا جاتا ہے۔
حالات سے سمجھوتہ کرنے کی روایت اب قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ غیر یقینی ہی سہی مگر فرض کیجیے کہ الیکشن کی تاریخ پر اتفاق ہو جائے۔ اس کے بعد بھی کشمکش جوں کے توں ہی رہے گی۔ انتخاب کروانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کی ہے اور یہ ادارے پہلے ہی متنازع ہو چکے ہیں۔
اس کے بعد نتائج کے دوران ٹمپریچر ایک نئی سطح پر جا پہنچے گا۔ آخر میں اندازہ یہی ہے کہ کوئی ایک فریق یا ممکن ہے کہ سارے فریق ہی نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر دیں۔ پھر سیاسی عدم استحکام کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔ یہ امکان بھی خارج از امکان نہیں کہ کوئی ایک فریق ایوان میں بیٹھنے سے ہی انکار کر دے اور سیاست کا پہیہ واپس دس سال پیچھے چلا جائے۔سیاست کی بے حسی اور قانون کی بے بسی عیاں ہے اور ان دونوں کے بیچ سارا نظام پھنسا ہوا ہے۔ قانون کا نفاذ آخر میں انسانوں کے ہاتھ میں ہے۔ عدالت کے احکامات مہذب معاشروں میں قانون کی عملداری یا رول آف لا کے لیے لاگو کیے جاتے ہیں۔ عوام تو صرف انتظار کر رہے ہیں کہ سیاست دانوں میں سے کون قانون کی بے بسی اور سیاست کی بے حسی کے بیچ سے مستقبل کا راستہ نکالے گا۔ جمہوریت کی ایک خوبصورتی بہر حال ضرور ہے کہ عوام کے پاس بھی سیاست دانوں کا کھاتا کھلا رہتا ہے اور جب بھی ان کو الیکشن میں موقع ملے وہ ووٹ کے ذریعے اپنا فیصلہ دیتے ہیں۔اور الیکشن کا سوال اب یہ نہیں کہ کب ہوں گے بلکہ یہ ہے کہ جب بھی ہوں گے واضح ہو جائے گا۔
