کیا شہباز شریف کی ناکامی عمران کی مقبولیت کی وجہ بنی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کارسلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران خان کے سرپرآج کل مقبولیت کا جو بھوت سوار ہے، وہ ان کا اپنا کارنامہ کم اور مخلوط حکومت کی ناکامی کا نتیجہ زیادہ ہے، لوگ حیران اور پریشان ہیں کہ پنجاب میں ترقیاتی کاموں کی وجہ سے کامیاب ترین قرار پانے والے شہباز شریف وزیر اعظم بن کر نہ تو معیشت سنبھال پائے ہیں اور نہ ہی معیشت کا بیڑہ غرق کرنے والے عمران خان کو لگام ڈال سکے ہیں۔ بلکہ سچ پوچھیں تو عمران کے سر پر آج کل پاپولریٹی کا جو بھوت سوار ہے، وہ ان کا اپنا کارنامہ کم اور مخلوط حکومت کی ناکامی کا نتیجہ زیادہ ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ میری دانست میں مخلوط حکومت کی ابتر کارکردگی کی وجوہات میں پہلی وجہ تو یہ ہے کہ حکومت جن لوگوں پر مشتمل ہے، ان کی آپس میں کوئی نظریاتی ہم آہنگی نہیں۔ مسلم لیگ(ن)، پختونخوا میپ، جے یو آئی ، بی این پی، اور جے یو پی وغیرہ میں کوئی نظریاتی ہم آہنگی نہیں، یہ جماعتیں دھاندلی کی پیداوار عمران خان حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں ان کی فسطائیت کے خلاف جمع ہوئی تھیں۔ مسلم لیگ نون نے اگرچہ پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم سے نکال دیا تھا لیکن جب انہیں یہ نظر آیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیاں ہٹنے سے خان حکومت گر رہی ہے تو نئی حکومت کی تشکیل کیلئے یہ سب دوباری اکٹھے ہو گئے۔ پھر عمران خان کی اتحادی ایم کیو ایم اور باپ پارٹی بھی پی ڈی ایم سے آ ملیں۔تضادات کی انتہا دیکھ لیجئے کہ اب ایک طرف بلوچستان عوامی پارٹی اور دوسری طرف محسن داوڑ اس حکومت کا حصہ ہیں جب کہ یہ حکومت دو تین ارکان کی اکثریت کے بل پر قائم ہے۔ ہر پارٹی اور ہر فرد وزیراعظم کو بلیک میل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس وجہ سے شہباز شریف کے ہاں وہ قوتِ فیصلہ نظر نہیں آتی جو بطور وزیراعلیٰ پنجاب ان کے ہاں دیکھنے کو ملتی تھی۔

عوامی نمائندگی غیرمنتخب ادارے نہیں سیاسی جماعتیں کرتیں ہیں

سلیم صافی کہتے ہیں کہ ایک اور مسئلہ یہ درپیش ہے کہ حکومت کے زیادہ مزے پیپلز پارٹی، جے یوآئی اور باپ وغیرہ لوٹ رہی ہیں لیکن حکومتی اقدامات کا دفاع صرف شہباز شریف کی مسلم لیگ کو کرنا پڑتا ہے بلکہ پوری مسلم لیگ بھی یکسو نظر نہیں آتی اور ایک دھڑا اس حکومت کا دفاع کرتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتاہے۔ انتہا دیکھ لیجئے کہ اے این پی اور آفتاب شیرپائو کی جمہوری وطن پارٹی تو حکومت میں شامل نہیں لیکن دوسری طرف چوہدری شجاعت حسین کے گروپ کے دو افراد وفاقی وزیر ہیں۔ حکومت سازی کے وقت آصف زرداری نے اپنے لئے ایک ایک وزارت پر خوب لڑائی لڑی لیکن اے این پی کو حکومت میں زرداری صاحب نے کوئی حصہ نہیں دلوایا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پی ڈی ایم اور اپوزیشن کے تمام رہنما مل کر حکومت سازی کیلئے مشاورت کرتے لیکن اے این پی اور شیرپائو کو نہ صرف مشاورت سے باہر رکھا گیا بلکہ ان کی قیادت کو وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں بھی مدعو نہ کیا گیا۔ پی ڈی ایم کے سربراہ کی حیثیت سے یہ مولانا کا فرض تھا کہ نہ صرف شیرپائو کو حکومت سازی کے وقت مشاورت میں شریک کرتے بلکہ انہیں حکومت میں کماحقہ حصہ بھی دلواتے لیکن وہ حکومت سازی کے وقت اپنا زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کے چکر میں انہیں سرے سے ہی بھول گئے۔ بعد میں جب پتہ چلا تو شہباز شریف نے انہیں بلا کر وزارت کی پیشکش کی لیکن ایک خود دار انسان ہونے کے ناطے انہوں نے وزارت لینے سے معذرت کرلی۔ دوسری طرف جب وزیراعظم اے این پی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی طرف متوجہ ہوئے تو ازالے کیلئے انہوں نے اس کی قیادت کو بلا کر پختونخوا کی گورنرشپ کی پیشکش کی لیکن مولانا اس میں بھی رکاوٹ بن گئے حالانکہ گورنر شپ ہر حوالے سے اے این پی کا حق ہے۔ وزیر اعظم کی طرف سے ازخود پیشکش اور تمام اتحادی جماعتوں کے اتفاق کے بعد تو ہر صورت وزیراعظم کو اپنا فیصلہ منوا لینا چاہئے تھا لیکن مولانا کی ناراضی سے بچنے کی خاطر وہ آج تک صوبے میں گورنر تعینات نہ کرسکے اور وہاں پی ٹی آئی کے اسپیکر ایکٹنگ گورنر کے طور پر اللوں تللوں میں مصروف ہیں۔

بقول سلیم صافی، یہی حال بلوچستان کا ہے۔ وہاں بھی ابھی تک وفاقی حکومت اپنا گورنر تعینات نہیں کرسکی۔ سندھ کی گورنر شپ کا پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے ساتھ وعدہ کیا تھا لیکن ایم کیوایم کے پیش کردہ ناموں کی سکیورٹی کلیئرنس نہیں ہو پا رہی۔ چنانچہ لوگ بجا طور پر یہ سوچتے ہیں کہ جو حکومت چار ماہ میں اپنے گورنرز نہ لگا سکی ، وہ کوئی اور سخت فیصلے کیا کر سکے گی؟ صافی کے بقول موجودہ حکومت کی ناکامی کی ایک اور بڑی وجہ صوبائی حکومتیں ہیں۔ پختونخوا اور پنجاب میں مخالف حکومتیں ہیں جب کہ سندھ اور بلوچستان میں اتحادیوں کی لیکن ان کی کارکردگی ناقص نہیں بلکہ شرمناک ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد زیادہ تر اختیارات اور وسائل صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں لیکن لوگوں اور میڈیا کی نظر صرف وفاقی حکومت پر ہوتی ہے جب کہ دوسری طرف عمران خان بھرپور سیاست کررہے ہیں۔ اب توسب کو سیلاب کا بہانہ مل گیا ہے۔ ناکامی کی ایک بڑی وجہ حکومتی صفوں میں یکسوئی کا فقدان ہے۔ یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ عمران حکومت کی ناکامیوں کا ٹوکرا پنے سر لینے کا فیصلہ نواز شریف اور آصف زرداری کا تھا۔ اگر نواز شریف کی مرضی نہ ہوتی تو شہباز شریف کبھی حکومت نہیں بنا سکتے تھے۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ حکومتی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں شریک لوگ اپنا کوئی مشترکہ اور متفقہ بیانیہ تشکیل دینے میں ناکام رہے، جب کہ میڈیا مینجمنٹ اور پروپیگنڈے کے معاملے میں آج بھی پی ٹی آئی اس سے بہت آگے ہے ۔ پی ٹی آئی اپنا جھوٹ سچ بنا کر بیچ سکتی ہے لیکن حکومت اپنا سچ بھی مارکیٹ نہیں کرسکتی۔ سب سے زیادہ نقصان حکومت کو مہنگائی نے پہنچایا لیکن یہ حکومت عوام کو اس کے عوامل اور عمران خان حکومت کے بلنڈرز سمجھانے میں ناکام رہی۔ حکومت بلاشبہ بہترین انتظام سے چلتی ہےاوریقیناً عمران کابینہ کے وزرا کی نسبت موجودہ کابینہ کے بعض وزرا زیادہ ماہر اور محنتی بھی ہیں۔ عمرانی سرکار کے مقابلے میں شہباز شریف بیوروکریسی سے بھی نسبتاً اچھا کام لے رہے ہیں لیکن کسی حکومت کی پشت پر جب تک مضبوط سیاست اور سیاسی آواز نہ ہو وہ لوگوں کے دلوں میں گھر نہیں کر سکتی۔

Back to top button