ملکہ الزبتھ دوئم پاکستان کی ملکہ کب اور کیسے رہیں؟

96 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہونے والی ملکہ الزبتھ دوئم کا پاکستان کے ساتھ کئی حوالوں سے گہرا تعلق تھا، جن میں سب سے پہلا رشتہ 14 اگست 1947 کو مملکت خداداد کے معرض وجود میں آتے ہی روپذیر ہوا۔ہندوستان سے انگریزوں کے انخلا کے بعد جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے اُبھرا تو تب برطانیہ کے تخت پر یہی ملکہ الزبتھ دوئم براجمان تھیں۔ آزادی کے فوراً بعد پاکستان کچھ عرصے تک سلطنت برطانیہ کی ایک وفاقی اکائی کے طور پر رہا، جس میں گورنر جنرل محمد علی جناح کو ملکہ برطانیہ کے نمائندے کی حیثیت حاصل تھی۔ تاہم 1956 میں ملک کے پہلے آئین کے بننے کے بعد پاکستان پر تاج برطانیہ کا تسلط پوری طرح ختم ہوا، اور برطانوی فیڈرل ڈومینیئن کے بجائے جمہوری ریاست کے طور پر جانا جانے لگا، تاج برطانیہ کے تسلط سے مکمل طور پر نکل جانے کے بعد بھی پاکستان کا ملکہ الزبتھ کے ساتھ تعلق قائم رہا، جو 1931 میں قائم ہونے والی تنظیم دولت مشترکہ یا کامن ویلتھ آف نیشنز کی صورت میں تھا۔
برطانیہ کے نئے بادشاہ چارلس سوم نے بادشاہت کا حلف اٹھا لیا
پاکستان اپنے قیام کے ساتھ ہی دولت مشترکہ کا رکن بن گیا، اور ماضی میں برطانیہ کے زیر تسلط رہنے والے ممالک پر مشتمل اس تنظیم کی سربراہ ملکہ الزبتھ تھیں، پاکستان کے ساتھ ملکہ الزبتھ کا تعلق صرف دور سے ہی قائم نہیں تھا، بلکہ انہوں نے اپنی زندگی کے دوران کم از کم دو مرتبہ ماضی میں ان کی کالونی رہنے والے اس آزاد اور خود مختار ملک کا دورہ بھی کیا۔
پہلی مرتبہ ملکہ الزبتھ 1961 میں پاکستان آئیں، جب ان کی عمر 34 سال تھی، اور اس سرکاری دورے کے دوران انہوں نے 15 دن پاکستان میں گزارے، یکم سے 16 فروری تک جاری رہنے والے دورے میں ملکہ برطانیہ کے ساتھ ان کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ بھی موجود رہے، اور شاہی جوڑے نے کراچی، پشاور، کوئٹہ، لاہور اور شمالی علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ لباس کے معاملے میں ملکہ الزبتھ ہمیشہ سے خوش لباس خاتون رہی ہیں، اور ان کے پاکستان کے پہلے دورے کے دوران کراچی میں ایک تقریب کے لیے پہناوے سے متعلق پاکستان کے انگریزی روزنامہ ڈان نے لکھا تھا ’ملکہ نے کمر پر بیلٹ والا پیلا لباس، میچنگ پروں کی ٹوپی، چاندی کے سرمئی دستانے اور جوتے، تین تاروں والا موتی کا ہار اور موتیوں کی بالیاں پہن رکھی تھیں۔
یکم فروری کو پاکستان کے اس وقت کے دارالحکومت کراچی پہنچنے پر صدر ایوب خان نے ان کا استقبال کیا، جبکہ شاہی جوڑے کو 21 توپوں کی سلامی بھی پیش کی گئی تھی، اس وقت کے اخبارات میں ملکہ الزبتھ دوئم اور ان کے شوہر کو کراچی کے فریئر ہال میں ایک عشائیے کا ذکر بھی موجود ہے، جس میں لگ بھگ پانچ سو مہمان موجود تھے۔
ملکہ الزبتھ نے پاکستان کا دوسرا اور آخری دورہ 36 سال بعد اکتوبر 1997 میں پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر کیا، اور اس مرتبہ بھی ان کے شریک حیات شہزادہ فلپ ان کے ساتھ موجود تھے۔ اس مرتبہ شاہی جوڑا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچا، جہاں وزیر اعظم نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو نے ان کا استقبال کیا، اسلام آباد پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد شاہی جوڑے کو فیصل مسجد لے جایا گیا، جہاں پاکستانی اخبارات کے مطابق ملکہ الزبتھ نے مسجد میں موجودگی کے دوران سارا وقت اپنا سر تعزیما ًسفید دوپٹے سے ڈھانپے رکھا تھا۔
ملکہ الزبتھ نے فیصل مسجد کے اندر جانے سے پہلے اپنے جوتے اتارے، اور ان کے پیروں کو زمین سے لگنے سے بچانے کی خاطر جرابیں چڑھا لیں تھیں، اس وقت انجنیئر عشرت تاج وارسی نے ملکہ کے جوتوں سمیت فیصل مسجد میں داخل ہونے کی مخالفت کی تھی اور ان کی مداخلت پر ہی ملکہ نے مسجد کے باہر جوتے اتار کر چمڑے کے موزے پہنے اور پھر مسجد میں داخل ہوئی تھیں۔
ملکہ الزبتھ کے دوسرے دورے کا اہم واقعہ ان کا پاکستان کی پارلیمان کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب تھا، جس میں انہوں نے اسلام آباد اور دلی کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیا تھا، اس دورے کے دوران ملکہ الزبتھ لاہور بھی گئیں، جہاں وزیر اعظم نواز شریف نے ان کے اعزاز میں شاہی قلعے میں پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا تھا، لاہور میں قیام کے دوران ملکہ نیشنل کالج آف آرٹس، کرائسٹ چرچ سکول، اور گورنر ہاؤس بھی گئیں۔
