5000 سال قدیم موہنجو داڑو سے کاپر کی مورتی دریافت

سندھ کے پانچ ہزار سال قدیم تاریخی شہر موہنجو دڑاو میں قدیم اشیا ملنے کا سلسلہ جاری ہے، تازہ خبر یہ ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے بعد موہنجو داڑو کے صدیوں پرانے کھنڈرات سے کاپر کی مورتی ملی ہے جس میں سر سے اوپر تک باریک سوراخ بھی ہے، متعلقہ حکام نے اس مورتی کو آثار قدیمہ کے ماہرین کو بھیجا ہے، تاکہ اس کے متعلق مزید معلومات حاصل کی جائیں۔ حکام کے مطابق لاکٹ کے طور پر پہنی جانے والی اس مورتی کی لمبائی 42.93 ملی میٹر، چوڑائی 16.46 ملی میٹر اور وزن چھ گرام ہے، موہن جو داڑو کے نگہبان نوید سانگاہ کے مطابق یہ مورتی درمیان سے ٹوٹی ہوئی ہے۔
انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق نوید سانگاہ نے بتایا کہ حالیہ بارشوں کے بعد موہن جو داڑو ایئرپورٹ کی طرف ڈی کے ایریا میں سیاحوں کی رہنمائی کرنے والے گائیڈ کو یہ مورتی ملی، یہ مورتی کاپر کی طرح کی ایک دھات کی بنی ہوئی ہے جس میں اوپر ایک چھوٹا سا سوراخ بھی موجود ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے لاکٹ کی طرح پہنا جاتا ہوگا۔ واضح رہے کہ 100 سال پہلے 1922 میں اس قدیم شہر کی دریافت کے بعد اس کے مختلف حصوں کو مختلف نام دیے گئے تھے۔ مرکزی بڑے سٹوپا والے حصے کو سٹوپا اور دیگر حصوں کو گریٹ باتھ، ایس ڈی ایریا، ڈی کے ایریا، ایچ آر ایریا، منیر ایریا وغیرہ کے نام دیئے گئے۔
عوامی نمائندگی غیرمنتخب ادارے نہیں سیاسی جماعتیں کرتیں ہیں
سینئر آرکیالوجسٹ علی حیدر گاڈھی کے مطابق موہن جو داڑو شہر کے کل رقبے میں سے تاحال صرف 10 فیصد حصے کی ہی کھدائی کی جا سکی ہے جبکہ 90 فیصد حصے کی کھدائی ابھی ہونا باقی ہے۔ یہ مورتی کھدائی نہ ہونے والے حصوں میں سے ایک جگہ ملی جسے ’ڈی کے ایریا‘ کہا جاتا ہے۔ علی حیدر گاڈھی کے مطابق ابھی تک موہن جو داڑو کے 90 فیصد حصے پر کھدائی نہیں ہوئی ہے اس لیے جب شدید بارشیں ہوتی ہیں تو کئی نوادرات نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں مگر یہ لاکٹ نما مورتی منفرد ہے، یہ بظاہر تو بدھا کی مورتی لگ رہی ہے، مگر بدھا کی مورتی کے سر کے پیچھے ایک ہالہ نما پلیٹ بنی ہوتی ہے،لیکن اس مورتی میں وہ پلیٹ موجود نہیں ہے، ہوسکتا ہے پلیٹ ٹوٹ گئی ہو مگر یہ ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔
مورتی کی دریافت کے بعد امریکہ میں مقیم صحافی حسن مجتبیٰ نے اپنی فیس بک پوسٹ پر لکھا کہ یہ ’دھرتی ماں کا مجسمہ‘ ہے، جس کا انتظار صدیوں سے کیا جا رہا تھا، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے نوید سانگاہ نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ہم نے یہ مورتی آثار قدیمہ کے ماہرین کو بھیجی ہے، وہ اس پر بہتر تبصرہ کرسکتے ہیں۔نوید سانگاہ سے جب پوچھا گیا کہ یہ مورتی کیا سانچے سے ڈھالی گئی ہو گی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ مورتی کاپر کی ہونے کی وجہ لمبے عرصے تک زمین میں رہنے کے باعث مڑ گئی ہے۔ اس پر فنگس لگی ہے جسے اتار کر اسے صاف کیا جائے گا، علی حیدر گاڈھی کے مطابق کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ موہنجو داڑو کے آثار قدیمہ سے ڈانسنگ گرل یا پروہت کے مجسمے کی طرح بہت سی چیزیں دریافت ہونا ابھی باقی ہیں۔
موہنجو داڑو میں تاحال کی جانے والی 10 فیصد کھُدائی کے دوران ملنے والے سینکڑوں نوادرات میں سے پروہت راجہ یعنی کنگ پریسٹ، ڈانسنگ گرل یا رقاصہ اور ایک سینگ والے گھوڑے کے جسم جیسے جانور یونی کون کے مجسمے والی مہریں انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس شہر کو حقیقی معنوں میں ماہر آثار قدیمہ راکھل داس باندھو پادھیائے المعروف آر ڈی بینرجی نے دریافت کیا تھا، جنھوں نے 1920 میں یہ خیال پیش کیا کہ موہن جو داڑو کے مقام پر ممکنہ طور پر بدھا کا مجسمہ ہوسکتا ہے اور شروعاتی کھُدائی کے دوران انھیں چقماق پتھر کی کھرچنی اور کچھ دیگر چیزیں ملی تھیں۔1922 میں برطانوی ماہر سر جان مارشل نے ان کی اس دریافت کی تصدیق کی، اس قدیم شہر کی کھُدائی کے ایک سو سال مکمل ہونے کے باجود اس قدیم شہر کے متعلق بہت سے راز تاحال نہیں کھل سکے۔
2020 میں سندھ حکومت کی جانب سے اس شہر کی زبان سمجھنے کے لیے مختلف ممالک کے ماہرین کو بلایا گیا تاکہ وہ اس قدیم شہر کے سکرپٹ کی گُتھی سلجھانے کی کوشش کریں، مگر پھر بھی زبان سمجھ نہیں آئی، کھُدائی کے دوران موہنجو داڑو سے سینکڑوں کی تعداد میں مہریں ملیں ہیں جن پر لکھی پُراسرار تحریریں تاحال پڑھی نہیں جا سکیں۔ ان مہروں پر جانور اور دیو مالائی شکلیں بنی ہیں۔کھُدائی کے دوران کوئی قبرستان بھی نہیں ملا، جس سے پتہ چلے کہ موہنجو دڑو شہر کے لوگ اپنے پیاروں کو مرنے کے بعد دفنایا کرتے تھے، جلاتے تھے یا پانی میں بہا دیا کرتے تھے۔ یاد رہے کہ موہنجو داڑو سندھی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ’مُردوں کا ٹیلہ۔
