تحریک طالبان عمران دور میں دوبارہ مضبوط کیسے ہوئی؟

پشاور میں پولیس لائن مسجد میں پیر کو ہونے والے خودکش حملے میں سو سے زیادہ شہادتوں   نے پاکستانیوں کو ملک میں 2014 سے پہلے والے شدت پسندی کے دور کی یاد دلا دی ھے. سیاسی اور دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وقت کی ضرورت یہ ہے کہ  ملک میں شدت پسندی کے خلاف نرم گوشہ رکھنے والوں کی نہ صرف نشاندہی کرکے حوصلہ شکنی کرے بلکہ ان کو ختم کرنا ہو گا۔ اب ملک میں ’گڈ طالبان اور بیڈ طالبان‘ کی تفریق کو ختم کرنا ہو گا۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2014 میں جب پاکستان کی فوج نے افغانستان سے متصل ملک کے قبائلی اضلاع میں فوجی کارروائی کی تو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک بہت سے شدت پسند مارے گئے اور زیادہ تر سرحد پار کرکے افغانستان چلے گئے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں صدر اشرف غنی کے دورِ حکومت میں ٹی ٹی پی کے خلاف افغانستان میں بھی کارروائیاں کی گئی جن کے باعث پاکستان میں اس کالعدم جماعت کے سلیپنگ سیلز اور نیٹ ورک کمزور ہوا۔

مگر پھر سنہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹی ٹی پی ایک بار دوبارہ سرگرم ہوئی۔ اس دوران تحریک انصاف کے دور حکومت میں سول و عسکری قیادت نے یہ پالیسی اپنائی کہ اگر افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے افراد غیر مسلح ہو کر پاکستان آنا چاہیں تو آ جائیں، سکیورٹی تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ ملک میں شدت پسند کبھی ختم نہیں ہوئی تھی تاہم اس میں کمی ضرور واقع ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی 2014 کے بعد بھی خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں معمولی نوعیت کی کارروائیاں کرتی رہی ہے جن میں طالبان کے افغانستان میں برسرِاقتدار آنے کے بعد تیزی آئی ہے اور اب یہ کالعدم جماعت بڑے حملے بھی کر رہی ہے۔

عمران خان کے دور حکومت میں سول و عسکری قیادت کی جانب سے ٹی ٹی پی کو غیر مسلح ہو کر پاکستان آنے کی اجازت دینے کے فیصلے پر اُن کا کہنا تھا کہ ’ملک میں حالیہ لہر میں شدت کی اہم وجہ یہ پالیسی ہے، میرے خیال میں ان کو ملک میں آنے کی اجازت دینا ایک سٹیرٹیجک بلنڈر تھا اور انھوں نے یہاں آ کر دوبارہ دہشتگرد کارروائیوں کا آغاز کیا۔‘

تاہم ماضی قریب میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر بیرسٹر سیف اس سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اُن کی ترجیحات تبدیل ہو گئی ہیں کیونکہ اس سے قبل وہ امریکی افواج پر حملے کر رہے تھے لیکن امریکہ کے انخلا کے بعد انھوں نے پاکستان سے کہا کہ آپ اپنے لوگوں کو واپس لیں اور آباد کریں۔

سابقہ دور حکومت میں ٹی ٹی پی کے غیر مسلح ہو کر واپس آنے پر ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تصویر کا ایک رخ دیکھنے کی وجہ ہے، کیونکہ ملک میں شدت پسندی کے واپس آنے کی صرف یہ وجہ نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان دنیا میں پہلا ملک نہیں جو لڑائی لڑ رہا ہے، دنیا کے بہت سے ممالک کے تجربے کو دیکھا جائے تو فریقین میں جنگ بھی ہوتی ہے اور مذاکرات کے دور بھی ہوتے ہیں۔

ماضی میں حکومتوں نے آپریشن ضربِ عضب سے بہت پہلے بھی شدت پسندوں کے ساتھ تحریری معاہدے کیے، سیز فائر اور فائر بندی کے اعلانات ہوئے اور ٹوٹے۔سنہ 2014 میں ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد ان کی مرکزی قیادت افغانستان فرار ہو گئی تھی جس کے باعث پاکستان میں اس تنظیم کا نیٹ ورک کچھ وقت کے لیے کمزور ہو گیا تھا۔

اس دوران ٹی ٹی پی قیادت پر افغانستان میں بھی چند حملے ہوئے جن کا الزام انھوں نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر عائد کیا اور اس دوران یہ تنظیم خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں اغوا برائے تاوان جیسے جرائم کی وارداتوں میں ملوث رہی اور ماہرین کے مطابق ایسی کارروائیاں افغانستان میں بیٹھ کر کی جا رہی تھیں۔

اس بارے میں سکیورٹی امور کے ماہر عامر رانا کہتے ہیں ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ کے مارے جانے کے بعد نور ولی محسود نے گروہ کی قیادت سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اس نے تمام گروہوں کو اکٹھا اور متحرک کیا اور اسی دوران افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ دونوں عوامل اس کی قوت میں اضافے کا سبب بنے۔

اس کی بہت سے توجیحات پیش کی جاتی ہیں۔ کبھی اسے سیاسی عدم دلچسپی کا نتیجہ کہا گیا تو کبھی داخلہ اور خارجہ پالیسی کو اس کی وجہ قرار دیا گیا۔ مگر جو بات واضح ہے وہ یہ کہ ٹی ٹی پی کے کچھ ایسے مطالبات تھے جو سویلین اور عسکری قیادت کو قبول نہیں تھے جبکہ طالبان بھی اُن شرائط پر بضد رہے۔

عمران خان کے دور حکومت میں جب ٹی ٹی پی سے منسلک افراد کو غیر مسلح ہو کر آنے کا کہا گیا تو وہ ملک میں آئے تو ضرور مگر وہ مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہوئے اور نئی حکومت نے بھی ان سے اس کا مطالبہ کیا کہ وہ آئین پاکستان کو تسلیم کریں اور قانون کے تحت غیر مسلح ہوں مگر ٹی ٹی پی نے ایسا نہیں کیا اور ملک میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ جاری رکھا۔

عامر رانا کہتے ہیں کہ ان مذاکرات کو ناکام ہونا ہی تھا کیونکہ ’ان کے فاٹا کی سابقہ حیثیت کو بحال کرنے، عام معافی کا اعلان کرنے، ہتھیار نہ ڈالنے سمیت بہت سے ایسے مطالبات تھے جو قابل قبول نہیں تھے کیونکہ اس کا مطلب یہ لیا جانا تھا کہ ’ریاست پاکستان نے ٹی ٹی پی کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔‘‘

عامر رانا کہتے ہیں کہ یہ پاکستان میں افغانستان کی طالبان حکومت کی طرح کا اسلامی نظام چاہتے ہیں مگر اس کے سربراہ ولی محسود کا ایک خاکہ ہے جس کا ذکر اس نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے کہ وہ ملک کے قبائلی اضلاع میں افغانستان کی طرز پر ایک اسلامی امارات قائم کرنا چاہتے ہیں۔

بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ  ان کے چند مطالبات تھے جن میں سے کچھ ہمارے لیے بالکل قابل قبول نہیں تھے جن میں سابقہ فاٹا کی حیثیت کو بحال کرنا شامل ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’یہ مطالبہ پاکستان اور عوام کو شاید اس انداز میں قبول نہ ہو کیونکہ اس کو ملکی پارلیمنٹ نے آئینی ترمیم سے منظور کیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ’اگر اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی تو دھماکے بھی ہوں گے اور حالات خراب ہو گے لیکن اگر مقابلہ کرنا ہے تو حکومت کو ’سٹک اینڈ کیرٹ‘ کا استعمال کرنا ہو گا۔ جہاں وہ کوئی شدت پسند کارروائی کرتے ہیں وہاں بھرپور جواب دینا چاہیے، اور جہاں پر مذاکرات کی بات ہو وہاں نرم پالیسی اختیار کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے قوم کو ایک پیج پر ہونا ہو گا اور نیشنل ایکشن پلان میں وضع کردہ نکات پر مکمل عمل پیرا ہونا ہو گا۔‘

جبکہ عامر رانا کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی اس تازہ لہر کو روکنے کے لیے اس وقت حکومت کے پاس دو طریقے ہیں ایک وہ افغان طالبان سے اس بارے میں بات کریں۔ اور دوسرا یہ کہ پاکستان میں اس وقت انسداد دہشتگردی کے جو میکنزم موجود ہیں انھیں مؤثر طریقے سے فعال اور استعمال کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’اب وقت کی ضرورت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کی سیاسی قیادت ملک میں شدت پسندی کے خلاف نرم گوشہ رکھنے والوں کی نہ صرف نشاندہی کرکے حوصلہ شکنی کرے بلکہ ان کو ختم کرنا ہو گا۔ اب ملک میں ’گڈ طالبان اور بیڈ طالبان‘ کی تفریق کو ختم کرنا ہو گا۔‘

مونس الہٰی کا ایک اور دوست غائب

Back to top button