عمران اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ میں نہ دھکیلیں

پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آغوش میں آنکھ کھولنے اور اس کے آنگن میں پرورش پانے والی قاف لیگ نے وزیر اعظم عمران خان کو خطرے میں دیکھ کر ایک مرتبہ پھر وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم بلاوجہ اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کے کیمپ میں نہ دھکیلیں۔

کپتان حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے دفتر سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’اپوزیشن کے جال میں پھنسنے کے بجائے وزیراعظم کو ٹھنڈے دل و دماغ سے اپنے فیصلے کرنے چاہییں۔ پریس ریلیز کے مطابق اتحادی جماعتوں نے ہر مشکل وقت میں حکومت کا بھرپور ساتھ دے کر اس کو اپوزیشن کے پنجے سے چھڑایا ہے لہذا احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔.

پرویز الٰہی نے اپنے بیان میں دبے لفظوں میں حکومت پر تنقید بھی کی اور کہا کہ حکومت میں رہتے ہوئے اپوزیشن لیڈروں جیسے بیانات جاری کرنے سے نہ صرف حکومت کی اپنی سیاسی پوزیشن کمزور ہوتی ہے بلکہ انتظامی مشینری کا مورال بھی ڈاؤن ہوتا ہے۔ پرویز الٰہی کا اشارہ عمران خان کی اس حالیہ دھمکی کی جانب تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر انہیں اقتدار سے نکالا گیا تو وہ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور مزید خطرناک ثابت ہوں گے۔

پرویز الہی نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کوئی بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے اتحادیوں سے بامقصد مشاورت کی روش کو اپنائے اور خواہ مخواہ اتحادیوں کو اپوزیشن کے کیمپ میں نہ دھکیلے۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں پرویز الٰہی نے کسی کا نام لیے بغیر ان افواہوں کی جانب اشارہ کیا ہے جن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نئے ارمیبچیف کی تقرری کا اعلان مقررہ وقت سے چھ ماہ پہلے بھی کر سکتے ہیں۔پرویز الہی نے سیاست میں بد تہذیبی کے کلچر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کردار کشی کرنا بھی ہے۔

حکومت کی اتحادی جماعت اصل میں موجودہ سیاسی صورت حال میں کیا پیغام دینا چاہتی ہے اس پر بات کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’مسلم لیگ ق یا کسی بھی اتحادی جماعت کے بیان ہمیشہ ایک ہی سیاق و سباق کے حامل ہوتے ہیں اور وہ سیاق و سباق ہے اسٹیبلشمنٹ کا موڈ اور اشارہ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں مقتدر حلقوں کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اور عام طور پر اتحادی جماعتیں انہی مقتدر حلقوں کے اشارے کی منتظر رہتی ہیں۔ آج ان کو اشارہ مل جائے تو وہ حکومت چھوڑ کر اپوزیشن کیمپ میں شامل ہوں ہو جائیں گی۔ ان کی ہر دور میں یہی سیاست رہی ہے۔

عمران نے نیا آرمی چیف لانے کی کوشش کی تو بھگتیں گے

اس سوال پر کہ چوہدری پرویز الٰہی درپردہ حکومت کو کیا سمجھانا چاہ رہے ہیں؟ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’واضح سی بات ہے کہ موجودہ حالات میں پرویز الٰہی اپنی آواز بلند کر کے صرف یہ بتا رہے ہیں کہ وہ اس کھیل کا ابھی بھی مرکزی مہرہ ہیں۔ چونکہ حکومت ان کی حمایت کی مرہون منت ہے اس لیے وہ اس سیاسی منظرنامے میں اپنی حیثیت منواتے رہتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کپتان حکومت اور مسلم لیگ ق کے درمیان محبت اور نفرت کا یہ تعلق شروع دن سے ایسے ہی چل رہا ہے۔ کبھی حکومتی پالیسیوں پر سرعام تنقید تو کبھی شدید ضرورت کے وقت حکومت کو پارلیمنٹ اور سینیٹ میں پوری طرح آکسیجن فراہم کرنا۔

چاہے وہ سینیٹ کے انتخابات ہوں یا حکومت کے تھوک کے حساب سے لائے گئے نئے قوانین کو بغیر بحث کیے منظور کروانا ہو مسلم لیگ ق نے ایسے موقعوں پر حکومت کا ساتھ ہی دیا۔  سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ بات ہے جس کی طرف میں اشارہ کررہا تھا اور چوہدریوں کی یہی سیاست ہے۔ وہ اپنے وجود کو تسلیم کروانا کبھی نہیں بھولتے اور گاہے گاہے حکومت کو باور کرواتے رہتے ہیں۔

چونکہ ابھی مقتدر حلقے خود خاموش ہیں اس لیے یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ بتاتے ہیں کہ ہمارا کردار آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا حکومت بناتے وقت تھا۔ تو میرا یہی خیال ہے کہ ابھی یہ کھیل کچھ عرصہ ایسے ہی چلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گجرات کے چوہدری ابھی تک سیاسی صورتحال کو خاموشی سے دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں جیسے ہی اندازہ ہوا کہ تبدیلی کا وقت ہو گیا ہے تو وہ چھلانگ مار کر دوسری طرف نکل جائیں گے۔

Back to top button