کروڑوں روپے مالیت کے 70 باز مر گئے یا بیچ دئیے گئے؟

کراچی میں 15 مہینے پہلے بازیاب کرائے گے کروڑوں روپے مالیت کے 75 بازوں میں سے 70 کے مر جانے کا انکشاف ہوا ہے چنانچہ یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ محکمہ کسٹم کی تحویل میں موجود ان بازوں کی ہلاکت کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ تاہم دوسری جانب اس طرح کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ قیمتی بازوں میں سے بیشتر کو کسٹم حکام کی ملی بھگت سے بیچ دیا گیا تھا اور اب ان کے مرنے کی کہانیاں گھڑ کر سنائی جا رہی ہیں۔

فالکن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق یہ باز انتہائی بیش قیمت تھے اوراوسطاً ہر باز کی قیمت پانچ لاکھ روپے سے زائد تھی۔ لیکن کچھ کسٹم افسران کی رائے اس کے برعکس ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کچھ بازوں کی قیمت ایک سے دو کروڑ روپے تک بھی ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے کراچی کسٹم کے ڈپٹی کمشنر انعام اللہ وزیر کہتے ہیں کہ اکتوبر 2020 میں کسٹم حکام نے سخت مزاحمت اور تگ و دو کے بعد غیر قانونی بازوں کی ایک کھیپ پکڑی تھی جس میں 75 باز شامل تھے۔ اس کا باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں باز مال مقدمہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بازوں کی اس کھیپ کو سنبھالنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گے تھے۔

کراچی کسٹم ہی کے ایک مقام پر ان کو فالکن ایسوسی ایشن آف پاکستان کی نگرانی میں رکھا گیا تھا مگر پچھلے 15 ماہ میں 75 میں سے 70 باز ہلاک ہو گے ہیں اور صرف پانچ زندہ بچے ہیں۔ انعام اللہ وزیر کہتے ہیں کہ باز مال مقدمہ ہیں۔ یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ جو باز مر چکے ہیں انھیں عدالت میں پیش کرنے کے لیے فریز میں سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔

عمران کو بچانے کے لیے جمائمہ سے واپسی کا مطالبہ

فالکن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر کامران خان یوسفزئی کہتے ہیں کہ کسٹم حکام کی درخواست پر ہم نے بازوں کی دیکھ بھال کی۔ اس سلسلے میں جگہ سمیت کئی وسائل محکمہ کسٹم نے مہیا کیے اور باقی کا انتظام ہم نے خود کیا تھا۔ جب یہ معاملہ ہمارے سپرد ہوا تو ہم نے حکام کو بتا دیا تھا کہ کراچی کے ماحول اور موسم میں ان بازوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کامیاب ہونے کا امکان کم ہی ہے۔ کامران یوسفزئی کے مطابق یہ باز زیادہ سے زیادہ گرمی 30 سے 34 ڈگری تک برداشت کر سکتے ہیں۔

ان کے لیے پنکھوں اور ایئر کنڈیشنر تک کا انتظام کیا گیا تھا مگر پھر بھی یہ گرمی برداشت نہیں کر پائے اور زیادہ تر کی موت تب ہوئی جب کراچی کی گرمی اور حبس اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ کامران خان یوسفزئی کہتے ہیں کہ ہم نے بازوں خو بچانے کے لیےبگلگت بلتستان میں مرکز قائم کیا تھانتا کہ انہیں وہاں پر منتقل کر دیا مگر افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔

کامران خان یوسفزئی کہتے ہیں کہ باز کو مناسب موسم اور ماحول شمالی علاقہ جات اور گلگت بلتستان میں مل سکتا ہے۔ کراچی میں جو پانچ باز بچے ہیں وہ بھی مر جائیں گے اگر ان کو گلگت منتقل نہ کیا گیا۔ تاہم اس طرح کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ قیمتی بازوں میں سے بیشتر کو کسٹم حکام کی ملی بھگت سے بیچ دیا گیا تھا اور اب ان کے مرنے کی کہانیاں گھڑ کر سنائی جا رہی ہیں۔

Back to top button