عمران کو بچانے کے لیے جمائمہ سے واپسی کا مطالبہ

ٹوئٹر پر عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان سے کیا جانے والا یہ مطالبہ موضوع بحث ہے کہ وہ فورا پاکستان واپس آئیں اور عمران خان کو بے وقوف دوستوں سے بچائیں۔ یہ بحث تب شروع ہوئی جب ایک ٹویٹر صارف نے جمائمہ سے پاکستان واپسی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان آپ کے بغیر کچھ نہیں، وہ اپنے دوستوں کے ہاتھوں بے وقوف بن رہے ہیں۔

خیال رہے کہ عمران خان اور جمائمہ گولڈ سمتھ 1995ء سے 2004ء تک نکاح میں رہے تھے۔ اس کے بعد دونوں میں طلاق ہو گئی۔ جمائمہ ان دنوں اپنے دونوں بیٹوں سلیمان اور قاسم کے ساتھ برطانیہ میں مقیم ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ جمائمہ خان نے ایک ٹویٹ میں آن لائن گیم ورڈلی میں حاصل کردہ اپنا سکور شیئر کیا تھا۔ اس ٹویٹ کے جواب میں ایک پاکستانی صارف نے انہیں لکھا کہ ’پلیز واپس آجائیں، عمران خان آپ کے بغیر کچھ نہیں ہیں، وہ اپنے دوستوں کے ہاتھوں بے وقوف بن رہے ہیں۔

جمائمہ کی ٹویٹ اور اس پر دیے گئے جواب کا سکرین شاٹ شیئر کرنے والے ایک ٹویپ نے لکھا کہ ’ورڈلی بنانے والا یہ توقع نہیں کر رہا ہوگا کہ گیم سے متعلق ٹویٹ پر کوئی ایسا جواب بھی دے گا۔‘ اس کے جواب میں جمائمہ نے قہقہے کی ایموجی شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’باقی کی زندگی، میری ہر ٹویٹ پر ایسا ہی ہو گا۔‘ اسکے بعد ایک اور ٹویٹ میں جمائمہ نے ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ بھی لگایا۔

گلوکارہ مومنہ مستحسن نور مقدم کے دفاع میں نکل آئیں

ان کی ٹویٹ پر تبصرہ کرنے والے صارفین نے جہاں پاکستانی ٹویپ کے مطالبہ نما تجویز کو غیر ضروری قرار دیا تو کچھ ایسے بھی تھے جو اس کی وجوہات تلاش کرتے دکھائی دیے۔ سیدہ نامی ہینڈل  نے جمائمہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’ذرا تصور کریں، یہ معصوم پاکستان آپ سے اب بھی کتنی محبت کرتے ہیں۔‘جمائمہ کے اس موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ آئندہ ہر ٹویٹ پر ایسا ہی ہو گا، ٹویپس کا کہنا تھا کہ ’یہ سچ ہے۔ جمائمہ خان جو بھی کہیں پاکستانی یہ دیکھے بغیر کہ انکی ٹویٹ کیا ہے، ان سے اپنی محبت اور احترام کا اظہار کرتے رہیں گے۔‘

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جمائمہ گولڈ سمتھ کو ان کی کسی سوشل میڈیا سرگرمی پر پاکستان واپس آنے یا سابق شوہر عمران خان سے متعلق مطالبات یا تجاویز کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ماضی میں بھی کئی مرتبہ ان سے ایسے تقاضے کیے جاتے رہے ہیں۔ پاکستان سے واپس گئے ہوئے جمائمہ کو طویل عرصہ ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود وہ پاکستان، پاکستانیوں اور ان سے جڑی اشیا کو وقتاً فوقتاً گفتگو کا موضوع بناتی رہی ہیں۔

Back to top button