گلوکارہ مومنہ مستحسن نور مقدم کے دفاع میں نکل آئیں

معروف گلوکارہ مومنہ مستحسن نے اسلام آباد میں قتل ہونے والی لڑکی نور مقدم کے کیس کی سماعت کے دوران قاتل کے وکیل کی جانب سے نور کے کردار پر سوال اٹھانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اکیسویں صدی ہے، دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی اور ہمارا معاشرہ ابھی تک غاروں کے زمانے میں پھنسا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ کیس کی سماعت کے دوران قاتل ظاہر جعفر کے وکیل نے مقتولہ نور کے والد کو زچ کرنے کے لئے یہ سوال کیا کہ آپ کی بیٹی ملزم کے گھر کس تعلق کے تحت رکی ہوئی تھی۔ وکیل کے اس تبصرے پر ردعمل دیتے ہوئے گلوکارہ مومنہ مستحسن نے پوچھا کہ کیا یہ واقعی 21 ویں صدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک بہت سارے تعلیم یافتہ لوگ اپنے بیٹوں کی وحشیانہ حرکتوں کو درست ثابت کرنے کے لیے خواتین کو بدنام کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

شلپا شیٹی فحاشی پھیلانے کے کیس سے 15 سال بعد بری

مومنہ مستحسن نے مائیکرو بلاگنگ وی سائٹ ٹوئٹر پر نور مقدم کیس بارے لکھا کہ ظاہر جعفر کے وکیل نے نور کے والد سے دورانِ سماعت پوچھاکہ آپ نے بطور سفیر اس ملک کے لیےخدمات انجام دیں، اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بتائیں کہ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مرد اور عورت کا بغیر رسمی تعلق کے تعلق رکھنا جائز ہے؟‘ اس سوال پر مومنہ مستحسن نے لکھا کہ ’اس سے زیادہ متعلقہ سوال وہ اپنے کلائنٹ کے والد سے پوچھ سکتے تھے کہ آپ تھراپی کا کاروبار چلاتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ آپ نے اپنے بیٹے کی ذہنی بیماری کو بہانہ بناتے ہوئے عدالت سے اس کی رہائی کی درخواست کی تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ اپنے آس پاس کسی ایسے مریض کو چھوڑ دینا محفوظ ہے؟‘

مومنہ مستحسن نے مزید لکھا کہ’یہ 21 ویں صدی ہے اور ابھی تک بہت سارے تعلیم یافتہ لوگ اپنے بیٹوں کی وحشیانہ حرکتوں کو درست ثابت کرنے اور خواتین کو بدنام کرنے میں لگے رہتے ہیں‘۔ اُنہوں نے مزید لکھا کہ ’ ایسے لوگوں کے بیٹے کتنی خواتین کو ہراساں کرتے ہیں، ان کے ساتھ ذہنی یا جسمانی طور پر بدسلوکی کرتے ہیں، اُن کا کبھی کوئی حساب کتاب نہیں کرتا‘۔

Back to top button