سور کے دل کی پیوند کاری پر اعتراض کرنے والے منافقین

معروف لکھاری اور کالم نگار یاسر پیرزادہ نے ایک مرتے ہوئے انسان کو سور کا دل لگا کر بچانے پر برہم ہونے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اِس آپریشن پر اتنی حیرانی کا اظہار کیوں کیا جا رہا ہے؟ میں کم از کم ڈیڑھ درجن انسانوں کو جانتا ہوں جو سراپا سور ہیں مگر بظاہر انسان لگتے ہیں۔ اُن کے دل تو کیا دماغ اور دیگر اعضا اور حرکتیں بھی مکروہ سمجھے جانے والے اسی جانور جیسی ہیں۔ لہذا اگر کسی شریف آدمی نے جان بچانے کے لیے خنزیر کا دل لگوا لیا ہے تو کون سی قیامت آگئی۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ اِس پورے معاملے میں ایک بات بے حد دلچسپ ہے کہ انسانی جسم نے کس سہولت کے ساتھ سور کے دل کو قبول کر لیا ہے۔ گویا تمام جانوروں میں سے سور ہی ملا جس کا ملاپ انسان کے ساتھ آسانی سے ممکن ہوا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اِس ’نیک ‘کام میں اہم ترین کردار ایک امریکی مسلمان ڈاکٹر نے ادا کیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ انسانی جان بچانے کی خاطر کیا یہ اقدام جائز قرار دیا جا سکتا ہے، کیا اِسکے بعد مریض نارمل انداز میں زندگی گزارے گا یا اُس میں بھی سور جیسی درندگی پیدا ہو جائے گی، سوال یہ بھی ہے کہ کیا دل محض گوشت کا لوتھڑا ہے یا واقعی جذبات و احساسات کا مرکز بھی ہے اور اگر ایسا ہے تو سور کے دل میں جو جذبات ابھرتے تھے کیا اب وہی جذبات اُسکے دل کی پیوندی کروانے والے انسان کے دل میں بھی جنم لیں گے؟
بقول یاسر ہیرزادہ، اِس بحث میں پڑنے سے پہلے ضروری ہے کہ سور سے جان چھڑا لی جائے کیونکہ یہ لفظ ایسی کراہت پیدا کر دیتا ہےکہ بحث کا رُخ کسی اور جانب مڑ جاتا ہے۔ مگر مچھ کی کھال کے جوتے ہم پہن سکتے ہیں، ریچھ کی کھال سے بنی ہوئی جیکٹ پہن کر اپنے بچے کو لپٹا سکتے ہیں، شیر کی کھال اپنے ڈرائنگ روم کی زینت بنا سکتے ہیں مگر سور کا نام سنتے ہی ہم کانوں کو ہاتھ لگا لیتے ہیں حالانکہ حرمت کے اعتبار سے یہ تمام جانور ایک ہی جیسے ہیں، سب ہی حرام ہیں۔ اسی لیے بہتر ہے کہ کچھ اور فرض کر لیا جائے۔
کروڑوں روپے مالیت کے 70 باز مر گئے یا بیچ دئیے گئے؟
سو فرض کرتے ہیں کہ کسی جوڑے کے ہاں دس سال بعد بڑی منتوں مرادوں سے بچہ پیدا ہوتا ہے ، والدین خوشی سے پاگل ہو جاتے ہیں مگر کچھ عرصے بعد پتا چلتا ہے کہ بچے کے دل میں سوراخ ہے اور اُس کی جان بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے کوئی نیا دل لگا دیا جائے۔ ہم یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ سائنسی ترقی کی وجہ سے ممکن ہے کہ بچے کو کسی شیر کے بچے کا دل لگا دیا جائے۔ والدین فوراً اِس آپریشن کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور بچے کو شیر کا دل لگا دیا جاتا ہے، بچے کی جان بچ جاتی ہے اور سب ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔ اِس صورت میں بھی کیا اسی کراہت کا اظہار کیا جائے گا جو ایک انسان کو سور کا دل لگانے پر کیا جا رہا ہے ؟ یا اُس بچے کے والدین فخریہ طور پر اسے گود میں اچھال کر کہتے پھریں گے کہ یہ تو شیر کا بچہ ہے۔
یاسر کا کہنا ہے کہ سچی بات یہ ہے کہ میرے پاس اِن سوالوں کے جواب نہیں۔ یہ تمام واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہے ہیں مگر ہم سے ہضم نہیں ہو رہے، اندازہ لگائیں کہ آج سے سو دو سال بعد سائنس نہ جانے ہمارے ساتھ کیا کرے گی۔ فی الحال تو ٹیکنالوجی اِس قابل نہیں ہوئی کہ انسان کے جنیاتی نظام میں وہ جوہری تبدیلی کر سکے جس کی مدد سے یقینی طور پر ذہین فطین بچے پیدا کیے جا سکیں لیکن اِس ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنس دانوں نے جینیاتی تدوین کو ضرور ممکن بنا دیا ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہیے کہ جینز میں خرابی کی وجہ سے جو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اب اُن بیماریوں کو جینز کی ایڈیٹنگ کی بدولت روکا جا سکتا ہے۔
فرض کریں کہ کسی انسان کو سرطان ہو جائے اور اُس کا علاج اِس جینیاتی تدوین کے عمل سے ہی ممکن ہو مگر علاج کرنے والا پرلے درجے کا ملحد ہو جس کے سینے میں سور کا دل ہو تو کیا ایک صالح مسلمان کو اُس سے علاج کروانا چاہئے ؟ کل کو اگر سائنس نے کسی نابینا کو بھیڑیے کی آنکھیں لگا دیں اور وہ انسان دیکھنے کے قابل ہو گیا تو کیااُس صورت میں بھی وہی دلائل کار آمد ہوں گے جو سور کے دل کے سلسلے میں دیے جا رہے ہیں ؟ اِن باتوں سے یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ میں سور کا دل لگوانے کے عمل کو درست سمجھ رہا ہوں، میں بھی پریشان ہوں کہ اگر سائنس اسی طرح دندناتی رہی، تو پھر کون سا علم الکلام اِن سوالوں کا جواب دے گا؟
