ایجنسی افسر کے عتاب کا شکار پولیس والا بے قصور نکلا

اسلام آباد کے ایک مساج سینٹر سے پکڑے جانے والے خفیہ ایجنسی کے افسر کے عتاب کا نشانہ بننے والے پولیس اہلکار کو بالآخر دو مہینے بعد ضمانت پر رہائی مل گئی ہے کیونکہ اس پر ایک غیر ملکی سفارتکار کو حساس دستاویزات فراہم کرنے کا الزام غلط ثابت ہوا ہے۔ پولیس اہلکار کو ایجنسی کے افسر نے مبینہ طور پر مساج سینٹر سے گرفتاری کا بدلہ لینے کے لیے پھنسوایا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد کے گولڑہ پولیس سٹیشن میں تعینات پولیس اہلکار پر جس سفارتکار کو خفیہ دستاویزات بیچنے کا الزام لگایا گیا تھا وہ ایک برس پہلے اپنی معیاد پوری کر کے پاکستان سے جا چکا ہے۔
26 دسمبر کو اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی کی عدالت نے خفیہ معلومات لیک کرنے کے الزام میں گرفتار وفاقی پولیس کے اے ایس آئی ظہور احمد کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرتے ہوئے اسے فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔ سماعت کے دوران ایف آئی اے کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ ملزم کو موقع پر رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا، ملزم کی گرفتاری کی ویڈیو موجود ہے۔
عدالتی استفسار پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ویڈیو کا فرانزیک نہیں کروایا گیا لیکن ملزم سے گرفتاری کے وقت 50 ہزار روپے برآمد ہوئے جس کی وضاحت دینے میں وہ ناکام ہوگیا تھا۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیاکہ کوئی ایسا ثبوت ہے کہ پیسے کہاں اور کس اے ٹی ایم سے نکالے گئے تھے، جس پر پراسیکیوٹر نے ثبوت کی موجودگی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے کوئی معلومات بذریعہ میسج شئیر نہیں کی، تاہم تمام معلومات ڈیوائس کے ذریعے شئیر ہوئی۔
ملزم کے وکیل عمران فیروز ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ گرفتاری کی ویڈیو میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں ہے، اگر گاڑی کسی غیر ملکی کی ہے تو ڈپلومیٹک انکلیو کی گیٹس کی ویڈیو یا گاڑیوں کے آنے جانے کا اندراج کیوں موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس غیر ملکی سفارت کار کو حساس دستاویزات بیچنے کا ذکر کیا جا رہا اسے ملک چھوڑے سال ہوچکا ہے۔
ان کہنا تھا کہ ملزم کے اصرار کے باوجود بھی سی ڈی آر اور سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج کی ریکارڈنگ منظر عام پر نہیں لائی جا رہی جبکہ جس لیٹر کا ذکر کیا جا رہا یہ عدالت میں موجود ہر پولیس اہلکار کے پاس ہے کیونکہ ان لیٹرز پر سیکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دینا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ ملزم کے وکیل نے کہا کہ ان لیٹرز کا کسی پولیس آفیسر کے پاس موجود ہونا معمول کی بات ہے، فرانزک سے تصدیق ہوئی ہےکہ کوئی معلومات شئیر نہیں کی گئی، ملزم پولیس ملازم اور ذمہ دار شہری ہے، لہذا ضمانت کا حقدار ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ایک لاکھ روپے مالیت مچلکوں کے عوض ضمانت بعد ازگرفتاری درخواست منظور کرنے کا حکم سنایا۔
منی لانڈرنگ:شہباز شریف، حمزہ شہباز کی ضمانت کیلئے درخواست دائر
یاد رہے ایف آئی نے غیرملکی سفارت کار کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزام میں اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا۔
ایف آئی اے نے بتایا تھا کہ ملزم گولڑا پولیس اسٹیشن میں بطور اے ایس آئی تعینات تھا اور ایجنسی اس کی نگرانی کر رہی تھی۔ اے ایس آئی سے 2 موبائل فون، بٹوا، 50 ہزار روپے سے بھرا ایک لفافہ اور یو ایس بیز برآمد کی گئیں جبکہ افسران کے وضاحت طلب کرنے پر ملزم انہیں مطمئن کرنے میں ناکام رہا۔ حکام کا کہنا تھا کہ اے ایس آئی نے انکشاف کیا تھا کہ اس نے غیر ملکی سفارتکار سے رقم لے کر اسے خفیہ دستاویزات فراہم کی تھیں۔
واضح رہے کہ گرفتار پولیس اہلکار اے ایس آئی ظہور احمد کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمے کا اندراج 13 دسمبر 2021 کو کیا گیا تھا جبکہ 14 دسمبر کو ملزم کو پہلی بار ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے انسداد دہشت گردی وِنگ کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق گولڑہ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر اے ایس آئی کو خفیہ دستاویزات یا معلومات ’غیر ملکی سفیر/ایجنٹ‘ کو دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ظہور احمد کے وکیل کا موقف تھا کہ کا اصل قصور یہ ہے کہ اس نے اسلام آباد کے ایک مساج سینٹر پر چھاپے کے دوران آئی ایس آئی کے ایک افسر نوید خان کو اسکے تین ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا۔ چنانچہ انتقام لینے کی خاطر نوید خان نے ظہور احمد کو ایک جھوٹے کیس میں گرفتار کروادیا۔
یاد رہے کہ ظہور احمد نے اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد ثانیہ حمید کے ہمراہ عوامی شکایت پر سیکٹر ای-الیون تھری میں جن مساج سنٹرز پر چھاپے مارے تھے ان میں سن شائن اور روز ایگزیکٹو نامی مساج سینٹر شامل تھے۔
