عمران کی سزا معطلی پر خاموشی، عمرانڈو کہاں غائب ہو گئے؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کا معاملہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ تحریکِ انصاف کے حامی جہاں اس فیصلے پر خوش ہیں تو وہیں بعض حلقے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس پر #ImranKhan اور #اٹک_جیل_پہنچو ٹاپ ٹرینڈ رہے۔
تاہم عمران خان کی سزا معطلی کے فیصلے کے بعد بھی کوئی بڑا عوامی رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا نہ ہی عمرانڈو اپنی ریڈ لائن قرار دئیے جانے والے عمران خان کا استقبال کرنے اٹک جیل پہنچے اور نہ ہی چوکوں اوف چوراہوں پر مٹھائیاں بانٹتے دکھائی دئیے۔ غرضیکہ جو چند ایک یوتھیے اٹک جیل کے باہر پہنچنے میں کامیاب ہوئے وہ آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے آہ وزاری کرتے نظر آ رہے ہیں۔ تاہم دوسری جانب سوشل میڈیا پر عدالتی فیصلے پر رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔
جمعیت علماء اسلام (ف) کے حافظ حمد اللہ نے سوال اُٹھایا کہ کیا عمران خان کی سزا معطلی بشریٰ بی بی کی ملاقاتوں کا نتیجہ تو نہیں؟سیاسی مخالفین کو این ار او کا طعنہ دینےوالا عمران خان تھوڑا سا اپنی اہلیہ کی طرف نظرڈال کر بھی دیکھےاب بشری بی بی کس کےلیے دوست اسلامی ملک سے این ار او مانگ رہی ہیں
سابق وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ نے ‘ایکس’ پر لکھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی تلاشی سے بہت بھاگے ہیں۔ لیکن ان کی چوریاں سب کے سامنے ہیں۔
سینئر صحافی حامد میر نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ کیا اب پی ٹی آئی کے وکلا جسٹس عامر فاروق سے معافی مانگیں گے؟
سینئر صحافی سلیم صافی نے لکھا کہ پی ٹی آئی والے اس جج کے فیصلے پر جشن منا رہے ہیں جنہیں وہ جانب دار قرار دے چکے ہیں۔جن کے خلاف درخواستیں دی تھیں اور سوشل میڈیا پر ان کی کردارکشی کی مہم چلائی تھی۔
خیال رہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور اُن کے وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اُنہیں عمران خان کے کیسز سے الگ کرنے کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔
تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے ‘ایکس’ پر لکھا کہ قیدی نمبر 804 کو رہا نہیں ہونے دیا جائے گا۔آسان لفظوں میں بتاؤں تو جیسےتوشہ خانہ کیس بنا،جیسےکیس چلا،جیسےفیصلہ آیا،جیسےسپریم کورٹ نےفیصلے کو اڑا کر رکھ دیااور جیسےہائیکورٹ نےفیصلےمیں غلطی مانی تو آج فیصلہ بریت کا آناچاہئیےتھا نہ کہ سزامعطلی کا،مزید آسان لفظوں میں،سزا معطلی کی بجائےبری کر کےنااہلی ختم کر دینی چاہئیےتھی۔۔
عمران خان کی سزا معطلی پر سابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس کا ‘گڈ ٹو سی یو’ اور ‘وشنگ یو گڈ لک’ کا پیغام اسلام آباد ہائی کورٹ تک پہنچ گیا۔انہوں نے کہا کہ نظامِ عدل کا یہ کردار تاریخ کے سیاہ باب میں لکھا جائے گا۔فیصلہ آنے سے پہلے ہی سب کو پتہ ہو کہ فیصلہ کیا ہوگا تو یہ نظام عدل کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ۔ ۔شہباز شریف نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ سے واضح پیغام مل جائے تو ماتحت عدالت یہ نہ کرے تو اور کیا کرے، نواز شریف کی سزا یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ جج لگایا گیا تھا، لاڈلے کو بچانے کے لیے خود چیف جسٹس مانیٹرنگ جج بن گئے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ نظامِ عدل کا یہ کردار تاریخ کے سیاہ باب میں لکھا جائے گا، ایک طرف جھکے ترازو اور انصاف کو مجروح کرتا نظام عدل قابلِ قبول نہیں،گھڑی بیچ کھانے والے کے سامنے قانون بے بس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چور اور ریاستی دہشت گرد کی سہولت کاری ہوگی تو ملک میں عام آدمی کو انصاف کہاں سے ملے گا، 9 مئی ہو، جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ ہو، پولیس پر پٹرول بم کی برسات ہو، سب معاف۔
تحریکِ انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے اپنے ردِعمل میں عدالتی فیصلے کو پاکستان میں نظامِ انصاف کے لیے سنہری دن قرار دیا۔اُن کا کہنا تھا کہ اب اگر عمران خان کو رہا کرنے کے بجائے کسی اور کیس میں گرفتار کیا گیا تو
اداکارہ صنم جنگ تنقید کی زد میں کیوں آ گئیں؟
یہ بدنیتی ہو گی۔
