آرمی چیف سے پنگا لینے پر عمران کی چھٹی ہو جائے گی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ایسی افواہیں گرم ہیں کہ شاید وزیراعظم عمران خان نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے متعلق ایک دو ماہ میں فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔ لیکن اگر انہوں نے ایسا کوئی مس ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو الٹا انکی اپنی چھٹی یقینی ہو جائے گی۔ انصار کہتے ہیں مجھے امید ہے کہ یہ خبریں غلط ہوں گی لیکن اگر حکومت واقعی ایسا سوچ رہی ہے یا وزیراعظم کو ایسا مشورہ دیا جارہا ہے تو یہ ایسی بڑی غلطی ہو گی جو حکومت کے جانے کا سبب بن سکتی ہے۔ میرا حکومت کو مشورہ ہے کہ فوج کے متعلق اس قسم کے فیصلوں کو اپنے وقت پر ہی کیا جائے۔ ایسے معاملات میں جلد بازی خطرناک ثابت ہو گی۔
بقول انصار عباسی، چند ماہ پہلے خان صاحب نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر پھڈا ڈال کر بھی غلطی کی جس وجہ سے وہ اب ویسے لاڈلے نہیں رہے جیسے ماضی میں ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب اگر خان صاحب نے وقت سے پہلے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا اعلان کرنے کی غلطی کر لی تو حکومت کا مزید چلنا ممکن نہیں رہے گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر پاکستان میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی افواہیں گرم ہیں تاکہ اس دوران صدارتی نظام کے حق میں عوامی رائے لے کر ضیا دور جیسا ایک فراڈ ریفرنڈم کروایا جا سکے۔
لیکن آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق ایسا گپ شپ کی حد تک تو ممکن ہے لیکن آئین پاکستان کی روشنی میں حکومت کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ ایمرجنسی لگانے کی کچھ سخت شرائط ہیں جنہیں پورا کرنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ہے۔ اگر صدر مملکت ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ایمرجنسی کے حق میں پارلیمنٹ یعنی قومی اسمبلی اور سینٹ سے قرارداد پاس کروانا لازم ہوگا ورنہ ایمرجنسی نہیں لگائی جا سکتی۔
جہاں تک صدارتی نظام کے لیے عوامی ریفرنڈم کرانے کی بات ہے تو یہ چورن بھی وہی بیچ رہے ہیں جن کو آئین و قانون کا علم نہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق آئین پاکستان میں ریفرنڈم کی شق ضرور موجود ہے لیکن پارلیمانی نظام حکومت ہمارے آئین کے اُس بنیادی ڈھانچے میں شامل ہے جسے محض ریفرنڈم کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق پاکستانی آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تو آئینی ترمیم کے طریق کار کے ذریعے یعنی قومی اسمبلی اور سینٹ کی دوتہائی اکثریت سے بھی تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے ہی نہیں۔ ملکی آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے آئین ساز اسمبلی کا قیام ضروری ہے جس کے لیے الیکشن میں آئین کے ڈھانچہ میں بنیادی تبدیلی کے سوال پر الیکشن لڑا جاتا ہے اور الیکشن جیتنے کی صورت میں آئین ساز اسمبلی آئین میں وہ تبدیلی کر سکتی جس کی بنیاد پر الیکشن لڑا گیا۔ آئین کے ڈھانچے اور بنیاد کے تحفظ کے لیے عدلیہ بھی محافظ کا کردار ادا کرتی ہے، اس لیے صدارتی نظام کی بات افواہوں کی حد تک تو اڑائی جا سکتی ہے لیکن آئینی طور پر یہ ناممکنات میں سے ہے۔
حریم شاہ اور شیخ رشید کی دوستی کی کس طرح ہوئی؟
انصار عباسی کہتے ہیں کہ شاید ملک میں ایمرجنسی لگانے اور صدارتی نظام لانے کی افواہیں اس لیے پھیلائی جا رہی ہیں کہ حکومت کے خاتمے کی باتیں زور پکڑ رہی ہیں۔ انہوں نے مریم نواز کا تازہ بیان یاد دلوایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کے جانے کا وقت آ چکا اور اب مہینوں یا ہفتوں کی نہیں بلکہ دنوں کی بات ہے۔ انصار پوچھتے ہیں کہ مریم ایسا کیوں کہہ رہی ہیں، اُن کے پاس کیا اطلاعات ہیں اُنہوں نے نہیں بتایا لیکن لگتا نہیں کہ جو وہ کہہ رہی ہیں ویسا ہونے والا ہے۔ دِنوں میں کیا، ہفتوں تک بھی حکومت کے جانے کے کوئی اشارے نظر نہیں آ رہے۔
بقول انصار اسکی وجہ یہ نہیں کہ حکومت بہت زبردست کام کر رہی ہے بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ عمران حکومت انتہائی نااہل ثابت ہو چکی اور اُس کی پرفارمنس اتنی خراب ہے کہ تحریک انصاف کے اپنے اراکین اسمبلی اور اتحادی اس سے ناخوش ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود حکومت کے فوری گھر جانے کا کوئی چانس نہیں۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے پاس ابھی کوئی ایسی حکمت عملی نہیں کہ وہ حکومت کو فوری چلتا کر دے۔ اس سلسلے میں اگر یہ کہا جائے کہ اپوزیشن اپنی نااہلی میں حکومت کو بھی مات دے رہی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ ایک طرف اگر اپوزیشن تقسیم ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتیں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی خود تو کوئی Initiative لینے کے لیے تیار نہیں، لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ سے امید لگائے بیٹھی ہیں کہ حکومت سے اختلاف ہونے پر وہ عمران خان کو فارغ کرے۔ دوسری جانب اس کام کے لیے اسٹیبلشمنٹ ابھی تک تیار نہیں۔
ایسے میں بقول انصار، یوں لگتا ہے کہ حالات ایسے ہی رہیں گے، حکومت بھی چلتی رہی گے، مہنگائی، معیشت کی خرابی، خراب طرز حکمرانی یہ سب بھی چلتا رہے گا۔ ہاں حکومت کے جانے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی انقلاب آجائے اور لوگ حکومت کے خاتمہ کے لیے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ جائیں۔ اپوزیشن کے لانگ مارچ اور دھرنوں سے حکومت کو کچھ نہیں ہونے والا۔ ہاں اگر خان صاحب نے آرمی چیف کو ہٹانے کی غلطی کی تو ان کا فوری دھڑن تختہ ہو جائےگا۔
