کیا 50 سالہ ریکارڈ توڑنے والی مہنگائی مزید بڑھنے والی ہے؟

ملکی حالات پہلی مرتبہ سری لنکا والی صورتحال کی منظر کشی کر رہے ہیں، معاشی بحران کے بعد ریکارڈ توڑ مہنگائی سے غریب تو غریب متوسط طبقہ کے لیے بھی معمولات زندگی چلانا مشکل ہو گیا ہے۔
خاوند محنت مزدوری کرتا ہے، حالات یہ ہیں کہ اسے کبھی کام ملتا ہے اور کبھی نہیں ملتا، سارا دن لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہوں اور مشکل سے مہینے کے پندرہ ہزار بنتے ہیں۔ان میں گھر کا کرایہ پورا کروں، بچوں کی فیسیں دوں یا راشن کا بندوبست کروں؟
ایسا کہنا ہے شازیہ بی بی کا جو لوگوں کے گھروں میں کام کر کے زندگی کا پہیہ چلانے کی کوشش کر رہی ہیں، پاکستان کو اس وقت پچھلے پچاس سال میں مہنگائی کی بلند ترین شرح کا سامنا ہے۔ پچھلے سال مارچ کے مقابلے میں اس سال کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں شہروں میں 47.1 فیصد جب کہ دیہاتوں میں 50.2 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ایک جانب معاشی تجزیہ کار پاکستان میں اس مہنگائی کی وجہ آئی ایم ایف معاہدے سمیت بہت سے عوامل کو قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف حکومتی اتحاد پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اور پی ٹی آئی اس ناقابل برداشت مہنگائی کے لیے ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرا رہی ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی کے اسباب کے حوالے سے ماہر معیشت ڈاکٹر اقدس افضل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی بھی امپورٹڈ ہے، سینئر صحافی اور معاشی تجزیہ کار شہباز رانا، ڈاکٹر اقدس کی اس بات سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا گرنا پاکستان میں مہنگائی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، لیکن وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس مہنگائی میں اندرونی عوامل کا بھی دخل ہے۔
شہباز رانا کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر تقریباً 56 فیصد گری ہے اور ظاہر بات ہے یہ مہنگائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بنا ہے، پاکستان کو آئی ایم ایف کے پروگرام کی وجہ سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا اور ساتھ ہی نئے ٹیکس بھی لگانے پڑے ہیں، ان تمام عوامل کی وجہ سے ہی مہنگائی پچھلے پچاس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہے۔اس وقت شازیہ بی بی سمیت کروڑوں پاکستانیوں کے ذہن میں ایک ہی سوال ہے کہ مہنگائی میں کمی کب ہوگی کہ وہ اپنے دسترخوان پر دو وقت کی روٹی پوری کر سکیں۔
دوسری طرف ڈاکٹر اقدس کے خیال میں ’دنیا میں اب مہنگائی میں کمی ہونا شروع ہو گئی ہے، امریکا اور یو کے میں مہنگائی اپنی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد نیچے آنا شروع ہو گئی ہے، ڈاکٹر اقدس کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں اس مہینے مہنگائی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد نیچے آنا شروع ہو جائے گی۔
اپوزیشن اور عوام کی زیادہ تر تعداد اس بڑھتی مہنگائی کے لیے پی ڈی ایم کی حکومت کو قصور وار ٹھہراتے ہیں، لیکن ڈاکٹر اقدس افضل ایسا نہیں سمجھتے۔اس حوالے سے ان کا کہنا ہے مہنگائی کنٹرول کرنا کسی بھی حکومت کے بس کی بات نہیں ہوتی جبکہ پاکستان میں تو مہنگائی ویسے ہی امپورٹڈ ہے۔
پاکستان اس وقت کوشش کر رہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ بحال ہو جائے اور اسے آئی ایم ایف کی رُکی ہوئی 1.2 بلین ڈالرز کی قسط مل جائے۔ پاکستان امید کر رہا ہے کہ اس معاہدے کی بحالی کے ساتھ ہی اسے دوست ممالک سے بھی سپورٹ حاصل ہو جائے گی تو پاکستان ڈیفالٹ کے ممکنہ خطرے سے نکل جائے گا۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کی بحالی کے بعد مہنگائی کی کیا صورتحال ہو گی؟
شہباز رانا یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی کی حالیہ لہر میں بڑا حصہ آئی ایم ایف معاہدے کا بھی ہے، پاکستان نے آئی ایم ایف کے معاہدے کی بحالی کے لیے ہی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور نئے ٹیکس لگائے ہیں اگر ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہتے ہیں اور حکومت جون کے بعد ایک اور آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس سے شارٹ ٹرم میں تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہی ہوگا۔
ماہر معیشت ڈاکٹر اقدس افضل کا اس معاملے میں نقطہ نظر مختلف ہے وہ سمجھتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی بحالی سے چیزیں مثبت سمت میں جانا شروع کردیں گی، آئی ایم ایف سے معاہدے کی بحالی اور اس کے نتیجے میں دوست ممالک سے آنے والی سپورٹ سے معیشت میں استحکام آئے گا۔ اس معاہدے کی بحالی سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ بھی دیکھنے کو ملے گا جس سے مہنگائی میں نمایاں کمی ہوگی۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی غیر یقینی صورتحال اور سٹہ بازی کی وجہ سے ہے، اس لیے آئی ایم ایف معاہدے کی بحالی کے بعد ہو سکتا ہے کہ ڈالر 250 روپے یا اس سے بھی کم پر آ جائے۔ جس سے مہنگائی میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔
شازیہ بی بی کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حکومت ناکام ہوگئی ہے یا مہنگائی باہر سے آ رہی ہے، اس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا ہے اور اسے اس کی فکر کھائے جا رہی ہے۔

کیا حسین عورتیں گدھی کے دودھ سے تیار کیا گیا صابن استعمال کرتی ہیں؟

Back to top button