کیا حسین عورتیں گدھی کے دودھ سے تیار کیا گیا صابن استعمال کرتی ہیں؟

بھارت کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کی بہو اور سیاستدان مانیکا گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ حسین عورتیں گدھی کے دودھ سے تیار کیا گیا صابن استعمال کرتی ہیں جو ان کے جسم کو ہمیشہ کے لئے خوبصورت،
تروتازہ اور جوان رکھتا ہے۔
مانیکا کہتی ہیں پتا نہیں کیوں عورتوں کے لئے بیوٹی پراڈکٹس بنانے والی کمپنیاں ابھی تک اس طرف متوجہ کیوں نہیں ہوئیں جبکہ گدھی یا بکری کے دودھ سے تیار کئے گئے صابن کی ایک ٹکیہ پر صرف پانچ سو سے ایک ہزار روپے تک لاگت آتی ہے اور یہ حسن کو صحیح معنوں میں نکھارتا ہے۔ مانیکا نے یہ مشورہ دراصل گدھوں کے استعمال میں کمی کی وجہ سے دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پہلے جو پھیری والے گدھوں پر چیزیں ڈھوتے تھے اب انھوں نے بھی موٹر سائیکل رکشہ کا استعمال شروع کر دیا ہے۔۔جس کی وجہ سے گدھے بیکار ہو گئے ہیں، چنانچہ کچھ لوگوں کو ایک انوکھا خیال سوجھا اور انھوں نے گدھی کے دودھ سے صابن بنانا شروع کیا جسے بے حد پذیرائی ملی۔
انھوں نے کہا کہ آج بھی جس قلوپطرہ کے حسن کی مثالیں دی جاتی ہیں وہ بھی گدھی کے دودھ سے بنا صابن استعمال کرتی تھیں۔ قلوپطرہ، تقریباً دو ہزار سال قبل مصر کی شہرہء آفاق ملکہ تھی جس کے دلکش اور ہوش رُبا حسن کے چرچے آج بھی ہوتے ہیں۔۔دنیا بھر میں اس کی لاتعداد پیینٹنگز اور مجسمے موجود ہیں۔
قلوپطرہ نے اپنی ذہانت، دانشمندی اور حسن و جمال سے اپنے وقت کے کئی طاقتور جرنیلوں کو اپنا اسیر بنا رکھا تھا، جن میں روم کے جولیس سیزر کا نام سرفہرست ہے۔ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دودھ اور شہد سے غسل کیا کرتی، کنیزیں اس کے جسم پر سمندری نمک اور بالائی سے مساج کرتیں حتیٰ کہ وہ چہرے کی خوبصورتی کے لئے بھی بالائی ہی کا استعمال کیا کرتی، جسے شہد اور انگور کی آمیزش سے تیار کیا جاتا۔اسی پس منظر میں مانیکا کا خیال ہے کہ قلوپطرہ بھی اپنے حسن بے مثال کے لئے گدھی کا دودھ استعمال کرتی تھی!!

جسٹس بندیال کا جسٹس کارنیلس سے موازنہ ظلم کیوں ہے؟

Back to top button