سیکیورٹی ادارے دہشتگردوں کو پٹا ڈالنے میں کامیاب کیسے ہوئے؟

ملک میں چند ہائی پروفائل دہشت گرد حملوں اور چار خودکش دھماکوں کے باوجود جون 2026 کے دوران ریاست مخالف تشدد اور سکیورٹی سے متعلق واقعات میں مجموعی طور پر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو ملک میں جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز کی مؤثر حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔ تازہ سکیورٹی اعداد و شمار کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 184 شدت پسندوں کو ہلاک کیا، تاہم دہشت گردی کے واقعات میں 52 شہری اور 26 سکیورٹی اہلکار بھی جان کی قربانی دے گئے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار ایک جانب دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائیوں کی کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ہائی پروفائل حملے اس بات کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں کہ امن و استحکام کے لیے مسلسل چوکسی اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔

اسلام آباد میں قائم معروف تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی تازہ رپورٹ کے مطابق جون کے دوران ملک بھر میں تشدد کے مختلف واقعات میں مجموعی طور پر 262 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 134 افراد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سب سے بڑی تعداد دہشت گردوں کی رہی۔ سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 184 دہشت گرد مارے گئے، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے شدت پسند عناصر کے خلاف مسلسل اور مؤثر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔دوسری جانب دہشت گردی کے واقعات میں 52 عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ وطن کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے فرائض انجام دیتے ہوئے 26 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں 63 عام شہری، 50 سکیورٹی اہلکار، حکومت کے حامی امن کمیٹیوں کے 18 ارکان اور تین جنگجو شامل ہیں۔

اگرچہ جون کے دوران دہشت گردی کے مجموعی واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی، تاہم ملک کو کئی ہائی پروفائل حملوں اور چار خودکش دھماکوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، جو اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں اب بھی اپنی موجودگی برقرار رکھنے اور سکیورٹی صورتحال کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق دہشت گردوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں سکیورٹی فورسز کی مؤثر انٹیلی جنس، بروقت کارروائیوں اور مربوط حکمت عملی کا نتیجہ ہیں، تاہم پائیدار امن کے لیے عسکری اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی، سیاسی اور معاشی استحکام کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔

جون 2026 کے اعداد و شمار اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ریاست مخالف تشدد کے رجحان میں مجموعی کمی ضرور آئی ہے، لیکن دہشت گردی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں کو مسلسل چوکنا رہنے اور انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں امن و استحکام کے سفر کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھایا جا سکے۔

Back to top button